حقیقی آزادی کی آڑ میں اقتدار کے لئے ساز باز
ضمنی انتخاب میں ’شاندار‘ کامیابی کے نشے سے چور تحریک انصاف کے قائد عمران خان، اب اقتدار کے حصول کے لئے براہ راست عسکری قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی وہ عوام کو اپنی طاقت کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے جلد انتخابات کو ملکی مسائل کا واحد حل قرار دیتے ہیں۔ عوام کے سر پر لیڈری اور فوجی قیادت سے اقتدار کی بھیک کا یہ کھیل کیسے ملک میں جمہوری نظام مستحکم کرسکے گا؟
آج میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے عمران خان نے ایک طرف درپردہ طاقت ور حلقوں بلکہ چار سینئر ترین فوجی جرنیلوں سے بات چیت کا بالواسطہ اعتراف کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا دعویٰ ہے کہ اس بار اگر انہیں کمزور حکومت ملی تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ دعویٰ ان کے اس ’اعتراف جرم‘ کے تناظر میں سامنے آیا ہے کہ ’ساڑھے تین سالہ حکومت کے دوران وہ برائے نام وزیر اعظم تھے، اصل اختیارات کسی اور کے پاس تھے‘ ۔ اب انہی ’اصل طاقت والوں‘ سے اقتدار حاصل کرنے کی ڈیل کی کوشش کرتے ہوئے، وہ یہ امید کر رہے ہیں کہ اس بار جب وہ حکومت سنبھالیں گے تو وہ پہلے جیسے ’بے اختیار‘ اور برائے نام وزیر اعظم نہیں ہوں گے بلکہ ان کے پاس حقیقی اختیارات ہونے چاہئیں۔
میڈیا سے ہونے والی گفتگو میں عمران خان نے وضاحت سے یہ بھی بتا دیا ہے کہ کہ وہ کس قسم کی حکمرانی کو حقیقی اور با اختیار سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت میں ’نیب اور عدالتیں ان کے اختیار میں نہیں تھیں‘ ۔ گویا وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں جب انہیں زمام اقتدار سونپی جائے گی تو نہ صرف ملک میں احتساب کا نظام براہ راست عمران خان کو تھما دیا جائے گا تاکہ وہ اپنے تمام سیاسی دشمنوں کے ساتھ نئے پرانے حساب برابر کرسکیں۔ بلکہ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ احتساب قوانین کے تحت اپنے مرضی کے لوگوں کو چور لٹیرے قرار دیتے ہوئے کوئی قانون اور اس پر عمل درآمد کروانے والا کوئی ادارہ ان کا ہاتھ نہ روک سکے۔ یہ کام چونکہ کوئی ایسی طاقت ہی کر سکتی ہے جسے ماورائے قانون و آئین اقدام کرنے کی شہرت حاصل رہی ہو، اسی لئے عمران خان ایک طرف عوام کو ’حقیقی آزادی‘ کا چورن فروخت کر رہے ہیں تو دوسری طرف عسکری قیادت سے ایک بار پھر ’خدمت گزاری‘ کا موقع دینے کی بھیک مانگ رہے ہیں۔
عمران خان کی سیاسی حکمت عملی میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ وہ سیاسی لیڈروں اور حکومت سے کسی قسم کا مکالمہ نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ اس طرح انہیں ملک کے آئینی انتظام کو تسلیم کرنا پڑے گا اور کسی حد تک ان حدود میں رہتے ہوئے کسی معاہدہ تک پہنچنا ہو گا جس میں جمہوری نظام کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کا ایک ٹھوس اور قابل تقلید مظاہرہ میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے 2006 میں طے کیے جانے والے میثاق جمہوریت میں کیا تھا۔ اگرچہ دونوں پارٹیوں کی طرف سے بعد کے سالوں میں اس معاہدے میں طے کیے گئے اصولوں سے انحراف کیا گیا لیکن یہ میثاق بہر حال قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، سیاسی نظام کی خود مختاری اور امور حکومت میں عسکری اداروں کی مداخلت کے طریقہ کو مسترد کرتا ہے۔
