کیا ہم درست فیصلے کرتے ہیں؟ (مکمل کالم)


پہلی مثال:انگریزی کا ایک با رعب لفظ ہے ’فرانزک‘ ۔ اس کا مطلب ہے کسی جرم کی تفتیش کے سلسلے میں سائنسی طریقہ کار اور تکنیک کو استعمال کرنا، جب پولیس انگلیوں کے نشانات یا ڈی این اے کے تجزیے کی مدد سے کسی کو شناخت کرتی ہے تو گویا وہ فرانزک کرتی ہے۔ عدالتوں میں ’فرانزک‘ کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ثبوتوں کو ناقابل تردید تصور کیا جاتا ہے اور شاید ایسا ہی ہونا چاہیے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ فرانزک جیسے ٹھوس سائنسی عمل میں بھی غلطی کا امکان موجود ہے، مثلاً جب موقع واردات سے انگلیوں کے نشانات حاصل کیے جاتے ہیں اور انہیں مشتبہ شخص کی انگلیوں کے نشانوں سے ملایا جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ کبھی کبھار ’ماہرین‘ کی رائے آپس میں نہیں ملتی بلکہ اگر ان ماہرین کوایک ہی شخص کے انگلیوں کے نشانات مختلف اوقات میں دکھائے جائیں تو اس امر کا بھی قوی امکان ہے کہ یہ متضاد رائے دیں گے۔ فرانزک سائنس کے دیگر شعبوں، حتیٰ کہ ڈی این اے کے تجزیوں میں بھی، ماہرین کی منقسم رائے کے شواہد نوٹ کیے گئے ہیں۔

دوسری مثال:فرض کریں کہ ایک اسپتال میں سو مریض ہیں جنہیں مختلف قسم کی بیماریاں لاحق ہیں، اگر ان سو مریضوں کو دس ڈاکٹر مختلف اوقات میں دیکھنے آئیں تو غالب امکان یہی ہے کہ ان تمام ڈاکٹرز کی تشخیص اور مرض کے علاج کا طریقہ کار دوسرے ڈاکٹر سے مختلف ہو گا، خاص طور سے نفسیاتی عوارض میں مبتلا لوگوں کے بارے میں تو ڈاکٹروں کی رائے ایک دوسرے سے متضاد بھی ہو سکتی ہے کیونکہ نفسیاتی امراض کے معاملے میں ڈاکٹر کا فیصلہ عموماً موضوعی نوعیت کا ہوتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جن معاملات میں صرف حقائق کی پڑتال کرنی ہو، وہاں بھی اکثر ڈاکٹر متفق نہیں ہو پاتے جیسے کہ ایکسرے رپورٹ پڑھنا، بعض اوقات ایسے سادے معاملے میں بھی ڈاکٹروں کی رائے ایک دوسرے سے نہیں ملتی ہے۔

تیسری مثال:کچھ ماہرین ایسے ہوتے ہیں جن کا کام پیش گوئی کرنا ہوتا ہے، عموماً کاروباری کمپنیاں ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کرتی ہیں، یہ ماہرین اعداد و شمار کی روشنی اور مختلف تجزیوں کی مدد سے بتاتے ہیں کہ آئندہ سال کمپنی کی بکری کیا ہوگی، لوگ کس قسم کی مصنوعات خریدیں گے، کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے امکانات کتنے ہیں، وغیرہ۔ اسی طرح یہ ماہرین مختلف ملکوں کی معاشی حالت کا تجزیہ بھی کر کے بتاتے رہتے ہیں کہ آئندہ برس کس ملک کی بیروزگاری کی شرح کیا ہوگی۔ بظاہر یہ تمام پیش گوئیاں ٹھوس حقائق کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور یہ حقائق ہر ماہر کے سامنے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں مگر اکثر اوقات ایک ماہر کی پیش گوئی دوسرے سے بالکل مختلف نکلتی ہے اور کبھی کبھار تو ان کے اپنے تخمینے آپس میں نہیں ملتے۔ مثلاً سافٹ ویئر بنانے والے ایک گروپ کو جب دو الگ الگ دنوں میں ایک ہی کام کی تکمیل کے وقت کا اندازہ لگانے کے لیے کہا گیا تو ان کے پیش کردہ اوقات میں 71 فیصد فرق نکلا، گویا ایک جیسے حقائق جب ایک ہی گروہ کو دو مختلف اوقات میں پیش کیے گئے تو ان کے اپنے تخمینے میں ہی فرق آ گیا۔

