18 اکتوبر، جو میں نے دیکھا!


وہ 17 اکتوبر 2007 کی صبح تھی، جب مجھے اپنے ٹی وی چینل کی آفس کے سی ای او کی فون کال موصول ہوئی کہ آپ دوپہر تک کراچی انٹرنیشنل ائرپورٹ پر پہنچ جاؤ، کیوں کہ کل بینظیر بھٹو کی وطن واپسی ہے، کل شاید سڑکیں بلاک ہو جائیں اور آپ وہاں نہ پہنچ سکو۔ حالاں کہ 16 اکتوبر کو ہی کراچی شہر میں پاکستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ میں بلاول ہاؤس کے اندر مخدوم امین فہیم کی محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی واپسی کے اعلان کے متعلق کی جانے والی پریس کانفرنس سے لے کر اس پارٹی کی ساری سرگرمیاں رپورٹ کر رہا تھا، اس لیے مجھے اندازہ تھا کہ محترمہ کے استقبال کے لیے کتنا ہجوم اکٹھا ہو گا۔

میں اپنے کیمرا مین ہادی سانگی کے ساتھ کراچی ائرپورٹ کی جانب روانہ ہوا، یہ دوپہر کا وقت تھا، میں نے دیکھا کہ شاہراہ فیصل کی دونوں اطراف لوگ جمع ہو رہے تھے، اور کافی لوگ تو فٹ پاتھوں پر اپنے بستر اور چٹائیاں لگا رہے تھے۔ میں نے اندازہ لگا لیا کہ میں آج اگر ائرپورٹ پہنچ سکا تو ٹھیک ورنہ 18 اکتوبر کو ائرپورٹ پہنچنا ممکن نہیں ہو گا۔

میں کراچی انٹرنیشنل ائرپورٹ کے اولڈ ٹرمینل پر پوری رات اور دوسرا پورا دن اس وقت تک اپنے پاؤں پر کھڑے کھڑے کوریج کرتا رہا جب تک محترمہ شہید بینظیر بھٹو 8 سالا جلاوطنی ختم کر کے پاکستان نہ پہنچیں اور اپنے لیے تیار کی گئی مخصوص ٹرک پر سوار ہو کر ائرپورٹ سے باہر نکلیں۔ بینظیر بھٹو شہید مسکرا مسکرا کر لوگوں کو ہاتھ ہلا رہیں تھیں، امین فہیم، شاہ محمود قریشی، قمر الزمان کائرہ، ناہید خان، صفدر عباسی، مراد علی شاہ سمیت مختلف لیڈران ان کے ساتھ کھڑے تھے۔

میں جلوس کی بھیڑ اور دھکم پیل سے بچنے کے لیے اپنے چینل کی ڈی ایس این جی پر سوار ہو کر شاہراہ فیصل کی طرف روانہ ہوا۔ مجھے ہر طرف لوگ ہی لوگ نظر آئے۔ میں جلوس کی کوریج کے لیے اپنے دوسرے ساتھی رپورٹر کو یہ کہہ کر روانہ ہوا کہ میں شاہراہ فیصل کی بلوچ پل پر پہنچتا ہوں، تب تک آپ جلوس کے ساتھ آئیں اور آگے میں جلوس کو کور کروں گا۔ کچھ گھنٹوں کے بعد جب جلوس ناتھا خان سے کارساز کی طرف رواں دواں ہوا تو اچانک شاہراہ فیصل کی اسٹریٹ لائٹیں بند ہو گئیں، مگر پورا شاہراہ فیصل گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کی وجہ سے روشن تھا۔ جلوس جب کارساز پر پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو زوردار دھماکے ہوئے اور شاہراہ فیصل ایک طرف نعرے اور دوسرے طرف لوگوں کی چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔

میں دھماکے والی جگہ کی کوریج کے لیے آگے بڑھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بینظیر بھٹو کی گاڑی بڑی تیز رفتاری سے شاہراہ فیصل سے بلوچ پل کی طرف آ رہی تھی اور گاڑی کے جنگلے پر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور کچھ جانثار بینظیر کھڑے تھے۔ میں نے وہاں سے بینظیر بھٹو شہید کی گاڑی کا پیچھا کیا اور تقریباً دو چار منٹ کے وقفے سے میں بھی بلاول ہاؤس پہنچ گیا۔ اس سے پہلے بلاول ہاؤس کے باہر روڈ پر ہزاروں لوگ ڈھول اور مٹھائیاں لے کر بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے بیٹھے ہوئے تھے مگر دھماکوں کی اطلاع کے بعد یہاں بھی بھگدڑ کے مناظر تھے۔

میں اپنے کیمرا مین کے ساتھ بلاول ہاؤس کی گیٹ کی جانب روانہ ہوا۔ اس وقت بلاول ہاؤس کے گیٹ اس طرح بند نہیں ہوا کرتے تھے جس طرح آج کل ہیں۔ میں نے دیکھا کہ بینظیر بھٹو شہید اپنی گاڑی سے اتر کر لوگوں سے کچھ معلومات لینے کی کوشش کر رہیں تھیں اور اس وقت ان کی پاؤں میں چپل بھی نہیں تھی۔ میرے ہاتھوں میں ٹی وی چینل کا مائیک دیکھ کر مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میری کوشش تھی کہ میں اس دھماکے پر اپنی ٹی وی کے لیے ان کا موقف لے سکوں مگر انھوں نے میری مائیک ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے صرف ایک سوال پوچھا کہ: ”آپ کے پاس کیا اطلاعات ہیں، کیا مخدوم صاحب زخمی ہیں۔ ؟!“ میں کوئی جواب دیتا اس سے پہلے ناہید خان بینظیر بھٹو کو فون دیا اور وہ فون پر بات کرتے ہوئے بلاول ہاؤس کے اندر چلیں گئیں۔ میں وہاں سے واپس کارساز دھماکے کی جگہ روانہ ہوا، جہاں پر ابھی تک انسانی گوشت کے لوتھڑے بکھرے ہوئے تھے۔

میں نے اور شکیل سومرو نے وہاں پر صبح تک رپورٹنگ کی، مسلسل جاگتے ہوئے مجھے یہ دوسری رات گزر چکی تھی۔ صبح آٹھ بجے کے قریب بلاول ہاؤس سے جمیل سومرو کی فون کال آئی کہ بینظیر بھٹو پریس کانفرنس کرنا چاہتیں ہیں۔ ہم بلاول ہاؤس پہنچے، تقریباً دوپہر کے دو بجے محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ اس واقعہ کی ایف آئی آر وہ خود درج کروائیں گیں۔ دوسرے دن صبح ہم بلاول ہاؤس پہنچے، ہم چند صحافی تھے اور ہمارے ساتھ نثار کھوڑو، قائم علی شاہ، شاہ محمود قریشی، آفتاب شعبان میرانی، فاروق ایچ نائیک اور رضا ربانی بہادر آباد تھانے کی طرف روانہ ہوئے۔

وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ پولیس نے 18 اکتوبر سانحے کی سرکاری مدعیت میں ایف آئی آر درج کر چکی ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو 18 اکتوبر سانحے کی وجہ سے اپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کر دیں گیں مگر تقریباً ایک بجے کے قریب شاہ محمود قریشی کا میرے صحافی دوست کاشف حسین کو فون کال آیا کہ محترمہ جناح اسپتال کارساز سانحے کے زخمیوں کی عیادت کے لیے پہنچ رہیں ہیں۔ ہم وہاں پہنچے تو محترمہ بینظیر بھٹو سانحے کے زخمیوں کی عیادت کر رہیں تھی۔ اس کے بعد وہ لیاری پہنچیں، اور لیاری کے گلی کوچوں میں گھوم کر بینظیر بھٹو نے دہشتگردوں کو یہ پیغام بھیجا کہ میں ڈرنے والی نہیں ہوں اور اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھوں گی۔

Facebook Comments HS