مستقبل میں پاکستان کی سیاسی قوتوں کے درمیان جب بھی کوئی سیاسی معاہدہ طے پائے گا تو میثاق جمہوریت میں طے کیے گئے اصولوں سے انحراف ممکن نہیں ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی چونکہ ابھی تک ملک کی بڑی سیاسی قوتیں ہیں اور اس میثاق کی براہ راست فریق ہیں، اس لئے یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں کسی ایسے سیاسی سمجھوتے کا علی الاعلان حصہ نہیں بنیں گی جس میں آئین کی مقررہ حدود کے مطابق ملک میں جمہوری نظام کے استحکام کے لئے کام کرنا ممکن نہ ہو۔ اس پس منظر میں جب عمران خان مخالف فریقین سے سیاسی مکالمہ سے انکار پر اصرار کرتے ہیں تو یہ جاننے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ ان کا حقیقی مقصد کیا ہے۔ وہ کسی ایسے معاہدے کے فریق نہیں بن سکتے جس میں عوام کی رائے کو اہمیت دی جائے اور ایسا نظام مستحکم ہو جہاں صرف ووٹ کے ذریعے ملک پر حکمرانی کرنے والے گروہ کا تعین ہو سکے۔ اگر عمران خان کو عوام پر بھروسا ہوتا یا وہ یہ یقین رکھتے کہ کسی بھی انتخاب میں انہیں واضح کامیابی حاصل ہوگی تو وہ کسی بھی قیمت پر طاقت کے ان مراکز سے رجوع کرنے کی کوشش نہ کرتے جنہوں نے ماضی میں انہیں اقتدار تو دلایا لیکن بیچ راستے میں ان کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے ہاتھ کھڑے کر دیے۔
اقتدار کی ہوس میں بدحواس عمران خان کے لئے ایسی کسی حدود کو ماننا ممکن نہیں ہے، جن کا تعین میثاق جمہوریت جیسی سیاسی دستاویز میں کیا گیا ہے جبکہ اب ملک کی کم و بیش باقی سب سیاسی قوتیں اس اصول پر متفق ہیں کہ ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے جس میکنزم پر بھی اتفاق کیا جائے اس میں عوام کے حق حکمرانی کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔ اس مرحلے پر اگر عمران خان بھی ان سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں تو ان کے لئے نہ تو یہ ’مطالبہ‘ کرنا ممکن ہو گا کہ سب ان کے حق میں سیاسی سرگرمیوں سے دست بردار ہوجائیں یا کوئی ایسا معاہدہ طے کیا جائے جس میں انتخابات کو محض نمائشی حیثیت حاصل ہو اور اقتدار پہلے سے طے کردہ کسی شخص کے حوالے کر دیا جائے جو ظاہر ہے عمران خان کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان سیاسی مکالمہ سے انکار کے لئے عذر تراشی کرتے ہیں اور مخالف سیاسی لیڈروں کو بدعنوان قرار دے کر ایسے عدالتی فیصلوں کی بھد اڑاتے ہیں جن میں عمران خان کے ایسے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کیا گیا ہے۔
عمران خان کی سیاست اور جد و جہد کا ایک ہی نکتہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی طریقے سے انہیں دوبارہ ملک کا وزیر اعظم بنا دیا جائے۔ یہ مقصد سیاسی مکالمہ یا قومی یک جہتی کے کسی مقصد سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کام کے لئے انہیں مسلسل انتشار کی ضرورت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ملک کی عسکری قیادت نے اگر ماضی میں انہیں ’امید کی کرن‘ مانتے ہوئے اقتدار تک پہنچایا تھا تو اب وہ اس خوف کی وجہ سے ان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوجائیں کہ بصورت دیگر عمران خان ملکی نظام کو تہ و بالا کردے گا۔ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد وہ درحقیقت یہی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے وہ عسکری لیڈروں سے تو مل رہے ہیں لیکن سیاسی مفاہمت کے کسی منصوبہ کو ماننے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ عسکری قیادت کو دباؤ میں لانے کے لئے کبھی وہ فوج کو ’نیوٹرلز‘ کا طعنہ دے کر اسے اپنی سیاسی جنگ میں فریق بننے کی دعوت دیتے ہیں اور کبھی ملک میں مناسب حد تک شفاف انتخابات منعقد کروانے والے چیف الیکشن سکندر سلطان راجہ کو ’جانبدار‘ قرار دے کر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کی کارروائی کرتے ہیں۔ انتخابات کو ملکی بحران کا حل بتانے والے عمران خان درحقیقت انتخابات کا راستہ مسدود کر کے کسی ایسے انتظام کی راہ ہموار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جہاں نہ کوئی قانون ہو اور نہ ہی کوئی جمہوری ادارہ فعال ہو بلکہ فرد واحد کو بے پناہ اختیارات حاصل ہوجائیں۔
یہ عمران خان کی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ عوامی مقبولیت کو اقتدار پانے کے لئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے لیکن وہ عوامی حاکمیت کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ اصول ماننے والے کے لئے ملکی آئین اور جمہوری نظام کو بھی ماننا ضروری ہو گا۔ جبکہ عمران خان کسی شارٹ کٹ سے ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ شارٹ کٹ انہی ’نیوٹرلز‘ کے ذریعے طے ہو سکتا ہے جن پر کبھی طعنہ زنی کی جاتی ہے اور کبھی منت سماجت سے آئندہ ’اچھا بچہ‘ بنے رہنے کا یقین دلایا جاتا ہے۔ عمران خان کو اقتدار کے نام پر پرwٹوکول چاہیے اور ایسے سب سیاسی عناصر سے نجات چاہیے جو ان کا راستہ کاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہیں وزیر اعظم کے طور پر ’با اختیار‘ بننے کی خواہش نہیں ہے۔ بلکہ محض یہ ضمانت درکار ہے کہ ان سے اقتدار چھینا نہیں جائے گا۔ اسی لئے وہ سیاسی مخالفین کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اگر وہ حقیقی اختیار کے طلب گار ہوتے تو ان کے پاس یہ اختیار مانگنے کا کوئی جواز بھی ہونا چاہیے تھا۔ سیاسی لیڈر اور پارٹی کے پاس اس کا منشور یا پروگرام درحقیقت اقتدار کی خواہش کرنے کا جواز ہوتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہوتا ہے کہ اقتدار میں آ کر اس سیاسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہوں۔ عمران خان کے پاس کوئی ایسا پروگرام نہیں ہے۔ ان کے پاس دھوکہ ہے، جھوٹے نعرے ہیں اور دوست و دشمن کو اس بات پر قائل کرنے کی صلاحیت ہے کہ عوام کو مسلسل جھوٹ کے سہارے کسی بھی سمت ہانکا جاسکتا ہے۔ ایسے شخص کو اختیار نہیں اقتدار کی شان و شوکت چاہیے۔ عمران خان وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر، لیموزین کی سواری اور توشہ خانہ کے تحائف کو بھول نہیں پار ہے۔ اسی لئے انہیں اقتدار چاہیے۔
عمران خان اور ان کے وہ تمام حامی خود فریبی کا شکار ہیں جو ضمنی انتخابی تماشا کے بعد یہ سمجھنے لگے ہیں کہ تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت بام عروج پر ہے اور کسی بھی انتخاب میں تمام برج الٹ سکتی ہے۔ اگر یہ سچ ہوتا تو عمران خان لانگ مارچ کے ذریعے نیا بحران پیدا کرنے کی بجائے ملک میں سکون و اطمینان کی فضا پیدا کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے تاکہ جلد یا بدیر جب بھی انتخاب ہوں، وہ پورے اعتماد سے ان میں حصہ لے کر جائز طور سے ملک کا اقتدار سنبھال سکیں۔ عمران خان جائز طریقے سے اقتدار نہیں چاہتے۔ کیوں کہ ایسے لیڈر کو جائز طریقے سے اقتدار سے علیحدہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
عمران خان درپردہ سودے بازی سے اقتدار چاہتے ہیں۔ اس بار ان کی خواہش ہے کہ یہ سودے بازی ساڑھے تین برس سے زیادہ مدت کے لئے ہو۔ عوام کی حمایت پر یقین رکھنے والا کوئی خود دار لیڈر ایسی ساز باز کیوں کرے گا؟


