مکینوں کو ترستے محل ۔ کیسا لوما (ٹورونٹو) ، باؤلٹ کیسل (ہزار جزائر) اور عمر حیات محل (چنیوٹ)۔


محلہ کے سینئرز کا گروپ صرف یہ جانتے کہ سینئرز ڈے پہ ایک قابل دید پرانا محل کیسا لوما دیکھنے کے لئے خصوصی رعایتی گروپ ٹکٹ ہے ایک بہت بڑی اور شاندار نظر آتی پرانے یورپین گاتھک طرز تعمیر والی قلعہ نما عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ اور پھر چار گھنٹے اسے اندر سے دیکھتے اور باغات میں گھومتے لگے۔ ٹورنٹو کے قابل دید مقامات میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز، جنگ عظیم اول کے دور میں پورے کینیڈا کی سب سے بڑی رہائشی عمارت کا درجہ رکھنے والا پینسٹھ ہزار مربع فٹ کا بنا یہ محل گھومتے سیاحوں کی ٹولیوں میں شامل ہوتے کمروں اور راہداریاں اور ان میں داستان سناتی لگی تختیاں اس محل اور اس کے مکینوں کے عروج و زوال کی ایک غم انگیز داستاں سامنے رکھتی جا رہی تھیں۔

ایک بڑے بزنس مین کے گھر اٹھارہ سو انسٹھ میں پیدا ہونے والا ذہین و ہونہار بچہ ہنری پیلٹ سترہ سال کی عمر میں باپ کے ساتھ شامل ہو چکا تھا اور اگلے تیس بتیس سال میں ریلوے، کوبالٹ کی کانوں، پراپرٹی بزنس کے ساتھ اپنے پن بجلی کے منصوبوں سے نیاگرا اور ٹورنٹو کو روشن کر کے ٹراموے کی سہولت قائم کر ملک بھر کے امراء کی فہرست میں نام پا چکا تھا۔ ساتھ ہی جوانی میں ہی ملکہ کی رائفل رجمنٹ میں بطور رائفل مین بھرتی ہو اپنی لیاقت سے میجر کے عہدے کے بعد رجمنٹ کے اعزازی کرنل اور پھر اعزازی میجر جنرل کا رینک حاصل کرتے ملکہ سے نائٹ ہڈ ( سر کا خطاب ) انیس سو پانچ میں لے چکا تھا۔ اور یورپ کے گاتھک سٹائل کا اپنا شوق ٹورنٹو کے وسط میں ایک عالیشان محل کی بنیاد غالباً پچیس ایکڑ کے لگ بھگ زمین، جس کے درمیان سے سڑک بھی گزر رہی تھی، انیس سو گیارہ میں رکھ چکا تھا۔

روزانہ دو سو نوے کام کرتے کاریگروں اور اطراف عالم سے اعلی ذوق کا بلڈنگ میٹیریل لگا تعمیر ہونے والے اس اٹھانوے کمروں والے پانچ منزلہ محل کے سڑک کے نیچے سے گزرتی کشادہ سرنگ کے ذریعے سڑک پار حصہ میں وسیع اصطبل، بگھی کوچز وغیرہ کے گیراج کے ساتھ کثیرالمقاصد دوسری بلڈنگ بنتے ہی وہاں رہائش رکھ چکا تھا۔ اور انیس سو چودہ میں محل کی ابھی تین منزلیں مکمل ہوئیں کہ یہیں منتقل ہو گیا۔ اور محل محفلوں پارٹیوں، رونقوں اور روشنیوں سے جگمگانے لگا۔ اس وقت تک ساڑھے تین ملین ڈالر کی رقم سے بننے والے اس محل کے کمروں میں انٹر کام، بجلی کی تمام سہولتیں اعلی واش روم، لفٹ، خفیہ کیمرے، ویکیوم کلینر سے لے وہ کچھ لگا دیکھا جو شاید آج سو سال بعد کی تعمیرات میں بھی نہ تھا۔ اس کی بیوی میری سوشل ورک میں گرل گائڈ کی پہلی چیف کمشنر بن کئی ایوارڈ لے چکی تھی۔