یہ مثالیں نوبل انعام یافتہ مصنف ڈینئیل کاہنمین نے اپنی نئی کتاب ’Noise‘ میں دی ہیں اور بتایا ہے کہ کیسے اہم ترین معاملات میں بھی فیصلہ سازی کے وقت فاش غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ ڈینئیل کاہنمین میرے پسندیدہ لکھاریوں میں سے ایک ہیں، ان کی کتاب Thinking Fast and Slowایسی کتاب ہے جسے انسانی نفسیات کی بائبل کہا جا سکتا ہے، یہ وہ کتاب ہے جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں Noise قدرے ضخیم اور خشک کتاب ہے، اس میں ڈینئیل کاہنمین نے ان ’تعصبات‘ کی نشاندہی کی ہے جو فیصلہ سازی کے وقت ہم پر غالب آ جاتے ہیں، پڑھے لکھے اور دانشمند افراد بھی اس سے مبرا نہیں بلکہ ایسے افراد کی غلطیاں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ فیصلہ سازی میں کن عوامل کو نظر انداز کر رہے ہیں اور کن عوامل سے متاثر ہو رہے ہیں، ان عوامل کو کاہنمین نے Noiseیعنی ’شور‘ کا نام دیا ہے۔ کاہنمین کا کہنا ہے کہ انسانی فیصلے اس شور کے زیر اثر ہوتے ہیں، اگر ہم درست فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس شور سے جان چھڑانی ہوگی۔ کاہنمین کہتا ہے کہ شور کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ جب کوئی شخص امریکہ میں پناہ کی درخواست جمع کرواتا ہے تو ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے اس نے کسی لاٹری کا ٹکٹ خریدا ہو، اس ضمن میں کی گئی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ جب پناہ کی درخواستیں دو مختلف ججوں کو تفویض کی گئیں تو ایک جج نے پانچ فیصد درخواستیں منظور کیں جبکہ دوسرے جج نے 88 فیصد حالانکہ درخواستوں کی نوعیت ایک جیسی تھی!

1973 میں مارون فرینکل نامی ایک شخص نے امریکہ کے نظام عدل میں انہی عوامل کی نشاندہی کی اور بتایا کہ کیسے اس نظام میں بینک لوٹنے والے ایک مجرم کو صفر سے پچیس سال قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مجرم کی سزا کچھ بھی ہو سکتی ہے اور اس کا دار و مدار مختلف عوامل (یعنی شور) پر ہے جن میں جج صاحب کا موڈ بھی شامل ہے۔ فرینکل نے کوئی اعداد و شمار تو پیش نہیں کیے البتہ اس نے چند ٹھوس مثالوں سے ثابت کیا کہ امریکہ کے نظام عدم میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مثلاً اس نے بتایا کہ ایک مقدمے میں دو لوگوں پر ایک جیسا الزام تھا، انہوں نے اٹھاون اور پینتیس ڈالر کے جعلی چیک کیش کروائے تھے، دونوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، ایک شخص کو پندرہ سال کی قید کی سزا ہوئی جبکہ دوسرے کو صرف تیس دن۔ فرینکل نے اس مسئلے کا حل بھی تجویز کیا اور بتایا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں جج صاحبان کی صوابدید ختم کر کے ایک ’چیک لسٹ‘ بنا دینی چاہیے جس کے مطابق وہ سزا کا تعین کریں۔ فرینکل نے ایک بہت دلچسپ تحقیق بھی کی، اس نے امریکہ کے مختلف اضلاع سے پچاس ججوں کو بلایا اور انہیں چند فرضی مقدمات میں فیصلہ لکھنے کے لیے کہا، اس تحقیق کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ کسی ایک جج کی رائے دوسرے سے نہیں ملتی، کسی جج نے ہیروئن کے کاروبار میں ملوث شخص کو ایک سال کی قید کی سزا سنائی تو کسی نے دس سال کی، کسی نے بینک لوٹنے کی سزا پانچ سال سنائی تو کسی نے اٹھارہ سال۔ فرینکل کی ان تحقیقات کے نتیجے میں بالآخر امریکہ میں ایک کمیشن بنایا گیا جس نے ججوں کے لیے کچھ رہنما اصول طے کر دیے، یہ اصول دس ہزار مقدمات کی چھان بین کے بعد طے کیے گئے، ان اصولوں کے تحت ججوں کو ایک قسم کے ’گریڈنگ سسٹم‘ کا پابند کیا گیا جس کے مطابق انہیں جرم کی سنگینی اور مجرم کا ماضی کا ریکارڈ دیکھ نمبر لگانے تھے اور پھر اس کے اندر رہتے ہوئے سزا سنانی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیشن نے ان رہنما اصولوں کو لاگو کرنے کے بعد ایک تحقیق بھی کی جس سے پتا چلا کہ ان اصولوں کے تحت مختلف نوعیت کے جرائم میں سزا پانے والے مجرمان کی سزاؤں میں تفاوت خاصا گھٹ گیا ہے جو ان اصولوں کے لاگو ہونے سے پہلے کہیں زیادہ تھا۔ لیکن پھر اس کمیشن کے بنائے ہوئے اصولوں پر تنقید شروع ہو گئی، زیادہ تر تنقید جج صاحبان کی جانب سے کی گئی جن کا اعتراض یہ تھا کہ ہر مقدمے کی نوعیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، اس قسم کے اعتراضات کی بنیاد پر کمیشن کے بنائے ہوئے اصولوں کو چیلنج کیا گیا اور بالآخر 2005 میں امریکی سپریم کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر ان اصولوں کو ختم کر کے ان کی حیثیت صرف ’مشاورتی‘ کردی۔ بعد ازاں جب امریکی ججوں سے ایک سروے کے ذریعے پوچھا گیا تو 75 فیصد نے سکھ کا سانس لیا کہ وہ اب ان اصولوں کے پابند نہیں رہے۔

ڈینئیل کاہنمین کی یہ کتاب ہر اس شخص کو پڑھنی چاہیے جو اہم نوعیت کی فیصلہ سازی کا اختیار رکھتا ہے، یہ ممکن نہیں کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کے سوچنے کا انداز تبدیل نہ ہو، اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر آپ کو مزید کوئی کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں، پھر آپ ٹک ٹاک بنائیں اور عیش کریں۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada