بہت زیادہ گرنے والے مگ اکیس کو بھارتی کیوں اڑاتے ہیں؟


مگ گرتے ہیں، لیکن بھارتی اس کی جان نہیں چھوڑتے، ایسا کیوں ہے؟ ایشیا ء کی ایک بڑی تگڑی معیشت جس کو روس اور امریکہ کی دوستی بھی حاصل ہے، جاپان اور برطانیہ کا قرب بھی حاصل، دیگر ترقی یافتہ ممالک سے بھی اس کے بہترین تجارتی مراسم، لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ سوویت دور کے مگ 21 اب تک کیوں بھارتی فضائی قوت میں شامل چلے آرہے ہیں، یہ جہاز گرتے ہیں، پائلٹ بچ جائے تو خیر ہے، لیکن نہ بچے تو عوام پھر مگ 21 اور بھارتی حکومت پر غصے میں آجاتی ہے، بھارتی میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، لیکن پھر بھی وہ اس کمبل سے پیچھا نہیں چھڑا پا رہے، ایسی کیا مجبوری، ایسی کیا لاچاری، چلیں غور کرتے ہیں یہ مسئلہ ہے کیا؟

مگ 21 شمولیت سے آج تباہی تک

جنگ ستمبر 1965 کے حوالے سے تاریخ بتاتی ہے 6 ستمبر 1965 کی شام پاک فضائیہ کے حملے میں بیشتر مگ 21 پٹھان کوٹ پر کھڑے کھڑے تباہ ہو گئے تھے، کوئی پرواز ان طیاروں کی جوابی کارروائی میں سامنے نہیں آئی۔ پھر پوری جنگ ستمبر 1965 میں مگ 21 کسی فضائی معرکے میں نظر بھی نہیں آئے، بھارتی فضائیہ میں پٹھان کوٹ پر پاک فضائیہ کے 65 والے حملے کو ٹیکسٹ بک حملے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، بعد میں دسمبر 1971 میں روس کی مکمل آشیرواد کے ساتھ جہاں بھارت کو دیگر مختلف طرح اسلحہ ملا، یہ مگ 21 بھی کافی زیادہ ملے، اور اس جنگ میں ان طیاروں کی کارکردگی کوئی بری بھی نہیں تھی، بلا شبہ ایک خطرناک حملہ آور طیارہ رہا، اس کے مقابلے میں برطانوی ہنٹر اور روسی ساختہ سخوئی ایس یو۔7 زیادہ تباہ ہوئے، مشرقی اور مغربی دونوں سیکٹرز میں بھارت کی جانب سے جنگ میں اس طیارے کی کارگردگی قابل ستائش رہی، لیکن حد ہوتی ہے کسی جہاز کے ائر فریم کی بھی لائف ہوتی ہے، ہمارے پاس بھی میراج ہیں، جو کچھ عرصہ قبل اپنی سروس کی 50 ویں سالگرہ منا چکے ہیں، لیکن ابھی تک قابل بھروسا اثاثہ تصور کیے جاتے ہیں، اسی طرح آج بھارت کے مگ تقریباً 60 سال کی سروس کے بعد گر رہے ہیں، بھارت کے سب سے معتبر اخبار ”دی ہندو“ کی تیس جولائی 2022 کی اشاعت میں اسی حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی، جس کی سورس پریس ٹرسٹ آف انڈیا ہے، خبر کے مطابق مگ اکیس کی باقی ماندہ اسکواڈرنز 2025 تک خدمات انجام دیں گی۔

 آج فلائنگ کوفنز (Flying Coffins) یعنی اڑتے تابوت کہلانے والے مگ، اب تک مجموعی طور پر 874 مگ اکیس بھارتی فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہوئے، جیسے اوپر بتایا گیا جبکہ اب تک 400 مگ گر چکے، تو 46 فیصد بنتا ہے، بھارتی نہیں مانتے کے اب وہ تیسری دنیا میں آتے ہیں، لیکن ان کی ائر فورس ابھی تک تیسری دنیا کی ہی ائر فورس ہے، جن افریقی ممالک میں یہ مگ اکیس میں زیر استعمال ہیں، وہ بھی ان کی جگہ بہتر اور نئے طیاروں کی حصول میں لگے ہیں، لیکن بھارت ابھی تک، کیوں اور کیسے؟

