پاکستان میں معاشرتی کشمکش اور فکری بے سرا پن


ملک میں جاری سیاسی کشمکش ہماری معاشرتی کشمکش کی ایک واضح تصویر ہے۔ جمائما خان نے 2009 میں سنڈے ٹائمز کے لئے لکھے پاکستان کی سماجی اور سیاسی صورت حال پہ اپنے ایک مضمون (روزنامہ ڈان کے 8 جون 2009 کے شمارے میں اس مضمون کے اقتباسات چھپے ) میں برملا کہا کہ ”پاکستان لامتناہی تضادات کا معاشرہ ہے“ اپنی دلیل کو ثابت کرنے کے لیے اس نے متضاد اسم صفات کی مدد لی۔ مثلاً پاکستانی معاندانہ بھی ہے اور مہمان نواز بھی، غیر واضح بھی ہے اور غیر مبہم بھی، آمر بھی ہے اور روحانیت پہ بھی یقین رکھتا ہے، ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی۔

اپنے اس تجزیے کو تقویت دینے کے لئے جمائما نے پاکستانی معاشرے کے کچھ واقعات جو ان کے تجربے اور مشاہدے میں آئے درج کیے۔ سوات کے 2009 کے آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہوئے بچوں سے ہونے والی ملاقات کا (جو مینگورہ اور سوات کے درمیان اس وقت قائم جلالہ کیمپ کے متعلق ہے ) ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور زیادہ تر تعداد بے گھر ہوئے ان ہزاروں بچوں کی تھی جو آپریشن کے وقت اپنے والدین سے بچھڑ گئے تھے۔ اسی کیمپ میں موجود آٹھ سالہ ایک شرمیلی بچی نے مہمان کو اپنے ہاتھ سے بنائی تصویر کا تحفہ دیا۔ تصویر میں ہیلی کاپٹر ایک گاؤں پہ شیلنگ کر رہا تھا، تصویر میں بنے کچھ مٹی کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بچی نے کہا، ”یہ میرا گھر ہے۔ “ اس کیمپ میں دو جڑواں بھائی پیدا ہوئے اور والدین نے ایک کا نام صوفی محمد اور دوسرے کا فضل اللہ رکھا۔ غرض جمائما جس کیمپ کا ذکر کر رہی ہیں معاشرتی تضادات سے اٹا پڑا تھا۔

آگے چل کے جمائما پاکستان کی مشہور ایکٹریس اور ماڈل ایمان علی سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتی ہیں۔ جب ایمان جمائما سے ملیں تو انہوں نے کسی ہوئی جینز کے اوپر بغیر بازوؤں والا فراک پہنا تھا اور پاؤں میں کٹن ہیل جوتا تھا۔ علم نفسیات کے ذخیرۂ الفاظ میں ہمیں ایک اصطلاح
Cognitive Dissonance
( بصد کوشش میں اس کا اردو ترجمہ نہیں کر پایا) ملتی ہے۔ یہ ایک ناخوشگوار ذہنی کشمکش ہے۔ کشمکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عقائد اور ان پہ عمل دو متضاد چیزیں ہیں۔ اس ذہنی کشمکش کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب فرد سے وہ اعمال سرزد ہوتے ہیں جو اس کے عقائد، نظریات اور اقدار سے مکمل متضاد ہوتے ہیں۔ دراصل یہ ذہنی حالت متضاد معلومات کے ادراک سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً سگریٹ پینے والا بخوبی جانتا ہے کہ ایسا کرنا صحت کے لئے مضر ہے مگر نیکوٹین کی عادت کے سبب وہ اسے ترک نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی اس بری عادت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ دوسری چیزیں سگریٹ سے بھی زیادہ مضر ہیں اور وہ ان کا استعمال نہیں کرتا۔ اسے عمل اور عقائد کی کشمکش بھی کہا جاسکتا ہے۔

اس نظریے کا تخلیق کار لیون فیسٹنجر تھا جس نے یہ نظریہ 1957 میں دیا۔ معاشرتی تضاد کو سمجھنے کے لئے بہت سے تنقیدی نظریہ کے تجزیہ کار (کریٹیکل تھیوری انالسٹ) معاشرے کو اس بنیاد کے طور پر دیکھتے ہیں جس پر مسابقتی نظریات تسلط کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ انتونیو گرامچی کی پیروی کرتے ہوئے وہ سمجھتے ہیں کہ تسلط وہ ہے جو طاقت کے استعمال کے بغیر معاشرے کو جوڑتا ہے۔ یہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اعلیٰ طبقے ”فکری اور اخلاقی قیادت“ تشکیل دے کر اپنی معاشی طاقت کی تکمیل کرتے ہیں۔ اور ایسا وہ ایک نظریہ یا آئیڈیالوجی کو بنیاد بنا کر کرتے ہیں۔

کوگنیٹو ڈسونینس نظریے کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے ذہنی کشمکش کو حل کیا جاسکتا ہے مگر یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معاشرے کا طاقت ور طبقہ آئیڈیالوجی کی تشکیل کر کے ذہنی کشمکش کو حل نہیں ہونے دیتا اور ایک ایسی اخلاقی اقدار کی بنا ڈالتا ہے جو ذہنی تضادات کو مزید تقویت دیتی ہیں یعنی معاشرے میں کوگنیٹو ڈسونینس کا سبب بنتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا یا آج کل کا سوشل میڈیا یہ کردار موثر طریقے سے کرتا ہے۔ اسے اشتہارات اور اس سے پیدا ہونے والی ذہنی کشمکش یا فیک نیوز کی اصطلاح اس کی عمدہ مثالوں سے سمجھا جا سکتا۔ یوں طاقت کے استعمال کے بغیر طاقت ور طبقہ معاشرے میں اپنا تسلط قائم رکھتا ہے اور ایسا وہ یقیناً اپنی معاشی قوت کے لئے کرتا ہے۔ میں نے جمائما کے پیش کردہ معاشرتی تضادات کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ قارئین کا اس بابت فکری اختلاف سر آنکھوں پر۔

Facebook Comments HS