وادی مہران کا قدیم اور تاریخی شہر شکارپور
شکارپور سندھ کا ایک تاریخی شہر ہے، جس کو ماضی کا معاشی حب بھی کہا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ شہر تاشقند، بخارا، سمرقند اور قابل کے تاجروں کے لئے تجارت کا مرکز رہا ہے۔ برٹش انڈیا کے دور میں پرفیوم کی صنعت اور جدید طرز عمارات کی وجہ سے شکار پور کو ہندستان کا پیرس کہا جاتا تھا۔ اور اس شہر کو دروازوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا۔ شہر میں داخلی اور خارجی راستوں پر آٹھ دروازوں اور قلعہ بندی کی دیوار نے شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا۔
دروازوں کو ، لکی در، ہاتھی در، کرن در، ہزاری در، واگونو در، سوی در اور خانپور کہا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کے علاقے صدر کی طرح یہاں بھی صدر کے نام سے ایک محلہ بھی موجود ہے۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی اور صفائی کی لحاظ سے پہچانا جاتا تھا، اس شہر کو اپنی ایک تاریخی، ادبی، ثقافتی اور تجارتی پہچان تھی۔ اس وجہ سے شہر کو ایک منفرد مقام حاصل تھا۔ یہ شہر دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر واقع ہے، شکارپور سکر سے 25 میل کے فاصلے پر آباد ہے۔
شہزاد غیاث شیخ جو لمز اسکول آف لا کے گریجوئیٹ ہیں انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بالائی سندھ میں شکارپور کا محل وقوع اور بولان پاس کے قریب ہونے کا یہ ثبوت تھا کہ یہ شہر تجارت کا مرکز تھا۔ افغانستان کے راستے وسطی ایشیا اور شمالی ہندوستان کے درمیان تجارت پر اس خطے کا غلبہ تھا۔ موجودہ ازبکستان کے صوبہ بخارا میں خاص طور پر ایک بڑی شکار پوری برادری آباد تھی۔
(صدیوں پھلے یہاں پر گھنے جنگل تھے، جہان امیر خاندان کے لوگ شکار گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ سندھ گزیٹئر کے مطابق امیر بہادر خان داؤدپوٹے اول نے 1026 ہ سن 1617 کو شکارپور کی خود مختار حیثیت میں بنیاد ڈالی۔ (حوالہ کتاب شکارپور تاریخ کے آئینے میں۔ تحریر نایاب منگی)
ادیب اور اسکالر مرزا قلیچ بیگ نے لکھا ہے کہ یہ شہر داؤدپوٹوں کا تھا، جب سن 1617 میں لکی کے مھروں کو شکست دی تھی، جس کے بعد کلھوڑوں اور داؤدپوٹوں کے درمیان اس شہر کی حکمرانی کے لئے لمبی لڑائی چلی۔
تاریخ کے دستاویزات میں لکھا ہے کہ شکارپور 1617 سے 1745 تک داؤدپوٹوں کی ریاست کا دارالحکومت رہا، اور جب میان نور محمد کلھوڑو نے داؤدپوٹوں کو سن 1745 میں شکست دی کر داؤدپوٹوں کو شہر بدر کر دیا۔ جس کے بعد سن 1824 تک افغان حکومت کے قبضے کے ماتحت رہا، صوبائی حکومت کی حیثیت میں افغان حکومت کے 35 گورنرز نے حکومت کی، افغان گورنر غلام صدیق خان کے نام سے ایک ماڑی بھی تعمیر کر اوائی گئی جو صدیق ماڑی کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔
شکارپور شہر جو کبھی علم اور سیکھنے کا مرکز تھا، اس شہر کی خاصیت یہ بھی تھی کہ شہر علم اور ادب کے مرکز سے جانا جاتا تھا۔ شکارپور نے سندھی زبان کے مشہور شاعر اور ادیب شیخ ایاز کا جنم بھی اسی شہر میں ہوا۔ ادب کے حوالے سے کئی نامی گرامی شخصیتیں پیدا ہوئی، جن میں کئلداس فانی، سندھ کی پہلی ناول نگار خاتون بادام ناتواں، نیاز ہمایونی، ناول نگار آغا سلیم، روشن آرا مغل، مشہور وکیل نورالدین سرکی، گوبند پنجابی، آغا غلام نبی جن کا جنم شکارپور کی مٹی سے ہوا۔
داؤدپوٹوں، کلھوڑوں اور ٹالپور دور میں یہاں دفتری اور سرکاری زبان فارسی تھی۔ انگریزوں نے سن 1853 میں عربی اور فارسی حروف کو ملا کر سندھی زبان کو دفتری زبان قرار دیا۔ سن 1855 میں پہلا پرائمری اسکول قائم کیا گیا۔ قیام پاکستان سے پھلے ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک اسکول قائم کیا گیا جس میں اردو اور ہندی پڑھائی جاتی تھی۔ سن 1933 میں چیلا سنگھ اور سیتلداس کالج قائم ہوا، جس میں سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے، کالج میں ماسٹرز تک تعلیم دی جاتی تھی۔
شکارپور جو ماضی میں ہندوستان اور وسطی ایشیا تک ہندوستانی سامان کی نقل و حمل کے لئے راستے فراہم کرنے والا تجارتی مرکز تھا، یہ شہر اپنے آپ میں ثقافتی ورثے، مہمان نوازی اور تہذیب کی داستان بیان کرتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے اپنے فن کے تعمیر کے عجائبات سے جانا جاتا تھا آج وہ شہر ماضی کی داستان بیان کر رہا ہے، سن 1998 محکمہ ثقافت حکومت سندھ نے شکارپور کو ایک تاریخی شہر قرار دیا تھا، مگر شکارپور کی موجودہ حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ماضی کا پیرس آج اپنی تاریخی حیثیت میں نہیں رہا۔ جس طرح اس شہر کا ماضی شاندار تھا، اسی شاندار ماضی کی واپسی کے لئے حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر اس شہر کی دوبارہ سے تعمیر نو کرنی چاہیے۔