دنیا کی مختلف ائر فورسز میں شامل مگ اکیس

جنگ ستمبر میں (انڈین ڈیفنس ری ویو کے مطابق) 466 میں سے 36 طیارے تباہ ہوئے، بھات کی جانب سے 35 طیاروں کے نقصان کو تسلیم کیا گیا، جو اس حوالے سے ایک فیصد سے بھی کم ہے، نامور ایوی ایشن صحافی جان فریکر، بھارتی صحافی پش پندر سنگھ چوپڑا اور ائر کموڈور قیصر طفیل کے اعداد و شمار گو کے انڈین ڈیفنس ری ویو سے قدر مختلف ہیں، پش پیندر سنگھ چوپڑا اپنی کتاب ”فضائیہ ( دی سائکی آف پاکستان ائر فورس )“ کے صفحے 42 پر اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کسی بھی وجہ سے 65 ہمارے (یعنی بھارتی فضائیہ کے ) ہوائی جہاز اس جنگ میں تباہ ہوئے، پھر جنگ 71 میں بھارتی وایو سینہ (بھارتی فضائیہ) کے 110 مختلف اقسام کے طیارے تباہ ہوئے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا میں اس وقت مگ طیاروں کے حادثات پر کافی بحث جاری ہے، حالیہ راجھستان میں ایک مگ اکیس طیارہ بمعہ دونوں پائلٹس کے جو تباہ ہوا تو جیسے سوال اٹھنا دوبارہ شروع ہو گئے، گودی میڈیا (انڈین میڈیا میں مودی کے حمایت کرنے والے صحافی اور میڈیا گروپ) اس کو نئے طیاروں کی خریداری سے جوڑ رہے ہیں کہ کیوں ان کے خیال میں وہاں کے لوگ رافیل جیسے معاملات میں سیاست لے آتے ہیں، انڈیا ٹو ڈے کے مطابق 400 مگ اکیس اب تک گر چکے ہیں، جس میں دو سو پائلٹس جان سے گئے، شہریوں کی 50 ہلاکتیں ہوئیں۔

اس وقت بھارت میں 60 فیصد مگ اکیس کی لائسنس بلڈ پروڈکشن بھارتی ادارے ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹڈ میں ہوتی ہے، یعنی اس وقت کسی بھی بھارتی فضائیہ میں شامل مگ اکیس کا ساٹھ فیصد بھارت ہی میں بنتا ہے، بھارت میں مگ اکیس کے علاوہ سخوئی، جیگوار کی کچھ نہ کچھ لائسنس پروڈکشن ہوتی ہے، جو بھارت کسی اور ملک کو نہیں بیچ سکتا ہے، لیکن کم از کم اپنی ضروریات کو تو پورا کیا جاسکتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان ایرو ناٹیکل کے تیار شدہ اسپیر پارٹس بھی ان گرتے ہوئے طیاروں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، میرے خیال میں جواب نفی میں ہونا چاہیے، کیوں کہ جیسا پہلے ذکر ہوا، اور بھی دیگر اقسام کے طیارے بھارتی فضائیہ کے لئے HAL یعنی ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹڈ میں بنتے ہیں اور اسپیر پارٹس بھی تیار کیے جاتے ہیں، لیکن ان کا فال ریٹ ایسا نہیں جو مگ اکیس کے حصے میں آیا ہے۔ مگ کیوں گر رہے ہیں یا ٹپک رہے ہیں سوال اہم ہے۔