جنگ عظیم اول شروع ہوتے ہی بلڈنگ میٹیریل کی عدم دستیابی اور جنگی حالات نے اوپر کی دو منزلوں کی اندرونی تزئین، تکمیل اور آرائش روکنے پر مجبور کر دیا اور سو سال بعد بھی ہم اندر صرف لکڑی کا سٹرکچر بنے ویسا ہی نامکمل چھوڑا دیکھ دل گرفتہ اور غمگین ہو چکے تھے۔ جنگ کی کساد بازاری رنگ دکھانے لگی نیاگرا بجلی گھر کچھ مقدمات کی زد میں آ گیا کچھ کاروبار ٹھپ ہو کے رہ گئے اور کچھ میں نقصان۔ تین سال بعد جنگ کی وجہ سے مختلف ٹیکسوں کے اضافہ کے ساتھ بنکوں کے مطالبات نے قرضوں کا نا قابل برداشت بوجھ لاد دیا۔ تمام قیمتی آرائشی سامان بیچنے کے باوجود ٹیکسوں اور بقایا جات کا بوجھ بڑھتا دیکھ انیس سو تئیس میں یہ خاندان ٹورنٹو کے شمال میں اپنے فارم ہاؤس منتقل ہو گیا۔ اور ساتھ آنے والا سارا سامان کل تین ویگن میں لوڈ تھا۔

بیوی، میری پیلٹ، جس کی محبت اور فرمائش پہ یہ محل بنا تھا، یہ صدمہ برداشت نہ کر سکتے شدید بیمار ہو چکی تھی اور انیس سو چوبیس اپریل میں چل بسی۔ دل برداشتہ ہوتے اور معاملات سنبھالنے کا کوئی رستہ نہ نکلتے دیکھ انیس سو چوبیس میں یہ محل سٹی کونسل کے حوالہ کر دیا۔ بنکوں اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے کو محل کے سامان کو نیلامی پہ لگایا گیا لاکھوں کی اشیاء کوڑیوں کے دام بکیں۔ مثلاً ایک ہفتہ چلنے والے اس نیلام کے پہلے دن بکنے والی اشیاء میں پچھتر ہزار ڈالر کا خریدا میوزک آرگن چالیس ڈالر کا گیا اور واش روم میں لگی وزن والی مشین دس ڈالر میں۔ انتہائی مہنگے قالین لوگ دروازے پہ پڑے چھوٹے پاؤں صاف کرنے والے میٹ کے مول لے جا رہے تھے اور کینیڈا کا سب سے بڑا اور شاندار محل ویران پڑا جائے عبرت بن چکا تھا۔

کئی سال ویران رہتے مکینوں کو ترستا اجڑتا یہ محل سٹی کے لئے سفید ہاتھی بن چکا تھا۔ چند سال بعد بطور ہوٹل اور امیروں کی تفریح گاہ بن کے چلا۔ کامیابی نہ ملی۔ انیس سو سینتیس میں رفاہی تنظیم نے انتظام سنبھالا اور سوائے جنگ عظیم دوم کے چند سالوں کے، جب اسے جنگی خفیہ سامان بنانے کی تحقیقی اور پیداواری ادارے کے استعمال کے لئے برائے مرمت بند بتایا گیا، اب تک کہ یہ مختلف ہاتھ تبدیل کرتا اور مرمت و تزئین کراتا بطور سیاحتی سیر گاہ ہی تفریح گاہ بنا ہے۔ پندرہ سال قبل اندر سے دیکھا تھا۔ اب شاید اس میں بہت اچھے ریسٹورنٹ کا بھی اضافہ ہو چکا۔

سر ہنری پیلٹ اس کے بعد عزلت نشین سے ہو رہ گئے۔ تاہم انیس سو انتالیس میں جب ان کا انتقال ہوا تو شہر کی سڑکیں ان کا جنازہ دیکھنے اور شہر کے لئے خدمات کو خراج عقیدت کے لئے لوگوں سے بھری تھیں۔ انہوں نے کبھی پھر کیسا لوما کا رخ نہیں کیا اور تمام دن بھر پور رونق لئے رہنے والا یہ محل رات کو شاید آج بھی اپنے مکینوں کو ترستا ہے۔

ٹھیک چار سال قبل اکتوبر کے ان ہی دنوں کینیڈا کے دارالحکومت آٹووا جاتے کچھ دیر گینا نوک نام کے چھوٹے سے قصبے میں رکے تو اونٹاریو کی گریٹ لیکس جھیل کو مشرقی ساحل سے ملاتے دریائے لارنس میں یہاں میلوں چوڑے ہوتے دریا میں واقع ہزار جزائر کی کشش ہمیں وہیں روک اڑھائی تین گھنٹے کے دریائی سیر کے چھوٹے سے کروز شپ میں بٹھا چکی تھی۔ چند میل کی لمبائی میں تقریباً ایک ہزار چھوٹے بڑے، ایک مرلہ سے کم ٹاپو سے لے کئی ایکڑ تک محیط جزائر کا نام ہی تھاؤزنڈ آئی لینڈز ہے۔ ہریالی، درختوں، جنگلوں، چٹانوں، اور کہیں کہیں ان کے چشموں آبشاروں سے نکل دریا میں پہنچتے پانی کی دھاریاں عجب بہار دیتی ہیں۔ اسی دریا کے وسط سے یو ایس اور کینیڈا کی سرحد گزرتی ہے۔ کہیں مرلہ مرلہ کے چند فٹ الگ ایک ہی مالک کے دو جزیروں کو ملانے والے لکڑی کے پل وسط میں ایک طرف کینیڈا کا اور دوسری طرف یو ایس اے کا جھنڈا ہے تو کہیں کسی جزیرہ کے درمیان۔

تیز چلتی خوشگوار ہوا کے لطف کے ساتھ گائڈ کی لاؤڈ سپیکر سے نکلتی اونچی آواز میں اہم مقامات اور ان کی دلچسپیوں سے آگاہ کرتا جا رہا تھا اور ہم سارے انہیں دیکھنے کبھی عرشے کی طرف بھاگتے کبھی نیچے اگلے کونے کبھی پچھلی طرف۔ اچانک دور سے پتھر سے بنی کسی قلعہ نما عمارت اور اس کے ٹاور ابھرتے نمایاں ہونے لگے اور میری توجہ اس طرف ٹک کے رہ گئی۔ میں گائڈ کے لاؤڈ سپیکر کی طرف پوری توجہ سے اس کی بیان کردہ دل چیرنے والی کہانی سن خود بھی افسردہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہ ہارٹ آئی لینڈ پہ پتھر سے تعمیر شدہ باؤلٹ کیسل اور اس کے ٹاور تھے۔ اور سٹیمر بہت دھیمی رفتار سے اس جزیرہ کے گرد چکر پورا کر رہا تھا کہ سیاح ہر نظر آنے والا پہلو دیکھ لیں۔

نیو یارک شہر کے ہوٹل والڈورف آسٹوریا کا بزنس ٹائیکون جارج سی باؤلٹ الیگزنڈریا بے کے اس علاقے میں واقع اپنے فارم والے جزیرہ میں اپنی چہیتی بیگم لوئس کے ساتھ گرما گزارتا۔ اپنی محبوب بیوی کے لئے اس نے ایک اس کے شایان محبت کی نشانی دینے نزدیکی قدرتی خوش کن فرحت بخش نظاروں، چٹانوں سے مزین جزیرہ جو ہارٹ آئی لینڈ کا نام پا گیا ایک شاندار سے قلعہ نما محل کی منصوبہ بندی کی۔ سن انیس سو میں ہر شعبۂ تعمیر کے ماہرین اور کارندوں اور مزدوروں سمیت کوئی تین سو افراد اس کی تعمیر پر جٹ چکے تھے اور دنیا کے ہر ملک سے نفیس ترین اشیاء اور میٹیریل لایا جانے لگا۔ اور ایک سو بیس کمروں پہ مشتمل چھ منزلہ یہ محل جس کے نیچے سرنگیں بھی تھیں، اپنا بجلی گھر بھی تھا، اٹالین سٹائل باغیچے بھی تھے اور اونچے ٹاورز جن ایک بچوں کا پلے ہاؤس بھی تھا۔ منصوبہ میں کوئی چیز چھوڑی گئی تھی نہ کوئی کسر رہنے دی گئی تھی، تعمیر کے مراحل طے کرنے لگا۔ جنوری انیس سو چار تک جب کہ ابھی ڈھانچہ ہی بنا تھا انہونی نے آ لیا۔ نگران تعمیر کو باؤلٹ کا ٹیلیگرام موصول ہوا کہ تعمیر کا کام فوراً، جہاں ہے جیسے ہے، روک دیا جائے۔ باؤلٹ کی جان سے پیاری محبوب بیوی لوئیس باؤلٹ اچانک وفات پا چکی تھی اور باؤلٹ کا ٹوٹا ہوا دل اس کے بغیر اس محل کی طرف آنا نہ سوچ سکتا تھا نہ برداشت کر سکتا تھا۔ جارج سی باؤلٹ نے مرتے دم تک اس جزیرہ کی طرف رخ بھی نہ کیا۔

تہتر سال تک اس چھ منزلہ انتہائی شاندار گراں قیمت محل کا ڈھانچہ بالکل ویران، لا وارث، بغیر دیکھ بھال، خالی، بھوت بنگلہ بنے دریا کے سیلابوں، برف کے طوفانوں، آندھیوں بارشوں سخت سرد موسموں کے تھپیڑے سہتا برباد ہوتا رہا۔ نیو یارک سٹیٹ کی حدود میں آنے والے اس قلعہ کو انیس سو ستتر میں تھاؤزنڈ آئی لینڈ برج اتھارٹی نے اپنی گود میں لے لیا کروڑ ہا ڈالر خرچ کرتے اس کی اندرونی اور بیرونی تزئین کی اور ان ہزار جزائر کی سیر کو آنے والے سیاحوں کے لئے دلچسپی کا خصوصی مقام بناتے پارٹیوں اور شادیوں اور دعوتوں کا مرکز بھی بنا دیا۔ دن بھر یہاں کے لئے خصوصی کروز چلتے ہیں۔ ڈیڑھ دو گھنٹوں میں گھوم پھر فارغ ہو سکتے ہیں۔ رات کو قیام کا بندوبست غالباً نہیں ہے۔ موسم شدید ہوتے ہی سرما کے لئے شاید بند کر دیا جاتا ہے۔ دن بھر اجنبیوں کے نخرے سہتا یہ محل۔ باؤلٹ کی محبت کی یہ یادگار باؤلٹ کی ممتاز کا تاج محل رات کو اور سردیوں بھر اپنے شاہ جہاں اور ممتاز کے لئے سسکتا رہنے کے لئے قائم چلا آ رہا ہے۔

ہجرت کے بعد دوبارہ اپنے آبائی شہر چنیوٹ آ بسے۔ دوسری جماعت میں ہوتے بھی مطالعہ کے شوق میں جنوں پریوں شہزادوں وغیرہ کے سیر و تفریح اور شکار کے قصوں کوہ قاف کے اسرار جاننے کے فسانوں اور کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے اور واسکوڈے گاما کے سفروں نے ہمیں بھی نئی نئی جگہوں کی دریافت کا شوق ڈال دیا۔ چنانچہ کوئی دو تین دوست کبھی گلے میں رسی ڈال بغل کے نیچے سے گزارتے لگام کی شکل بناتے گھوڑے تانگے بنتے بناتے اور کبھی باریک سریے کے چکر یا سائیکل کے بے کار پہیے کو کنڈی بنے راڈ سے چلاتے ( گھانگا کہلاتا) چنیوٹ کی گلیوں کی دریافت پہ نکلنے دوڑتے۔ ایک بہت شاندار بڑی کئی منزلہ عمارت کے آگے سے گزرنا ہماری منزل کا اکثر پڑاؤ ہوتا۔ اور ہم اسے حیرانی سے تکتے۔

دو تین سال بعد ایک دن والدہ کے ساتھ وہاں سے گزر ہوا تو ہماری والدہ نے دلچسپی دیکھتے اور موجودہ یتیم خانہ کو اندر سے دکھاتے بتایا کہ یہ عمر حیات کا محل ہے اور اس کی کہانی سناتے یہ بتاتے کہ گلزار کی والدہ سے کلکتہ ملاقات رہی جب وہ گلزار کی شادی کا واقعہ کے ولیمہ کے روز گلزار کا اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے کسی کے پکڑائے پان کھانے سے حالت غیر ہونے اور بعد میں غسل خانہ میں مردہ پائے جانے کی کہانی سنا رہی تھیں تو ہماری آنکھوں سے ویسے ہی آنسو جاری تھے جیسے پھول شہزادی کی کہانی (بار بار پڑھنے کے باوجود ہر بار ) نکلا کرتے۔

