جوامع الحکایات اور اختر شیرانی


جوامع الحکایات دراصل محمد عوفی کی فارسی تالیف ہے اس کا دل چسپ اردو ترجمہ اختر شیرانی نے کیا۔ اختر کی شاعری کا ایک زمانے میں شہرہ تھا۔ بدقسمتی سے آج اس کا کلام طاق نسیاں کی نذر ہے۔ مترنم اور غنائی شاعری کا مزا لینے والے اب خال خال نظر آتے ہیں۔ پردہ نشیں اور برقع پوش سلمیٰ اور ریحانہ کی محبت میں رومان کی سنسنی خیزی نہیں رہی۔ غزل میں محبوبہ تو کجا محبوب کا نام بھی نہیں لیا جاتا، صرف ضمیر اشارہ سے کام چلایا جاتا ہے۔

فرصت ملے تو اختر شیرانی کی شاعری سنیے اور سر دھنیے۔ یہاں اختر کے فن ترجمہ کی داد دینا مقصود ہے۔ عربی، فارسی روایت سے حکایت نویسی کی صنف اردو میں بھی آئی یعنی ناول اور افسانہ نگاری سے کہیں پہلے۔ یہ صنف حکمت اور دانائی کا خزینہ ہے جو موجودہ دور میں دفینہ بن چکی ہے۔ شیخ سعدی کی گلستاں حکایات کی اعلیٰ کتاب ہے۔ عربی ادب میں حکایات کے حوالے سے الجاحظ، ابن قطیبہ، المبرد اور علامہ ابن جوزی وغہیرہم کے نام شہرت رکھتے ہیں۔

جوامع الحکایات کی تین بڑی خوبیاں ہیں :
الف۔ حکایتوں کا زیادہ تر رنگ تاریخی ہے
ب۔ موضوعات کی کثرت پائی جاتی ہے
ج۔ حکایات کی تعداد دوسری کتابوں کے مقابلے میں زیادہ ہے (چار جلدیں، ایک سو ابواب اور 2113 حکایات )

محمد عوفی ملقب بہ سدید الدین ( معروف لقب نورالدین کو حافظ محمود شیرانی اور ڈاکٹر نظام الدین نے دلائل سے غلط ثابت کیا ہے ) ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت سے عوفی کہلائے۔ ان کا وطن مالوف بخارا ہے۔ ان کی پہلی تصنیف لباب الا لباب تھی۔ عوفی کی دو حکایات یہاں اہل نظر کے لیے پیش کی جاتی ہیں جن کا صاف ستھرا ترجمہ اردو شاعری کے امرالقیس جی ہاں اختر شیرانی کے قلم کی خیرات ہے۔

(حقیقی زندگی )
ایک فلسفی عالم نے کسی معاملے میں عمرولیث کو عرضی لکھی اور شروع میں معمول کے مطابق دعا دی کہ :
”تم سلامت رہو ہزار برس“
عمرولیث بہت بد مزاج اور ظالم شخص تھا۔ عرضی کی پشت پر لکھ دیا :

” سمجھ دار لوگ ناممکن باتیں نہیں لکھا کرتے۔ تم نے عرضی کے شروع میں لکھا ہے کہ تم سلامت رہو ہزار برس۔ میرا ہزار برس زندہ رہنا قطعی ناممکن ہے۔ باقی باتوں کا بھی اسی پر قیاس کرنا چاہیے۔ “

اس عالم نے یہ حکم پڑھا تو عمرولیث کے پاس پہنچا اور بولا: ”امیر اپنے حکم کا جواب سنیں۔ یقین رکھیے کہ انسان کی زندگی صرف جسمانی زندگی سے عبارت نہیں ہے بلکہ ان نیکیوں سے عبارت ہے جو انسان کے مرنے کے بعد سلامت رہتی ہیں۔ نیکی کے بغیر زندگی، زندگی نہیں موت سے بدتر چیز ہے۔ جیسا کہ حکیم سنائی نے لکھا ہے :

بمیر اے حکیم از چنیں زندگانی
کہ زیں زندگی تانمیری نمانی
عمرولیث کو یہ جواب بہت پسند آیا اور اس نے اس عالم کی ضرورت پوری کر دی۔ (جلد اول ص 105 )
…………………………………………………………………………
(جاہلوں کی صحبت )

ایک دن مشہور شاعر شہید کسی کتاب کے مطالعے میں محو تھا۔ اتنے میں ایک جاہل شخص آیا اور سلام کر کے بولا۔ تنہا بیٹھے ہو؟

شہید نے جواب دیا : ”تنہا تو اب ہوا ہوں کیوں کہ تمھاری وجہ سے کتاب بند کرنی پڑی۔“
(جلد دوم ص 315 ) ۔

جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے سحر میں گرفتار ہونے سے فرصت ملے تو اپنی مشرقی روایات، تہذیبی آثار سے مملو علم و دانش کے موتیوں سے اپنے ذہن و دل کو ضرور روشن کیجیے۔

Facebook Comments HS