بھارت کے سابق ائر چیف وی ایس دھنواء (جو فروری 2019 میں پاک بھارت فضائی جھڑپ کے وقت بھارت وایو سینا کی قیادت کر رہے تھے ) سے پوچھا گیا کہ کیوں اب تک مگ بیڑے کا حصہ ہیں اور کب تک یوں ہی گرتے رہیں گے، وہ کہتے ہیں جب تک متبادل دستیاب نہیں ہو گا، جب تک مگ اکیس کو اڑانا ہو گا، وہ کہتے ہیں کہ کیا آج بھارتی سڑکوں پر کوئی ایسی گاڑی بھی نظر آتی ہے جو ساٹھ سال کی عمر رکھتی ہو، ان کا مزید کہنا تھا یہ طیارے اپنی لائف پوری کرچکے ہیں، بزنس اسٹینڈنڈرڈ نامی بھارتی انگریزی اخبار کی یکم اگست 2022 کی اشاعت میں جہازوں کی انڈین ائر فورس میں شمولیت کی تاریخ کا حوالے دیتے ہوئے لکھا گیا کہ گزشتہ 25 سالوں میں 874 مگ۔21 بھارتی فضائیہ کے بیڑے کا حصہ بنے 657 کو ہندوستان ایرو ناٹیکل لیمیٹڈ (HAL ) ناسک میں بنایا گیا، ہال نے مختلف اقسام (Variants ) بنائے گئے جن میں مگ 21 ایف ایل (ٹائپ 77 ) ، مگ 21 Bis قابل ذکر ہیں، 2001 ء میں مگ 21 بائسن Bison شامل ہوئے جو مگ 21 Bisبائس کا ایڈوانس ورژن ہے، ونگ کمانڈر ابھی نندن یہی مگ 21 بائسن اڑا رہے تھے، اخبار لکھتا ہے اس وقت مجموعی طور پر 4 اسکواڈرنز میں مگ 21 بائسن (MiG۔ 21 Bison ) موجود ہیں جس میں ایک اسکواڈرن میں 16 سے 18 جہاز موجود ہیں، جن کی کل تعداد 64 سے 72 بتائی جاتی ہے۔

اب فرنٹ لائن میگزین کے تجزیے کی جانب آتے جو بتاتا ہے مگ 21 کو آخر کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی، ہندوستانی وزارت دفاع نے غیر ضروری بیوروکریٹک بحث میں وقت ضائع نہیں کیا، حکومت کے طویل مدتی ساز و سامان کے حصول کی منصوبہ بندی جس کی نشاندہی 1981 میں کی گئی تھی کہ 1995 تک انڈین ائر فورس کی فرنٹ لائن صلاحیت 40 فیصد تک گھٹ جائے گی، بعد میں 1982 میں چیف آف ائر اسٹاف ٹارگیٹ تھا، جس میں 1994 ء کو مگ 21 کے تبدیلی کے سال کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔

اسی خبر میں آگے لکھا ہے کہ 1994 ء میں مگ 21 کی اپڈیشن کا معاہدہ طے پا گیا، جس میں اس وقت کے تمام تر 125 مگ 21 (ٹائپ 93 ) کو مغربی ایوایونکس سے تبدیل کرنا تھے، مارچ 2003 میں مزید 50 مگ 21 حاصل کیے گئے۔ پھر اسی صورت حال میں ایل سی اے ٹیجاز کی سست روی کے ساتھ پیش رفت بھی ایک وجہ ہے، ائر پاور ایشا نامی ویب سائٹ کے مطابق اس اپگریڈیشن کے وجہ سے مگ 21 بیانڈ ویژویل رینج میزائل فائر کرنے کے قابل ہو گیا، یعنی کم و بیش پاکستان کے پرانے ایف سولہ بلاک 15 کے ہم پلہ۔ شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ بھارتی اس طیارے کو آسانی سے خیر باد نہیں کہہ پا رہے، کیونکہ متبادل مہنگے بھی ہیں اور ان کے آنے تک ٹریننگ اور دوسری اپ گریڈیشن کا خرچہ بھی کافی ہو جائے گا۔