چنیوٹ شیخ برادری کا شیخ عمر حیات جوانی ہی میں کلکتہ جا انتہائی کامیاب بزنس مین اور دولت مند ہو چکا تھا، اس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف اپنی پسند سے شادی کردہ بہت ہی خوبصورت اور محبوب بیوی فاطمہ ( میری دو بڑی بہنوں کو بھی ان کو دیکھنا یاد تھا ) کے لئے ایک یادگار بننے والے شاندار مکان کی تعمیر چنیوٹ میں انیس سو تئیس میں شروع کی۔ چودہ مرلہ زمین پر ( چنیوٹ کی اصل پرانی آبادی میں بہت کم مکان اتنے یا زیادہ رقبہ پہ ہیں ) چنیوٹ کے مشہور لکڑی کے فن تعمیر کے ساتھ مغلیہ طرز تعمیر کا ملغوبہ بہت زیادہ اور اعلی پایہ ماہرین برما سے آئی لکڑی اور جاپان کے بنے رنگین شیشہ کی ٹکڑیوں سے مزین کھڑکیاں، روشن دان، ریلنگ، بالکونیاں اور ان تمام سہولیات کے ممکن اعلی معیار کے میٹیریل سے مزین اور نقش و نگار اور کٹائی کے کام کیے گئے اس محل نما مگر چنیوٹ کے روایتی نقشہ ( کوٹھا پراہ کہلاتا ) کے قریب رہتا یہ محل انیس سو پینتیس میں تکمیل کو پہنچا مگر تقدیر کے رنگ نرالے تھے کہ عمر حیات تکمیل سے دو ماہ پہلے ہی دنیا چھوڑ چکا تھا اور اب فاطمہ اس محل میں محبوب خاوند کی یاد اور اس کی یادگار اپنے جوان ہوتے بیٹے کے ساتھ اپنے ارمان بہو لا کے پورے کرنے کی تیاری میں تھی اور یہ پانچ منزلہ اس وقت کے چار لاکھ روپے انیس سو تیس تک اور اس کے بعد مزید خطیر لاگت سے بننے والا مکان اپنی شان و شوکت کی وجہ سے عمر حیات کے محل کا نام پا چکا تھا۔ انیس سو اڑتیس میں گلزار کی شادی کی تقریبات اپنی پوری شان اور دھوم دھڑکے سے ہوئیں رواج کے مطابق شہر کے ہر چوک اور محلہ میں ڈھول والا اعلانچی مخصوص طریقہ سے ڈھول پیٹتے رکتا اور ”سنو یارو ہوکا“ ( دوستو ضروری اعلان سنو ) کہتے ہر خاص و عام کو ولیمہ کی دعوت میں شرکت کے لئے مدعو کرتا پھر رہا تھا۔

نصیب کے اپنے رنگ ہوتے ہیں۔ ولیمہ کی شام دلہا غسل خانہ گیا اور پھر باہر نہ نکلا۔ اس کی لاش غسل خانہ میں پڑی ملی۔ میری والدہ اور بڑی بہن ( بڑی بہن شادی کے بعد انیس سو تینتیس سے محلہ بڈھیانہ میں مقیم تھیں۔ مجھ سے بائیس برس بڑی ) کے مطابق عام طور یہی کہانی مشہور ہوئی کہ اس شام دوستوں کے ساتھ بیٹھے کوئی نامعلوم جوان اسے پان دے گیا تھا۔ انٹر نیٹ پہ موجود کہانیوں میں کوئلے کی گیس کا غسل خانہ میں ہونے کے وجۂ وفات ہونے کے علاوہ زہر خورانی کی کہانی بھی موجود ہے۔ ماں کی محبت نے بیٹے کی تدفین اسی محل کے اندر کی، پھر بھی صدمہ برداشت نہ کرتی جلد ہی وفات پا گئی۔ اس کی قبر اس کے بیٹے کے ساتھ بنائی گئی۔

قبرستان بن چکے محل کے باقی مکیں خوف اور نحوست کے احساس سے محل چھوڑ گئے اور یہ محل بھی مکینوں سے خالی ہو گیا۔ انیس سو چالیس میں شہر کے بڑوں نے اسے ایک یتیم خانہ میں بدل دیا اور وہ بھی انیس سو پچاس میں اس کی مہنگی دیکھ بھال سے تنگ آ یتیم خانہ کہیں اور لے گئے۔ میں نے اندر اسی دور میں والدہ کے ساتھ جا دیکھا تھا۔ اس وقت یہ اپنی پوری مگر معدوم ہوتی ہوئی شان کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے بعد مدتوں لاوارث کھڑا موسم کے تھپیڑوں اور چوروں کی دست و برد میں رہتے شاید میونسپل کمیٹی نے تزئین کرا لائیبریری میں بدل دیا۔ اگر تزئین یہی ہے جو منسلکہ فوٹو میں نظر آ رہی ہے تو اس سے زیادہ بد ذوقی اور ظلم کا مظاہرہ اس یتیم عمارت سے کوئی نہیں ہو سکتا۔ مناسب دیکھ بھال سے لاپرواہی کے نتیجے میں شکست و ریخت نے شاید اوپر کی دو منزلوں کو گرانے کا بہانہ مہیا کر دیا۔ اور آج یہ عمارت کھنڈر بنی اپنی اصلی شکل و صورت اور اپنے اصل مکینوں کے لئے آنسو بہاتی نظر آتی ہے۔ حالانکہ محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ چنیوٹ کے لکڑی کی صنعت کے ایک بہت اچھا سیاحتی مرکز بنا سکتے تھے۔ اور اگر کینیڈا میں یہ محل ہوتا تو اسے دیکھنے سینکڑوں ہزاروں سیاح آتے۔

گزشتہ اگست کے پہلے ہفتہ استنبول میں چند روز گزار واپس آتے، ہوائی جہاز میں اونگھتے، یہ چند روز یاد آنا شروع ہوئے۔ وہاں سیاحت کرتے گائیڈز کے منہ سے بار بار ایک ہی قسم کے فقرے سننے کو ملتے۔ یہ فلاں دور کے فلاں قیصر، بادشاہ، شہنشاہ، حاکم، سلطان یا خلیفہ یا ان میں سے کسی وزیر وغیرہ کا یا اس کی ملکہ کا محل یا حرم یا حمام تھا اور اب یہ فلاں ہوٹل، بار، نائٹ کلب، شادی ہال، سرکاری دفتر، یونیورسٹی، کالج، تربیت گاہ یا فوجی استعمال کی عمارت بن چکا۔ کے فقرے ذہن میں کچھ زمانہ کے رنگ دکھاتے یہاں تک پہنچے کہ ”سری گان سرائے“ کا طغرا سجائے جس محل نما ہوٹل کے آبنائے باسفورس کے کنارے بنی محل نما عمارت کے ہال میں ہفتہ قبل میں اپنے نواسے کی شادی کی تقریب منا رہا تھا وہ عظیم سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ عبدالعزیز کی رہائش گاہ کا دربار ہال تھا اور سمندر کنارے اگلے روز ولیمہ کے لئے سجی کھلی جگہ اس کی شام کی محفل سجانے کی بیٹھک تھی۔ اور سرائے کی پہلی عمارت کا کمرہ جہاں دلہا دلہن نے شب عروسی گزاری تھی، وہ اس کے والد خلیفہ عبدالمجید کے محل کے رہائشی کمروں میں سے ایک تھا، تب سرائے۔

سرائے۔ سرائے کا لفظ رگ احساس میں ایک عجیب نشتر چبھو گیا۔ اور یہ نشتر اپنی زندگی میں دیکھے مصر کے شاہ فاروق، ایران کے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی، عراق کے صدر صدام اور لیبیا کے کرنل قذافی کے محلوں کی تصویریں نگاہوں میں پھراتے اچانک ان تین محلوں کی طرف لے گیا۔ مگر حیرت ایک دوسرے سے سینکڑوں ہزاروں میل دور ان تین محلوں، کیسا لوما، باؤلٹ کیسل اور عمر حیات محل، کی ایک دوسرے سے قسمت کے مشابہت ہونے۔ ایک ہی زمانے کے ہونے اور مکینوں کے ملتے جلتے انجام اور ان چاؤ سے بنائے گئے محلوں کی اپنے مکینوں کے لئے ترسنے میں بہت سے پہلوؤں سے مشابہت سے ہوئی۔

تب بچپن میں چنیوٹ میں ہی ٹورنگ ٹاکیز میں دیکھی اپنی زندگی کی دوسری فلم ”میلہ“ میں میلے میں گھومتے گاتے کردار کی شکل سامنے آتی رفیع کی آواز میں ذہن میں گونج رہی تھی

ہوں گی وہی بہاریں۔ الفت کی یادگاریں
بگڑے گی اور بنے گی۔ دنیا یہی رہے گی
ہوں گے یہی جھمیلے۔ یہ زندگی کے میلے۔ یہ زندگی کے میلے
بس ہم نہ ہوں گے

 

Facebook Comments HS