نواز شریف کے بعد عمران خان، قصور کس کا؟


مورخہ اکیس اکتوبر دو ہزار بائیس کو الیکشن کمیشن کا ایک بڑا فیصلہ آیا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کو پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ فیصلہ قابل مذمت ہے اور یہ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی مفادات کے لیے یہ فیصلہ جاری کروایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس ابھی اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا حق موجود ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ سپریم کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے گی۔

اس بڑے فیصلے کے علاوہ بھی ایک بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے کہا ہے کہ وہ اگلے پانچ ہفتوں میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے اور پاک فوج کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کرے گی۔ ان دونوں بیانات کو اگر ہم ملا کر دیکھیں تو بہت سی الجھنیں حل ہو سکتی ہیں۔ یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں پاکستان میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ عمران خان صاحب ویسے تو کئی ماہ سے آرمی چیف کی تعیناتی پر واویلا کر رہے تھے لیکن پچھلے چند ہفتوں سے ان کے اس مطالبے میں کافی شدت محسوس کی جا سکتی تھی۔

اپنے حالیہ بیانات میں ان کا جلد الیکشن کا مطالبہ ماند پڑتا دکھائی دیتا تھا اور آرمی چیف کی تعیناتی پر ان کے اثر ڈالنے کا مطالبہ زیادہ موثر ہوتا جا رہا تھا۔ اپنے کل کے سرگودھا یونی ورسٹی کے بیان میں انہوں نے آرمی چیف کی تعیناتی اور جلد الیکشن کے لیے ایک لانگ مارچ کے بہت جلد اعلان کا ذکر کیا تھا، یہ اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں کہ وہ بہت جلد لانگ مارچ کا اعلان کرنے بھی والے تھے۔ ایسے میں ان کی آواز کو دبانے کے لیے اس سے زیادہ کارگر ہتھیار حکومت کے پاس موجود نہیں تھا ماسوائے انہیں نا اہل کرانے کے۔

ایسے میں لانگ مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے انہیں ایک نئی جھنجھٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ عمران خان نا اہلی کا سنتے ہی لانگ مارچ کا اعلان کر دیں گے۔ عمران خان صاحب کی طرف سے لانگ مارچ کا اعلان حکومت کی توقع کے برعکس تھا لیکن یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت اس بات سے پہلے آگاہ تھی، اس وجہ سے سیکورٹی کے سخت انتظامات تھے اور پورے ملک میں سیکورٹی ہائی الرٹ تھی۔ یہاں پر فقط یہ فائدہ حکومت کو ملے گا کہ اب عمران خان صاحب کا زور آرمی چیف کی تعیناتی اور جلد الیکشن کے مطالبے سے ہٹ کر فقط اپنی نا اہلی کو کالعدم قرار دیے جانے پر ہو گا۔

یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عمران خان سیاسی شہید بننے کی کوشش کریں یا ہیرو بننے کی کوشش کریں لیکن وہ تاریخ کی ان تاریک اور فاش غلطیوں کو کو فراموش نہیں کر سکتے جو انہی سے سرزد ہوئی ہیں یعنی جب 28 جولائی 2017 کو میاں نواز شریف کو فقط بیٹے کی اس تنخواہ چھپانے پر تاحیات نا اہل کیا گیا جو تنخواہ ادا بھی نہیں کی جا رہی تھی تو یہی عمران خان اسے احتساب کی جیت قرار دے رہے تھے۔ میاں نواز شریف کے پاس تو اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا بھی کوئی اختیار نہیں تھا کیوں کہ عدالت عظمی کی طرف سے وہ فیصلہ دیا گیا تھا۔

عمران خان صاحب نے تب سیاست دانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کی نہ تو مذمت کی اور نہ جب وہ برسر اقتدار آئے تو ایسے فیصلوں کی آئندہ روک تھام کے لیے کوئی اقدامات اٹھانے کی زحمت کی بلکہ انہوں نے اسی فیصلہ کی بنیاد پر ایک سیاسی نعرہ گھڑ لیا کہ چوروں کو ووٹ نہیں دینا حالاں کہ نواز شریف پر کرپشن کے شواہد نہیں ملے بلکہ انہیں صرف تنخواہ چھپانے کی سزا ملی جبکہ عمران خان صاحب پر تو الیکشن کمیشن کی جانب سے باقاعدہ کرپشن کے شواہد ملنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہر سیاسی اپنی مخالف سیاسی جماعت کی تذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، یہ امکان موجود ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ بھی عمران خان کے خلاف ”چور اور فراڈیا“ کا بیانیہ بنائے گی لیکن غالباً یہ بیانیہ عمران خان کی شہرت اور مقبولیت کے پیچھے دفن ہو جائے گا۔ نواز شریف سے پہلے پاکستان کے اس وقت کے موجودہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی صاحب کو بھی فقط اس وجہ سے نا اہل کر دیا گیا کہ ان پر توہین عدالت کا ایک معمولی سا کیس تھا۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ ابھی حال ہی میں اسی طرز کے توہین عدالت کیس میں عمران خان کو اتنی واضح چھوٹ مل چکی ہے۔ جب سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو نا اہل کیا گیا تو اس وقت اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں بشمول عمران خان سب نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔ ان سب حقائق کو مد نظر رکھ کر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ تمام سیاست دان بس اپنی باری پر جمہوریت پسند بنتے ہیں ورنہ عام حالات میں انہیں مخالفین کو دی جانے والی تمام سزائیں بھی جمہوری اور قانون کی پاسداری لگتی ہیں۔

نواز شریف کے بعد عمران خان صاحب کی باری کا آنا اور شاید اگلی باری آصف علی زرداری کی ہو، یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ سیاست دان ہی قصور وار ہیں کیوں کہ وہ ہرن ہوتے ہوئے بھی تب شیر کی حمایت کرتے رہے جب شیر کسی دوسرے ہرن کو اٹھا کر بھاگ رہا تھا لیکن بات وہی کہ ایک شعر معمولی رد و بدل کے ساتھ لکھنے کی گستاخی کروں گا

نا اہلی سے کس کو رستگاری ہے
آج عمران تو کل زرداری ہے

ایک اہم نقطہ جسے تمام تجزیہ کار اور مبصرین اٹھانے سے قاصر ہیں کہ پاکستانی عوام نے عمران خان کے بیانیے سے متاثر ہو کر نیوٹرل کے خلاف مہم تو شروع کردی لیکن وہ تو ہمیشہ اپنے سیاسی کردار کی تردید کرتے آئے ہیں اور کچھ حد تک انہوں نے یہ ثابت بھی کیا ہے، لیکن یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ”بد اچھا بدنام برا“ کے مصداق نیوٹرل کے بدنام کردار کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے ادارے اپنا غیر آئینی اور سیاسی کردار تو ادا نہیں کر رہے جیسے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان وغیرہ۔ ان دونوں اداروں کے گزشتہ چند فیصلے بڑے ہی متنازعہ اور جانبدارانہ معلوم ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سوال کا کھوج لگانا بہت ضروری ہے، شاید ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments