توشہ خانہ نااہلی: جھوٹ کو سچ کبھی نہیں کہتے

آہ کو نغمگی نہیں کہتے
ان کہی ان کہی ہی رہتی ہے
ان کہی کو کہی نہیں کہتے
بات سچی کبھی نہیں کہتے
توشہ خانہ کے متعلق عمران خان کی نا اہلی کے فیصلے پر یہ اشعار یاد آئے کہ اپنے آپ کو صادق و امین کہلانے والے جو دوسروں کے خلاف کرپشن کا بیانیہ بنائے ہوئے تھے اور وہ اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ میں عمران خان کی قومی اسمبلی کی رکنیت اسی وجہ سے ایک بار کے لئے ختم کردی ہے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت بھیجا۔ جس پر الیکشن کمیشن نے شق 63 ون پی کے تحت فیصلہ سنایا۔ عمران خان پر الزام تھا کہ انہوں نے توشہ خانہ میں موجود تحائف کے معاملے میں بدعنوانی کی ہے۔ الیکشن کمشن نے توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ 19 ستمبر کو محفوظ کیا تھا۔
ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے لیکن الیکشن کمشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشوارے میں انہیں ظاہر نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن میں حتمی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”الیکشن کمشن عدالت نہیں بلکہ ایک کمیشن ہے۔ ہائیکورٹ کی نگرانی نہ ہو تو کوئی ادارہ عدالت نہیں بن سکتا“ ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خاں نے الیکشن کمیشن کو جو تحریری جواب جمع کرایا اس میں انہوں نے بتایا کہ یکم اگست 2018 ء سے 31 دسمبر 2021 ء کے دوران انہیں اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف ملے۔
زیادہ تر تحائف گلدان ’میز پوش‘ آرائشی سامان ’قالین‘ بٹوے ’پرفیوم‘ تسبیح ’خطاطی کے نمونوں فریم اور قلمدان پر مشتمل تھے۔ تحائف میں گھڑی‘ قلم ’کف لنکس‘ انگوٹھی بریسلٹ اور لاکٹ بھی شامل تھے۔ ان میں سے صرف 14 اشیاء ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی۔ ان اشیاء کو انہوں نے طے شدہ طریقہ کار کے تحت رقم ادا کر کے خرید لیا، یوں کرپشن کا الزام غلط قرار دیا جائے۔ عمران خان نے اپنے بیان میں یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم چار تحائف فروخت کیے تھے۔
جن کے دو کروڑ 16 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے۔ قانون کے تحت اگر کوئی سربراہ حکومت چاہے تو وہ ملنے والے کسی تحفے کو مخصوص رقم ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتا ہے مگر پاکستان اور بھارت میں ایسے تحائف کی نیلامی بھی کی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ریاست کے خزانے میں جاتی ہے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق یہ نیلامی ہر سال ہونا ہوتی ہے لیکن سالانہ بنیادوں پر ایسا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایک برس کے دوران سربراہان اور وزرا کے دوروں میں اتنے تحائف نہیں ملتے کہ ہر برس نیلامی کا انعقاد کیا جا سکے۔
سربراہان حکومت اور وزراء کو ملنے والے تحائف اور توشہ خانہ میں ان کے اندراج کا طریقہ کار متعین ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی بیرونی دورے کے دوران وزرات خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور وطن واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جس کے بعد سٹیٹ بینک سے باقاعدہ ان کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب عمران خان پی ڈی ایم حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کی بنیاد پر عمران خان کو ڈی سیٹ اور نا اہل کر دیا ہے۔ نا اہلی کے متعلق یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ نا اہلی اسی مدت کے لیے ہے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری
کنور دلشاد کا یہ بیان سامنے رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن فیصلے کے مطابق عمران خان موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک نا اہل ہیں، عمران خان نے حقائق چھپائے جو بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں۔
کنور دلشاد نے کہا کہ سیشن کورٹ عمران خان کو بدعنوانی کے مرتکب ہونے پر 3 سال کی سزا دے سکتی ہے، عمران خان کے پاس ہائیکورٹ میں اپیل کا حق ہے۔ البتہ ان کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان کی پارٹی کی سربراہی خطرے میں آ گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے نواز شریف کے فیصلے میں کہا تھا کہ جب نواز شریف نا اہل ہو گئے تووہ پارٹی سربراہ نہیں رہ سکتے۔
کنور دلشاد نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ میں پولیٹیکل پارٹی چیپٹر 200 اور 201 میں لکھا ہے کہ پارٹی سربراہ کرپٹ پریکٹس میں آ جاتا ہے تو پارٹی سربراہ نہیں رہ سکتا۔
عمران خان جب حزب اختلاف میں تھے تو نہ صرف توشہ خانے سے رعایتی دام پر تحفے لینے کو غلط کہا کرتے تھے بلکہ اپنی تقاریر میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف تحفے لینے کے الزامات کی تحقیقات کے حوالے دیتے اور اسرائیلی نظام انصاف کی تعریف کرتے کہ وہ ایک وزیراعظم کے خلاف بھی تحفے ہڑپ کرنے کی تحقیق کرتا ہے۔ عمران خان حکومت میں آئے تو آصف علی زرداری اور نواز شریف کے خلاف مہنگے تحائف توشہ خانہ سے کم قیمت پر خریدنے کے الزام میں نیب سے مقدمات بنوائے، ان مقدمات میں یہ دونوں طویل عرصہ تک پیشیاں بھی بھگتے رہے اور ضمانتیں بھی کروائیں۔
خود پر بات آئی ہے تو عذر لنگ تراشے، ایک طرف کہتے ہیں مجھے کسی تحفہ کے بیچنے کی ضرورت ہی نہیں میرا تو ایک آٹو گراف میرے پرستار کروڑوں میں خرید لیتے ہیں، تو دوسری طرف کہا کہ یہ تحفے عمران کو ملے تھے، توشہ خانہ میں جمع کرائے اور پھر قانون کے مطابق خرید کر بیچ دیے کون سا جرم کیا ہے؟ حالانکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ تحفے عمران کو نہیں وزیراعظم پاکستان کو ملے تھے، قوانین کے مطابق وزیراعظم ایسے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروانے کا پابند ہے، البتہ جمع کروانے کے بعد اگر وہ چاہے تو رعایتی نرخ پر خرید سکتا ہے، مگر یہ رعایتی نرخ ایسا نہ ہو کہ جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچے، لہٰذا ایک عمومی اصول کے مطابق 50 فی صد تک رعایت دی جا سکتی ہے، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تحفے مفت نہیں ملتے، ہر وصول شدہ تحفے کے بدلے حکومت پاکستان بھی غیر ملکی مہمانان کو تحفے تحائف دیتی ہے۔ اس لیے ایسے تحائف کا اخلاقی تقاضا یہ ہے آپ وہی تحفہ توشہ خانہ سے خریدیں جسے آپ رکھنا چاہتے ہوں، نہ کہ ان تحائف کی بے توقیری کرتے ہوئے انہیں بیچ کر پیسے بٹوریں۔
عمران خان کا جرم وہی ہے جس پر عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کو نیب کے ذریعے مقدمات میں پھنسایا تا کہ ان کے کرپشن کے بیانیہ کو تقویت ملے۔
عمران خان کے اپنے بیان کے مطابق ان کا تو بطور وزیراعظم لاکھوں روپے تنخواہ میں گزارہ ہی نہیں ہوتا اور مبینہ طور پر ان کے گھر کا خرچہ ترین اور علیم چلاتے رہے ہیں یا پھر یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ شوکت خانم کے زکواۃ کے پیسوں سے ان کا خرچ چلتا ہے، ایسے میں یہ سوال بھی بنتا ہے کہ عمران خان کے پاس اتنے قیمتی تحفے خریدنے کے لیے کروڑوں روپے کہاں سے آئے؟ کیا یہ کسی تیسری پارٹی سے سرمایہ کاری کروائی گئی جو تحائف بیچ کر سود سمیت ادائیگی کر دیں گے اور خود بھی کمائیں گے؟ یہ بات بھی مد نظر رہنی چاہیے کہ اگر عمران خان نے جائز ذرائع آمدن سے یہ تحائف خریدے تو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیوں نہ کیے گئے؟
کیا اس طرح انہوں نے ٹیکس چوری اور آمدن چھپانے کا جرم نہیں کیا؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب تک عمران خان وزیراعظم تھے توشہ خانے کا ریکارڈ کیوں کھولنے سے انکاری رہے؟
اگر یہ کوئی جرم تھا ہی نہیں تو پردہ پوشی کس بات کی تھی کیا اس سے دوست ممالک میں بدنامی اور جگ ہنسائی نہیں ہوئی؟
ریکارڈ کے مطابق عمران خان کو بطور وزیراعظم 58 مختلف مواقع پر 100 سے زائد تحائف ملے جن میں سے بعض سرکاری خزانے میں جمع ہی نہیں کرائے گئے، یہ بذات خود ایک جرم ہے، اور پھر جو تحائف جمع کروائے گئے انہیں 20 فی صد قلیل رقم کے عوض خریدا گیا، ایسا کرنا خواہ قانونی جرم نہ ہو مگر حب الوطنی اور ریاست مدینہ کے درس دینے والے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ سرکاری خزانے کو اس بے دردی سے لوٹے۔
