مولاجٹ: دی لیجینڈ پاکستانی ”پلپ فکشن“ ہے


مولا جٹ پاکستان کی پلپ فکشن ہے اور بلال لاشاری پاکستان کا کوئنٹن ٹارنٹینو۔

مولا جٹ ڈیفینڈرز خوش ہو جائیں۔ مولا جٹ اوفینڈرز، یہ ایک طنز تھا۔ باقی صوبوں کی عوام اپنی علاقائی غیر مناسبت کے مطابق کنفیوزڈ رہیں کہ وہ کیا رائے دیں۔ بھائی ہر بات پر رائے دینا ضروری نہیں ہوتی۔ فضول کام ہے میری طرح کے فارغ لوگوں کا۔

مگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو کیا ہوا اگر ایک فلم بن گئی جس کو لوگ پسند کر رہے ہیں اور ماضی میں بھی کیا۔ یہ الگ بات ہے بلکہ کیا ستم ہے کہ جن لوگوں نے اس کو ماضی میں ہٹ کروایا، اس طبقے کا ایک فیصد بھی اس نئی فلم کو نہیں دے سکتا۔ اتنے میں ان غریبوں کا مہینے کا آٹا آتا ہے جتنا اس کا ٹکٹ ہے۔ کیپیٹلزم بھی ہے، کلاسزم بھی۔ عوامی سینما بھی ختم ہو چکا ہے۔ اصلی مولا جٹ فلم کا برانڈ کھاڈی اور چائے خانہ کی طرح کمرشلائز کر دیا گیا ہے مڈل اور اپر مڈل کلاس کے لیے۔ اب چاہے آپ فلم کو اچھا جانیں یا برا۔

جہاں تک مواد کی بات ہے، یہ وائیلنس، گنڈاسے اور کلہاڑیوں پر اعتراض کرنے والے بھائیو اور ان کی بہنو۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ ایک بہت بڑا متنازعہ دعوی ہے کہ میڈیا اور گیمز میں دکھائے جانے والا وائیلنس معاشرے میں وائیلنس پروموٹ کرتا ہے۔ زیادہ تر تحقیق اس بات کی تردید کرتی ہے۔ دوسری بات، ذرا معلوم کریں اس آرگومینٹ کو پیش کرنے والے خود گیم آف تھرونز اور مارول یونیورس کے فین ہونے۔ حقائق سے دور یا فزکس کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے یہ فرمائیں کہ ساوتھ انڈیا کا سینما جو کامیاب فلمیں جیسے آر آر آر یا باہوبلی وغیرہ بناتے ہیں جو دنیا بھر میں بشمول چین اربوں ڈالر کا بزنس کرتی ہیں، ان میں کتنی فزکس ہوتی ہے یا پھر مارول اور ڈی سی یونیورس میں؟

دیکھیں فلم دیکھیں اس کو انجوائے کریں، کھچ نہ ڈالیں۔ سینما کو پاپولرائز کریں اور غریب طبقے تک بھی پہنچائیں۔ یہاں سینما توڑ توڑ کر پلازے بنا دیے گئے۔ غریب کی انٹرٹینمنٹ ثقافتی اور مذہبی وجوہات پیش کر کے چھین لی گئی۔ پنجابی اور پشتون پاپولر اور پرولتاری سینما کو روند دیا گیا مشرف کے دور میں۔ تھیٹر کو بھی۔ اداکاروں اور اداکاراؤں کو سڑک پر لا کھڑا کیا گیا بلکہ کئی کو مار دیا گیا یا جان کی دھمکیاں دی گئیں۔

ایبٹ آباد میں نوے کی دہائی میں تین سینما تھے۔ ایک انگریزی فلموں کا، ایک اردو اور پنجابی فلموں کا اور ایک پشتو فلموں کا۔ دو ہزار دس تک ایک بھی نہیں بچا۔ اب وہاں پلازے ہیں۔ باقی ملک میں بھی یہی حال ہے۔ پنڈی میں سیروز وغیرہ ہوتے تھے۔ اخباروں میں بلیک اینڈ وائٹ پوسٹر ہوتے تھے جو ہم شوق سے دیکھتے تھے۔ کبھی کچھ متزلزل نہیں ہوا، نہ دماغ نہ جسم کا کوئی اور عضو اور نہ ہی ان میں بسائے جانے والے محبوب خیالات۔

