اب 2023 کا میدان اتنا آسان نہیں


16 اکتوبر 2022 کے ضمنی انتخابات میں عمران احمد نیازی نے عوام کو ٹیسٹر لگانے میں خزانے کے کروڑوں روپے الیکشن میں جھونک دیے ہیں۔ نیازی صاحب کی ضد کا معیار بھی منفرد رکھتے ہیں اپنی ضد کی تکمیل میں اپنے ہی عوام کو بھول جاتے ہیں وہ سمجھتے گراؤنڈ میں کھڑے ہیں۔ تمام اوورز خود ہی کرنے کا عزم کر رکھا چاہے تمام رولز کا قلع قمع ہو جائے انھیں نہیں بھولنا چاہیے ایما پر اب نیوٹرل ہو چکا ہے۔ انھوں نے ضمنی انتخاب میں بھی تمام نشستوں سے جیتنے کا عزم کیا ہوا تھا جس میں وہ 6 پر کامیابی حاصل کر سکے۔

ان کے اس فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے والے اپنے آپ کو اعلیٰ ذہن کے مالک سمجھتے ہیں۔ اور ان کو مہاتما سمجھ رکھا ہے وہ عشق نیازی میں چور ان انتخاب کی جیت کو بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے بھولے پنچھیو۔ یہ تو نیازی نے پاکستانی عوام کی پشت پر انجکشن لگایا ہے اور ابھی ایک اور بھی لگنا ہے۔ جو ریاست مدینہ کے دعویدار نے آپ سے عہد کر رکھا ہے۔ کیا۔ اس نے چھ سیٹیں جیت کر کیا ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ مقبول ترین لیڈر ہے۔ لیکن اس لیڈ پر غور فرمانے کی اشد ضرورت ہے۔ جو 8 حلقوں میں 72615 ووٹ بنتی ہے۔ اگر وہ کم از کم 3 لاکھ کی برتری حاصل کرتے تو 2023 کے الیکشن میں وہ پھر وزیراعظم تھے۔ اب وقت تبدیل ہو گیا ہے اور مزید ہوتا جائے گا۔ اب ان آڈیوز لیکس سے امریکی خط کا جھوٹ پلندا بھی سامنے آ چکا ہے۔ اس لیے نئے انکشافات سے پہلے انتخابات کروانے کی وہ سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔

آپ اندازہ لگائیں شاہ محمود قریشی صاحب کی بیٹی کو تقریباً بیس ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی ہے عمران نیازی خود کراچی سے دس ہزار ووٹوں سے ہارے ہیں اور یہاں سے ہی پیپلز پارٹی نے واپسی کا سفر شروع کیا ہے اب وہ نئے عزم و ہمت کے ساتھ میدان میں آنے کے قابل ہو گئے ہے۔ میرا خیال تھا کہ اتنے بڑے جلسوں اور جلوسوں اور عوامی آرا اور ماہرین کی آرا کے مطابق عمران احمد نیازی کی مقبولیت کا گراف بہت اوپر تھا۔ اس لیے وہ ضمنی انتخابات خیال تھا کہ اتنی مقبولیت کے بعد ہر حلقے سے ان کی برتری پچاس سے ساٹھ ہزار ووٹوں تک ہو گی۔ لیکن نتائج اس کے برعکس آئے ہیں عوام کی رائے حوصلہ افزا ہے۔ ایک سیٹ پر ہی بتیس ہزار اور باقی پانچ سیٹوں پر دس سے بیس ہزار کی برتری حاصل کی ہے۔ بڑھکیں اور بھنگڑے تو چار دن کافی دیکھنے کو ملیں گے۔ لیکن اب گراف وہ نہیں رہا جو موافق اور مخالف سمجھ رہے تھے۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے امید اور کے لیے 2023 کے جنرل الیکشن میں یہ برتری بر قرار رکھنا بہت مشکل ہو گا۔ وفاداریاں تبدیل کرانے والے بھی متحرک ہوں گے کیونکہ اس وقت تک نون لیگ کے لیڈرز بھی اپنے کیسز کی خوشیاں منا کر فارغ ہو چکے ہوں گے۔ ایون فیلڈ کے فلیٹس بھی چند سالوں کے لیے خالی ہو جائیں گے۔ باؤ جی اپنے رنگین پینٹ کوٹوں کے ساتھ پاکستان کی سر زمین کو اپنے قدم مبارک سے نوازیں گے۔

زرداری صاحب کو بھی پنجاب نے ویلکم کیا ہے۔ اس کے وجہ سے بہت اہم تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر پی پی کی جیت نے میرے ضلع اوکاڑہ کے مہاتما سابق پی پی رہنما میاں منظور احمد خاں وٹو کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ وہ دس سالوں سے آزاد بیٹھے تھے اور وقتی فوائد کے لیے بیٹی اور بیٹے کو تحریک انصاف میں چھوڑ رکھا تھا اب شاید وہ مشکل میں نظر آئیں کیونکہ ان کا سیاسی مخالف میاں معین خان وٹو بھول جانے کی بیماری میں شاید بچپن سے مبتلا ہے ان کی حمایت میں کوئی بات کر رہا ہو تو پوچھتے ہیں یہ کون ہے؟ پھر ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہ ہمارا فدائی سپورٹر ہے وہ کہتے ہیں اچھا اچھا۔ پھر نیم باز آنکھیں بند کر لیتے ہیں اس لیے میاں منظور احمد خاں وٹو کے لیے اسمبلی میں پہنچنے کا سنہری موقع ہے اور وسطی پنجاب میں ابھی تک پی پی کا میدان بھی خالی پڑا ہے وہ دوبارہ اہم وزارت حاصل کر کے تحصیل دیپالپور کو مزید بنجر کر سکتے ہیں اور اپنے چہیتوں کو اہم نوکریاں دلا سکتے ہیں۔

اوکاڑہ میں تحریک انصاف شاید 2023 میں بھی ایک صوبائی اسمبلی کی ہی ایک سیٹ جیت پائے۔ اس لیے میاں منظور کا پی پی کی طرف آنے کا زیادہ امکان ہے۔

عمران احمد نیازی میدان جتنا آسان سمجھ رہے تھے ان نتائج نے انھیں واضح کر دیا ہے کہ اب وہ اتنا آسان نہیں رہا۔ جب لیڈر خود اتنے زور لگائے بار بار ایک ہی تقریر سے عمرانیوں کے جذبات بھڑکائے لیکن نتیجہ اس کے برعکس آئے تو ووٹرز کو بھی تسلیم کر لینا چاہیے بیانیہ صرف ملک پاکستان میں نفرتوں کی آگ بھڑکانے اور ملک میں عدم استحکام کے لیے ہے۔ اب اندازہ کریں پانچ سیٹوں پر دوبارہ ضمنی انتخابات ہوں گے کروڑوں روپے پھر ان میں جھونک کر عوام کو مزید مقروض کرنے میں تحریک انصاف اپنا حصہ پھر ڈالے گی۔ لیکن عمرانیو، نوازیو، زرداریو، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس ملک پاکستان نے قیامت تک قائم رہنا ہے۔ چاہے جتنے نیازیے، نوازیے، زرداریے، اس کو لوٹتے رہیں آخر خاک ان کی ہی اڑے گی۔

Facebook Comments HS