ویسے اخلاقی طور پر کسی کا دیا ہوا تحفہ، خواہ آپ نے توشہ خانے سے قانون کے مطابق خریدا ہی کیوں نہ ہو، فروخت کرنا کیا کوئی باعزت، باوقار یا قابل فخر کام ہے ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ نوبت تحفے بیچنے تک آ گئی۔ آخری بات بدنیتی کا مظہر ہے، کہ وزیراعظم ہو کر قومی خزانے کی چیزوں سے کمائی کی جائے پھر تحفہ دینے والے کے جذبے اور تحفے کی قدر قیمت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔ پیسے خان جی کے ہاں جذبات اور تعلقات سے زیادہ اہم ہیں، اسی لیے تحفے بیچ دیے گئے
عمران خان نے توشہ خانہ سے کروڑوں کا سامان کوڑیوں میں خریدا اور بہت سا سامان مفت اٹھا کر لے گئے، جس کی تفصیلات یہ ہیں۔
عمران خان نے اپنے دور حکومت کروڑوں روپے کی قیمتی گھڑیاں اور لاکھوں روپے مالیت کی انگوٹھیاں انتہائی معمولی قیمت پر بیچ ڈالیں، جب کہ 8 لاکھ روپے کے تحائف مفت میں ہتھیائے۔
”مال مفت دل بے رحم“ کے مصداق ساڑھے 8 کروڑ کی گریف گھڑی ایک کروڑ 70 لاکھ میں، 15 لاکھ کی رولیکس گھڑی 2 لاکھ 49 ہزار میں،
56 لاکھ کے کف لنکس اور 87 لاکھ کی انگوٹھی 20 فیصد ادائیگی پر لی گئی، اس کے علاوہ کپتان نے توشہ خانہ سے 8 لاکھ روپے کے تحائف مفت میں ہی رکھ لیے۔
عمران خان نے توشہ خانہ سے ٹی سیٹ، لاکٹ، ٹیبل واچ، پرفیومز تک گھر لے گئے۔ ان میں ساڑھے 3 ہزار روپے کا ٹی سیٹ، 30 ہزار کا ٹیبل میٹ، 30 ہزار کا لاکٹ، ساڑھے 3 ہزار کی ٹیبل واچ، کارڈ ہولڈر، پیپرویٹ اور 30 ہزار کے پرفیومز اور عود کی لکڑی شامل ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک لاکھ 14 ہزار روپے مالیت کے مخلتف اقسام کے گلدانوں اور ایک لاکھ 11 ہزار روپے مالیت کے 6 وال ہینگنگز کی بھی کوئی قیمت ادا نہ کی، 2 لاکھ 18 ہزار روپے کے 12 ڈیکوریشن پیس بھی سابق وزیراعظم بھی کسی ادائیگی کے بغیر گھر لئے گئے۔
توشہ خانے سے مفت اٹھائے گئے مزید سامان میں ایک لاکھ 33 ہزار روپے مالیت کے 6 قالین، 5، 5 ہزار کے دو خطاطی کے فن پارے، ٹرک کا ماڈل، 20 ہزار کا لاکٹ اور 5 ہزار کا لیڈیز بیگ بھی مفت میں لیا گیا۔
اسی طرح 20 ہزار روپے مالیت کے خانہ کعبہ کے ماڈل، 6 ہزار کے بیت اللہ کی چابی والے ماڈل، 25 ہزار مالیت کے مکہ کلاک ٹاور ماڈل کے علاوہ کھجوروں، 2 جائے نماز، 2 تسبیح اور 6 بوتل شہد پر کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی جن کی مالیت 29 ہزار 700 روپے ہے۔
چیئرمین نے ساڑھے 7 ہزار روپے مالیت کے سری لنکا سے آئے قیمتی پتھر اور تسبیح، 27 ہزار کا شطرنج بورڈ اور 22 ہزار روپے کا نادر پیالہ کی بھی کوئی رقم نہیں دی۔
عمران خان نے 14 کروڑ 20 لاکھ مالیت کے تحائف کے بدلے صرف 3 کروڑ 81 لاکھ ادا کیے ، جب کہ قیمتی گھڑیوں، پرفیومز، مردانہ و زنانہ کپڑوں، زیورات اور دیگر تحائف سے بھرے چھ صندوق جن کی مالیت 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد تھی، ان تحائف میں سے ایک عمران خان جب کہ باقی تمام سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو دیے گئے۔
عمران خان کی جانب سے 38 لاکھ قیمت کی رولیکس گھڑی کے صرف 7 لاکھ 54 ہزار اور 19 لاکھ کی گھڑی کے 9 لاکھ روپے دیے گئے، جب کہ 17 لاکھ 23 ہزار روپے کی دیگر رولیکس گھڑیاں، آئی فون، مردانہ کپڑے، قیمتی پرفیومز اور والٹس کے صرف 3 لاکھ 38 ہزار 600 روپے ادا کیے گئے۔
عمران خان نے 32 ہزار روپے کا قالین صرف ایک ہزار روپے میں، ایک لاکھ 10 ہزار مالیت والا ڈنر سیٹ 40 ہزار روپے، جب کہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے کا ڈنر سیٹ 45 ہزار دے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ نہ جانے صاف چلی شفاف چلی کے دعوے دار عمران خان کیوں اپنے پیش روؤں کو جن باتوں پر مورد الزام ٹھہراتے تھے وہی سب کچھ خود کر کے چاہتے ہیں کہ انہیں چور نہ کہا جائے بلکہ وہ صادق و امین ہی کہلائیں۔
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پہ ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