اور اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ یہ والا سینما پاکستان میں سینما کو ریوائیو کرے گا تو یہ بھی آپ کی خام خیالی ہے۔ فیملی انٹرٹینمنٹ کے نام پر آپ نے ایلیٹ اور اپر مڈل کلاس کا سینما پروڈیوس کر دیا ہے۔ جیسے پی ٹی آئی والے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیاست کو پاپولرائز کر دیا ہے۔ پاکستانی سینما تبھی ریوائیو ہو گا جب معاشرتی اصطلاحات، رجعت پسندی اور کلاسزم کے مسائل حل ہوں گے ورنہ یہ خود کو دھوکہ دینے والی بات ہی ہے۔

چین میں ایک چینی نے ہم دو تین دوستوں سے پوچھا پاکستان میں آپ لوگ تفریح کے لیے کیا کرتے ہو؟ میں سوچ میں پڑ گیا۔ ان دنوں ہمارے علاقے میں ایک میوزک کنسرٹ ہونا تھا جسے لوکل مذہبی تنظیموں نے دھونس دھاندلی سے کینسل کروا دیا۔ میں نے سوچا شاید سیاحت مگر پھر مری، سوات، ناران کاغان کے مسائل، سیاحوں اور لوکلز کی غنڈہ گردیاں، کچھ اپنے تجربات اور یہ بھی یاد آیا کہ یہ بھی ایک لوئر مڈل کلاس اور اس سے نیچے والے ستر فیصد سے زاہد آبادی والے طبقے برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اسی سوچ میں گم تھا کہ ساتھ والا دوست بولا، شادی۔ ہماری تفریح شادیاں ہیں۔ سارا مسئلہ ہی حل کر کے رکھ دیا ظالم نے۔

آپ فلم دیکھیں اور پرانی مولاجٹ پر کیا گیا مشرف علی فاروقی صاحب کا مضمون پڑھ کر لطف اندوز ہوں جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مولا جٹ کیسے ایک فوٹ فیٹش کلٹ کی سازش تھی۔ اب یہ نئی والی پتا نہیں کس کی سازش ہے، ہم تو چین میں بیٹھ کر اس فلم کو نہیں دیکھ سکتے۔ یہاں ہمیں کٹی کٹائی ہالی ووڈ کی چند فلمیں ہی دستیاب ہیں وہ بھی چائینیز سب ٹائٹلز کے ساتھ یا پھر کہیں ادھر ادھر سے سرقہ بازی کرنی پڑتی ہے۔ اس پر بھی ایک عظیم دانشور نے میری کلاس لی تھی کہ تم چور ہو، لوگوں کا لیجیٹ کریڈٹ چوری کرتے ہو۔ میں کیا پائی ہن بندہ فلم وی نہ ویکھے (بھائی بندہ اب فلم بھی نہ دیکھے)؟ اگر میرے نہ دیکھنے سے اسے فائدہ ہوتا تو میں نہیں دیکھتا۔

یہ جو ایسے مواقع پر فلم کریٹیک نکل آتے ہیں، بہت مزہ خراب کرتے ہیں۔ جس ملک میں ریاستی سرپرستی میں جھوٹ، مسخ تاریخ، پراپیگینڈا اور حب الوطنی کے چورن والی فلمیں بن رہی ہیں وہاں ایک ایسی انٹرٹینمنٹ بھی سہی۔ جس نے نہیں دیکھنی نہ دیکھے اور جو نہیں دیکھ سکتے مگر دیکھنا چاہتے ہیں ان کا سوچیے۔

مشرف علی فاروقی صاحب کا پرانی مولا جٹ فلم پر مضمون


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر عاکف خان

مصنف فزیکل سائینز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ تدریس اور ریسرچ سے وابستہ ہونے کے ساتھ بلاگر، کالم نویس اور انسانی حقوق کےایکٹیوسٹ ہیں۔ ٹویٹر پر @akifzeb کے نام سے فالو کیے جا سکتے ہیں۔

akif-khan has 10 posts and counting.See all posts by akif-khan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments