کیا روس اور یوکرین کی جنگ میں پاکستان کے بنے ہوئے گولے استعمال ہو رہے ہیں؟

روس اور یوکرین کی جنگ جاری ہے۔ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی؟ اس کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ 1970 کی دہائی میں جب روس [اس وقت سوویت یونین ] نے افغانستان میں فوج کشی کی تھی تو یہ سب کچھ ہماری سرحدوں پر ہو رہا تھا۔ اس وقت کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر صاحب نے پوری قوم کو یقین دلایا تھا کہ چپ چاپ میرے ظلم سہتے رہو ورنہ سوویت یونین یہاں گھس گیا تو تم کہیں کے نہیں رہو گے۔ اور مجھ سا مجاہد تمہیں کہاں ملے گا جس نے تن تنہا سرخ سیلاب کا راستہ روکا ہوا ہے۔
دوسری طرف افغانستان میں کمیونسٹ فوجوں کی وجہ سے پاکستان اور اس کے فوجی حکمران یکلخت امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی آنکھوں کا تارا بن گئے تھے۔ بہر حال یہ جنگ تو ختم ہو گئی لیکن ہم آج تک اس جہاد میں دخل دینے کی قیمت چکا رہے ہیں۔ ویسے تو سود حرام ہے لیکن اس جہاد میں حصہ لینے کی قیمت پورا ملک سود در سود سمیت ادا کر رہا ہے۔
چند ماہ قبل ایک بار پھر روسی حکومت کو اس قسم کے ایڈوینچر کا شوق چرایا تو پوٹن صاحب کے حکم پر روسی فوجیں یوکرین میں داخل ہو گئیں۔ اور یہ جنگ طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس مرتبہ یہ جنگ ہماری سرحدوں سے کچھ فاصلہ پر ہو رہی تھی لیکن ہم عادت سے مجبور ہیں۔ جھگڑا کسی کا ہو۔ خواہ ہمارا اس سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو۔ لیکن ہم کسی نہ کسی رنگ میں کوئلوں کی دلالی کر کے اپنا میک اپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری حکومت ایک دو بیان داغ کر ہم جیسے بھولے بھالے شہریوں کو خوش کر دیتی ہے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کر لیا گیا۔ اور ایک بار پھر ہم کسی بیگانی شادی میں عبد اللہ دیوانہ بن کر خود کو اپنی ہی اہمیت کا یقین دلا دیتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ خود اپنے بنائے ہوئے جھوٹ کو سچ سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اگر کوئی ہمیں سچ بتانے کی کوشش کرے تو اس کا وہ حال کیا جاتا ہے کہ وہ کئی سال تک یہ وضاحتیں پیش کرتا رہتا ہے کہ میں یہود و ہنود کا ایجنٹ نہیں ہوں۔
بہر حال اس مرتبہ بھی ہماری دخل اندازی کی صورت نکل آئی۔ گزشتہ جون میں یوکرین کے ایک اعلیٰ افسر نے بیان دیا کہ روس اور یوکرین کی جنگ دونوں ممالک کی آرٹلری یعنی توپخانہ کی جنگ بن گئی ہے۔ اور اس سلسلہ میں مغربی ممالک کو یوکرین کی مدد کرنا ہو گی کیونکہ اگر روس کی دس پندرہ توپیں گولے برسا رہی ہیں تو یوکرین کی ایک توپ ان کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اور ان توپوں نے دشمن پر جو گولے برسانے ہیں وہ بھی تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ مغربی ممالک یوکرین کی مدد کر رہے تھے لیکن ان گولوں کی بہت زیادہ مقدار کی مسلسل سپلائی درکار تھی۔ ایک اندازہ کے مطابق یوکرین کو ایک روز میں چھ ہزار گولوں کو استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔
صرف یوکرین ہی گولوں کی کمی کا شکار نہیں ہوا بلکہ روس جیسی بڑی طاقت کو بھی اس کمی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ اس جنگ میں یوکرین نے حملہ کر کے روس کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تباہ کر دیا۔ اور روس کو شمالی کوریا سے گولوں کی بہت بڑی مقدار خریدنی پڑی۔ ایسی حالت میں جب کہ خود روس جیسی طاقت بھی شمالی کوریا سے گولوں کو خرید کر جنگ کو چلا رہی ہو تو یوکرین جیسے چھوٹے ملک کی ضرورت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
لیکن اب بعض صحافیوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اس مسئلہ کا حل نکال لیا ہے۔ اور اس مرتبہ بھی ان طاقتوں کی یہ بے لوث خدمت مبینہ طور پر پاکستان سرانجام دے رہا ہے۔ جریدے وار زون میں اس میدان کی صحافی ایلزبتھ گوسیلین مالو نے ایک تجزیہ شائع کیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب اس جنگ میں یوکرین پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے بنے ہوئے گولے بھی استعمال کر رہا ہے۔ یہ گولے یوکرین کس طرح پہنچے؟ برطانیہ کے رائل ایر فورس کے سی 17 جہاز یہ گولے راولپنڈی کے نور خان ایر بیس سے لے کر رومانیہ اور سائپرس پہنچا رہے تھے۔
پہلے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ برطانیہ یوکرین کو پچاس ہزار گولے مہیا کر رہا ہے۔ یہ منتقلی 6 اگست اور 22 اگست کے درمیان کی گئی تھی۔ بعد میں یہ تصویریں بھی شائع ہو گئیں کہ یوکرین میں پاکستان کے بنے ہوئے ایچ ای 122 شیل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ گولے ساڑھے نو کلو میٹر دور تک مار کر سکتے ہیں۔ جب یہ توپ کے دہانے سے نکلتے ہیں تو ان کی رفتار 2272 فٹ فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ پاکستان کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یوکرین کے توپخانے میں ابھی بھی سوویت یونین کے دور کی توپیں موجود ہیں۔ اور پاکستان آرڈیننس فیکٹری دنیا میں ایسے گولوں کو بنانے کی کافی صلاحیت رکھتی ہے جو اس قسم کی آرٹلری میں استعمال ہو سکیں۔ اور ابھی بھی پاکستان اور برطانیہ کی افواج کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں۔ اس سال اگست میں برطانیہ کی سینڈ ہرسٹ اکیڈمی کی پیریڈ میں جنرل باجوہ کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔
بعض مغربی ممالک میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ اگر پاکستان یہ مدد کردے تو امریکہ آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول میں مدد کرے گا۔ اسلحہ کی خرید و فروخت کی دنیا بھی ایک عجیب دنیا ہے۔ ایک طرف تو مغربی ممالک اور ایران کے درمیان اختلافات کی وسیع خلیج موجود ہے اور دوسری طرف یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ایران کا بنا ہوا اسلحہ یوکرین میں استعمال ہو رہا ہے۔
یہ بات تو درست ہے کہ اس وقت پاکستان کی حکومت کو بہت سے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ملک کی کمزور مالی حالات کی وجہ سے حکومت کو مالی مدد کے لئے دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس پس منظر میں حکومت پر بے جا تنقید مناسب نہیں ہو گی۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے اپنی تاریخ میں بہت مرتبہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کے اتحادی کا کردار ادا کیا ہے لیکن ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ پاکستان کو اس اتحاد سے کوئی طویل المیعاد فائدہ حاصل ہوا ہو۔
اور اب بھارت کی اقتصادی پوزیشن ایسی ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پاکستان کی کسی مدد سے خوش ہو کر بھارت سے اپنے تعلقات کو خراب کرنے کا خطرہ مول لیں گے۔ اس قسم کی مہم جوئی سے زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ نہایت محدود مدت کے لئے پاکستان کو کوئی مالی فائدہ مل جائے۔ لیکن اس کے ساتھ اس بات کا بہت بڑا خطرہ موجود ہے کہ ایک بار پھر بڑی طاقتوں کے اس تصادم میں ملوث ہو کر طویل عرصہ کے لئے نقصانات اٹھانے کا سلسلہ شروع ہو جائے۔
اب جب کہ اس خبر کو منظر عام پر آئے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے اور پاکستان اور برطانیہ کی طرف سے اس کی کوئی تردید نہیں کی گئی، مناسب ہو گا کہ نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ پاکستان کے عوام کو بھی اس سلسلہ میں اعتماد میں لیا جائے۔ کیونکہ آخر میں ہر چیز کی قدم پاکستان کے عوام کو ہی ادا کرنی پڑے گی۔