بھارت فرانس سے رافیل حاصل کر رہا ہے، جس میں سے تقریباً 8 سے 12 طیارے وصول ہوچکے، بھارت میں تیار کردہ لائٹ کامبیٹ ائر کرافٹ ٹیجاز ( HAL LCA Tejas ) جن کے انجن امریکی ساختہ ہیں، مجموعی طور پر 83 ایل سی اے ٹیجاز شامل کیے جانے ہیں، دو اسکواڈرنز ٹیجاز کی شامل کی جا چکی، چار اسکواڈرنز مزید شامل کی جائیں گی، پھر ایس یو 30 کے مختلف ماڈل بھارت کے پاس ہیں، میراج 2000 بطور دور مار لڑاکا بمبار کے طور پر ہے، جیگوار بھی ہیں، نیوی میں سی ہیرئر کی جگہ روس سے مگ- 29K طیارہ بردار جہازوں کے عرشے سے پروازیں جاری رکھیں ہوئے ہیں، لیکن مگ 21 کیوں ایک مستقل روگ بنے ہوئے ہیں، پھر ہم ابھی حالیہ پاک بھارت فضائی جھڑپ میں دیکھتے ہیں ایک اکیلا مگ 21 پھر بھٹکتا ہوا آیا اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کے جھپٹے کی نذر ہو گیا۔ بھارتی چینل نیوز 18 کے مطابق 1999 بھارت میں مگ 21 کی تاریخ کے حوالے سے سب سے برا رہا، اس سال مجموعی طور پر 16 حادثات رپورٹ ہوئے۔

1999 کارگل کے وقت میں بھی ایک مگ۔ 21 اور ایک مگ۔ 27 پاکستان آرمی ائر ڈیفنس کے گنرز نے مار گرائے۔ تو آخری دونوں معرکوں کی کہانی تو مختصراً انڈیا کے کھاتے میں نقصان کی صورت میں بند ہوئی اور جن دونوں جھڑپوں میں مگ۔ 21 ہی بڑی کیجولٹی (Casualty ) رہے، دونوں دفعہ مگ 21 کے بھارتی پائلٹ دھر لئے گئے۔

بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ناچی کیتا 1999 میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، جبکہ نیچے والی تصویر میں ابھی نندن صدر رام ناتھ کو وندھ سے فوجی ایوارڈ ویر چکر وصول کرتے ہوئے، باقی دونوں جانب ان دونوں پائلٹوں کی طیاروں کے ملبے واضح نظر آرہے ہیں

اب یہاں قابل غور نکات یہ ہوسکتے ہیں کہ یا تو مگ۔ 21 اب ڈاگ فائٹ کے قابل رہ نہیں گئے، اور ان کو اڑاتے رہنا بس محض ایک رسمی کارروائی ہے، یا ہندوستانی فائٹر پائلٹس کی ٹریننگ اس لیول کی نہیں، یا مگ۔ 21 وقت کے حساب سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئے، یا ائر فریم لائف ختم ہو گئی، یا مجموعی طور پر ہندوستانی ائر فورس باوجود بھارت کے تمام وسائل کے اپ ڈیٹ نہیں ہو سکی۔ پاکستان بھی چائنہ کے بنے مگ اکیس استعمال کرتا ہے، کارکردگی کے اعتبار سے کم ہونے کے باوجود ان گرنے کا رجحان بھارتی مگ کے مقابلے میں کم ہے، چائنہ والے بھی اپنے ملک میں بنے مگ اکیس استعمال کر ہے ہیں، بنگلادیش میں اس ان کا استعمال ہو رہا ہے، مشرقی یورپ میں رومانیہ، کوریشیا بھی روسی ساختہ مگ اڑا رہے ہیں، لیکن بھارت آ کر یہ ذلت اور رسوائی آخر کیوں؟ جواب تو بھارتی ہی دے سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS