کیا ’چور‘ کو ’چور‘ کہنا اب بھی درست ہے؟


ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”بلاشبہ میں ایک انسان ہوں، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کر دوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی ( فریق مخالف ) کا کوئی حق دلا دوں، چاہیے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں۔ بخاری و مسلم۔

مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ قاضی ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ دنیا میں جج کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ضروری ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بندہ اللہ کے ہاں بھی مجرم ہو۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجیے کہ فرض کریں زید کی آپ کے اوپر کچھ رقم قرض ہے، لیکن زید نے پیسے دیتے وقت نہ کوئی لکھت پڑھت کی تھی اور نہ ہی کسی کو گواہ بنایا تھا۔ اب آپ قرض سے مکر جاتے ہیں اور زید آپ کو عدالت لے چلتا ہے۔ قاضی زید سے گواہ طلب کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتا، پھر وہ آپ سے قسم لیتا ہے، آپ بخوشی جھوٹی قسم کھا لیتے ہیں اور رقم ’جو در حقیقت آگ ہے‘ مگر آپ اس پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ اب دیکھیے کہ حق پر زید ہے لیکن دنیا میں سرخرو آپ ہوئے۔

اس صورت حال میں ہمارا فرض یہ بنتا ہے کہ ہم قاضی کے حکم کے سامنے جھک جائیں اور اس کے فیصلے کو تسلیم کریں چاہے دنیا میں کتنی ہی سبکی کیوں نہ اٹھانی پڑے۔ کیونکہ قاضی نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ اس پر شرعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنا فرض ہے جو اس نے کر لیا ہے۔ وہ نہ دلوں کا حال جانتا ہے، نہ پس پردہ حقائق جانتا ہے اور نہ ہی یہ جاننے کا وہ مکلف ہے۔ ہم کئی پڑھے لکھے انصافی دوستوں کو یہ بات بار بار سمجھاتے رہے ہیں کہ عدالت کے فیصلے کے باوجود آپ کے لیے کسی کے خلاف گلی گلی، نگر نگر ’چور‘ چور ’کے نعرے لگانا شرعا جائز نہیں ہے لیکن افسوس کہ یہ کامن سینس کی بات بھی ان کی عقل میں نہیں بیٹھی اور ہمیشہ اس حماقت کو شعور سے تعبیر کرتے رہے یہاں تک کہ مسجد نبوی میں بھی وہ‘ چور ’چور‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ قاضی کا فیصلہ ظاہر کے مطابق ہوتا ہے لیکن اگر وہ واقع کے بھی مطابق ہو تب بھی احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کو سڑکوں، چوراہوں پر اس جرم کا عار نہیں دلایا جا سکتا چنانچہ دور نبوی میں جب غامد قبیلے کی ایک عورت نے خود آ کر اقرار جرم (زنا) کر لیا اور پھر اسے سنگسار کیا جانے لگا تو اس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کے سر پر مارا، خون کا فوارہ پھوٹ کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے چہرے پر پڑا تو انہوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا، نبی کریم، سراپا رحمت، ﷺ نے جب ان کے برا بھلا کہنے کو سن لیا تو فرمایا : خالد! ٹھہر جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز محصول لینے والا ( جو ظلماً لاتعداد انسانوں کا حق کھاتا ہے ) ایسی توبہ کرے تو اسے بھی معاف کر دیا جائے۔ ”پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اسے دفن کر دیا گیا۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی نہ ہم قرآنی فرامین کو در خور اعتناء سمجھتے ہیں اور نہ ہی سیرت طیبہ کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہیں۔ بس جو بات ہمارے لیڈر نے کہہ دی وہ ہی ہمارے لیے سب کچھ اور حرف آخر ہوا کرتی ہے۔ مشرک بتوں کو پوجتے تھے اور ہم نے شخصیات کو خدا کا درجہ دے رکھا ہے۔ آج خان صاحب کے خلاف فیصلہ آیا ہے۔ فیصلہ ٹھیک ہے یا غلط یہ تو اللہ جانتا ہے اور پھر فیصلہ کرنے والے ججز صاحبان! لیکن کیا انصافی بھائیوں کے کاسہ سر میں اب یہ بات آسانی سے بیٹھ سکے گی کہ کسی ’مبینہ چور‘ کو بر سر فیس بک اور سڑکوں، چوراہوں پر چور نہیں کہنا چاہیے یا پھر وہ اب خان صاحب کو بھی جگہ جگہ ’چور‘ چور ’لکھیں گے اور کہیں گے؟

کیونکہ اس بار فیصلہ ان کے مرضی کے خلاف آیا ہے تو انہی کو اس کا صحیح احساس ہو سکتا ہے کہ اس سے دلوں کو تکلیف ہوتی ہے یا راحت پہنچتی ہے۔ ججز کے فیصلوں کو بھی ایک طرف رکھ دیجئے، خان صاحب گزشتہ ساڑھے تین سال میں یہی کہتے رہے ہیں کہ مجھے مکمل اختیار حاصل ہے اور ہم سب ایک پیج پر ہیں جبکہ ابھی چند دن پہلے یہ انکشاف بلکہ اقرار فرمایا ہے کہ گزشتہ حکومت ہماری تھی لیکن اختیار کسی اور کا، تو کیا اس سے انسان جھوٹا نہیں بن جاتا؟

کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں بنتا کہ وہ پہلے جو کچھ کہتے رہے وہ سب جھوٹ تھا؟ یا پھر اب بھی آپ کی نظر میں خان صاحب صادق ہی ہے؟ پھر خان صاحب نے کل پرسوں یہ شگوفہ بھی چھوڑا ہے کہ اگر اب کی بار کمزور حکومت ملنے کی آفر ہوئی تو نہیں لوں گا۔ اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب لیا جا سکتا ہے کہ وہ اب بھی ووٹ کی طاقت سے آنا نہیں چاہتے بلکہ کنگ میکرز سے بھیک مانگ کر ہی بر سر اقتدار آنا چاہتے ہیں۔ پھر ایسے شخص کے آزادی کے نعرے کو کیا نام دیا جائے؟ کاش ہم خرد کو خردے کے طور پر استعمال کرنا ترک کر دیں!

Facebook Comments HS