عورت: ایک بہتان، ایک تھپڑ اور پولیس کی بے حسی


عورتوں کے خلاف تشدد معمول کی بات ہے۔ آج بھی اس کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ اس کو لے کر قانون نافذ اور تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی بھی عیاں ہے۔ آج بھی پولیس کو کسی جگہ بلوانے کے لئے حقوق نسواں کے کارکنان کو ذاتی میل جول کی تاریں ہلانا پڑتی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شوہر یا سسرال کے ہاتھوں پٹتی عورت کی مدد کو پہنچ جائیں۔ بہت ممکن ہے کہ بہت سے مواقع پر قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثرین کی مدد کو بروقت پہنچتے ہوں مگر میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے دو واقعات کا حوالہ دے کر آئینہ دکھانا چاہوں گی۔

فرزانہ (فرضی نام) ایک بڑے شہر میں دو وقت کی روٹی کو پورا کرنے کے لئے ایک کام سینٹر میں کام کرتی تھی۔ ہمیں کام کرنے والی عورتوں سے ویسے ہی خدا واسطے کا بیر ہے اور سونے پر سہاگہ لڑکی اگر کال سینٹر میں کام کرتی ہو، اسپتال میں نرس یا مقامی اداکارہ و ماڈل ہو تو اس کے سانس لینے پر بھی پابندی عائد ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ کوئی جتنا بھی غیر انسانی سلوک روا رکھے، قانون کے رکھوالے اداروں یا کسی فرد کی جرات تک نہ ہو کہ ان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

اول تو عورتوں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے مگر اس انسانیت سوز تفریق کے بھی درجے ہیں، جن میں پیشہ ور خواتین نیچے اور خاص پیشوں سے تعلق رکھنے والی عورتیں سب سے آخری درجے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ فرزانہ کا گناہ اتنا تھا کہ وہ متشدد شوہر سے خلع کا دعویٰ کر چکی تھی، جب ہی ایک روز اس کے شوہر نے اس کے کرایہ کے گھر کے باہر تماشا لگا رکھا تھا۔ اس تماشے میں فرزانہ کا شوہر محلے والوں کو اس کے نہ ہونے والے ”اچھے“ کردار کے چیتھڑے اتار رہا تھا اور گھر کے دروازے پر سنگ بازی بھی متواتر کرتا رہا۔

محلے والوں کو اپنی ہی بیوی کی خلوت میں لی گئی تصاویر دکھانے کی دھمکیاں بھی خوب دیتا رہا۔ لڑکی روتے پولیس کو فون ملاتی رہی۔ پولیس نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کیا کہ شکایت تھانے آ کر درج کرائی جائے جو اس وقت اس کے لئے نا ممکن تھا کہ گھر سے باہر اس کا شوہر اور دیگر سسرالی مشتعل تھے۔ یہ تماشا پورے چھ گھنٹے چلنے کے بعد تب ختم ہوا جب مشتعل شوہر تھک ہار کر لوٹ گیا۔ فرزانہ کو نہایت ہنر مندی سے بدنام کرنے کے بعد شوہر تو اپنے گھر کو ہو لیا مگر اب وہ مکان چھوڑنے پر مجبور ہے کہ مالک مکان نے بدکردار عورت کو کرایہ کے مکان کو خالی کرنے کا کہہ رکھا ہے۔ پولیس تب بھی شکایت کرنے کے بعد موقع پر نہیں پہنچی۔

شام کے چھ بج رہے تھے۔ فون کی گھنٹی بجتی ہے اور کیا دیکھتے ہیں کہ آنے والی کال نامعلوم ہے۔ خدا غارت کرے مگر یہ نامعلوم نمبروں نے خوب دہشت زدہ کر رکھا ہے۔ مجھے کبھی کبھار حیرت ہوتی ہے کہ ٹی وی ڈراموں میں لوگ کیسے خوف میں مبتلا ہوئے بنا ٹھک سے نامعلوم نمبر اٹھا لیتے ہیں۔ ان کو ڈر نہیں لگتا؟ مگر اس شام نامعلوم نمبر پر کال اٹھاتے ہی ایک اجنبی آواز نے فون سننے والی کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ وہ لڑکی بس مدد مدد دہرائے جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی۔

اس کی سسکیوں میں اور کچھ سنائی نہیں دیا، ہاں مگر وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے مدد مانگ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی چیخ سنائی دی اور فون بند ہو گیا۔ یہ ہرگز معمولی بات نہیں تھی۔ جب اسی نمبر پر فون دوبارہ ملایا، جس پر کسی آدمی نے جواب دیا۔ وہ نہایت مطمئن معلوم ہوتا تھا۔ اس کی آواز میں خوف تھا نہ کپکپاہٹ جیسے اس لڑکی کی آواز میں تھا۔ وہ ”غلط نمبر“ کہہ کر فون رکھنے ہی والا تھا کہ ہماری عزیزہ نے پولیس کو شامل کرنی کی دھمکی دے ڈالی جس کا جواب دوسری طرف سے یہ آیا: ”جو جی میں آئے کرو“ ۔

اس مختصر بات کے دوران پیچھے سے کسی کی ہچکیوں اور چیخوں کا شور ایسے آ رہا تھا جیسے کسی کا منہ باندھ رکھا ہو اور وہ چلا رہا ہو۔ فوری طور پر پولیس کو اطلاع کرنے پر پولیس کا جواب یوں تھا: ”میڈم، آپ پریشان نہ ہوں، خوامخواہ میں آپ پھنس جائیں گی، لوگ دشمنی پر اتر آتے ہیں“ ۔ انہوں نے نہ اس فون کال کی تفصیل مانگی نہ فون کا نمبر کہ وہ خود معاملے کو دیکھتے۔

کچھ دیر گزرنے کے بعد ، ایک مرد دوست اسی نمبر پر دوبارہ کال کر کے کہ ماجرے کی طے تک پہنچنے کوشش کرتے ہیں، جس کے دوران مسلسل پیچھے ایک لڑکی کے چیخنے اور رونے کی آواز آتی رہتی ہے۔ شور کا سبب دریافت کرنے پر آدمی ایک بچے کے رونے کی بہانہ بناتا ہے اور ساتھ میں ایک بچہ رونا شروع کرتا ہے۔ اس شام ایک لڑکی بد ترین تشدد کا نشانہ بنی، ریپ کی گئی یا سرے سے جان سے گئی، سچ یہ ہے کہ اس سماج میں عورت کی کل اوقات ایک بہتان اور تھپڑ سے شروع ہو کر اس کی موت تک ختم ہو جاتی ہے۔

Facebook Comments HS