ارشد شریف اور انا پرستی
سنہ 2002 میں مشرف انتظامیہ کے زیر اہتمام عام انتخابات کے دوران ملک میں الیکٹرانک میڈیا کا آغاز ہوا۔ اسی دور میں ملک میں صحافت قدرے آزاد ہوئی اور جیسا کہ عرض کیا کہ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا میں نیوز چینلز کی شروعات ہوئیں۔ ٹاک شوز میں ملکی حالات پہ نسبتاً آزادانہ گفتگو ہونے لگی۔ سب اچھا لگا۔ یہ سوال میرے لئے اہم رہا کہ جنرل مشرف کو پریس اور الیکٹرانک میڈیا کو آزاد کرنے کی کیا ایسی ضرورت آن پڑی؟ بھلا ہو ڈاکٹر کرن حسن، عمر فاروق، لبنی شاہین اور دیگر محققین کا کہ وہ کچھ خاطر خواہ جواب تلاش کر آئے۔
ایک تحقیقی مقالہ جس کی بنیادی مصنفہ ڈاکٹر لبنی شاہین ہیں میں ارسطو کا قول پڑھنے کو ملا جس کا مصنفہ نے ان دلائل کے حق میں حوالہ دیا کہ کیوں جنرل مشرف نے الیکٹرانک میڈیا کو قدرے آزاد رکھا؟ ارسطو کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو اپنی حکمرانی کے قانونی جواز کے لئے رائے عامہ کو اپنے حق میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر لبنی کی رائے میں، ”ان وجوہات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مشرف میڈیا میں تبدیلیاں لائے کہ اسے ریاست کے آلۂ کار کے طور پہ استعمال کیا جائے تاکہ داخلی اور خارجی سطح پہ حکومت کے حق میں وسیع مدد مل سکے۔ کیونکہ اس سلسلے میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے، دوسرا یہ کہ میڈیا ان ممکنات کو وسعت دیتا ہے کہ اس کے ذریعے حکمران اپنی حکمرانی کا قانونی حق جتا سکے۔ “
جب جنرل نے مارشل لاء نافذ کیا تو دنیا میں سیاسی قدریں بدل چکی تھیں اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد فوجی انقلابات ایک بوسیدہ عمل ہو چکا تھا۔ مشرف کو اپنی حکمرانی کا قانونی جواز چاہیے تھا۔ مگر مجھے عمر فاروق کی بات نے زیادہ وزن لگا۔ عمر فاروق لکھتے ہیں کہ ”انہیں مشرف دور کے ایک اہم سرکاری افسر نے بتایا کہ فوج کو یہ خیال آیا کہ پاکستان کے الیکٹرانک نیوز چینلز پاکستانی عوام کو انڈیا کے نیوز چینلز سے باز رکھیں گے۔ انڈیا کے نیوز چینلز دیکھنے کی عوام کی عادت ملک کے قومی مفادات پہ گہری زد لگا رہی تھی“
اگر ان ریٹائرڈ افسر کی دلیل کو مان لیا جائے، جو میرے لیے تو وزن رکھتی ہے، تو اسے کارگل جنگ کے سیاق و سباق میں بہتر سمجھا جا سکے گا۔ مشرف دور کے شروع کے سالوں میں انڈیا میڈیا پہ کارگل جنگ کا بہت ہنگامہ تھا۔ شاید وہ ففتھ جینریشن وار کی ابتدا بھی تھی۔ قصہ مختصر الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز کے اینکر پرسن گھروں کی ہردلعزیز شخصیات بننے لگیں۔
اینکر پرسن کے چہروں پہ رونقیں آنے لگیں۔ مشکل سے گزارا کرنے والے صحافیوں کے پاس لاکھوں آنے لگے۔ غرض ملک میں ایک نئے طبقے نے جنم لیا۔ سیاستدان بھی اینکرز کی اہمیت کو بھانپ گئے کہ یہ تو لوگوں کی رائے پہ اثرانداز ہو رہے تھے۔ دوسری سطح پہ آنے والے سیاستدان بھی اینکرز کی خوشامدیوں میں شامل ہو گئے۔ مستقل طاقت کے مسکن میں رہنے والوں کو ففتھ جینریشن وار کے لئے ایسے صحافی اینکرز چاہیے تھے جو ان کی بات کو آگے بڑھا سکیں۔
یوں طاقت کے ایوانوں کی راہداریوں میں ڈیزائنرز سوٹ پہنے وہ مغرور بانکے نظر آنے لگے۔ اب وہ طاقت کے کھیل کے حصہ دار تھے۔ میں نے ارشد شریف کو پہلی دفعہ ڈان نیوز کے انگلش چینل پہ دیکھا۔ اچھا لگا، چاکلیٹی سا، صحیح تلفظ کے ساتھ انگریزی بولنے والا نوجوان صحافی۔ اگر میری یاداشت ساتھ دے رہی ہے تو ارشد شریف اور مطیع اللہ جان ڈان نیوز انگلش میں ٹاک شوز بھی کرتے تھے۔ ڈان نیوز کا انگلش چینل بند ہوا، پھر عرصے کے بعد میں نے ارشد شریف کو اے آر وائی پہ دیکھا۔
اب تو وہ رعب دبدبے والا صحافی بن چکا تھا۔ ان دنوں ارشد کے بالوں کا سٹائل ایسا تھا کہ وقفے وقفے سے اس کے سامنے والے بال اس کے ماتھے پہ گرا کرتے تو وہ سر کے ہلکے جھٹکے سے انہیں ہٹایا کرتا۔ اس ادا پہ کچھ ناظرین اسے ”چکنا“ بھی کہنے لگے اور کل معلوم ہوا اس کے صحافی دوست اسے وحید مراد بھی کہتے تھے۔ اب وہ چھوٹی سکرین کا ہیرو تھا۔ اس کی آنکھوں میں غرور جھلکتا وہ بحث کے دوران اپنی ہر رائے کو معتبر ثابت کرنے کے لئے کبھی انگریزی فلموں کی اور کبھی انگریزی کتابوں کے حوالے دیتا۔
دوسرے سہم جاتے اور اس سمے اس کی آنکھوں میں جیت کا خمار واضح ہوتا۔ کبھی کبھی وہ سوشل میڈیا پہ اپنے جرمن شیفرڈ کی تصویر بھی شیئر کرتا۔ اشرافیہ کی جھلک آتی جب وہ جرمن شیفرڈ کے ساتھ تصویر لیتا۔ اسے خود کو نمایاں کرنا آتا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ عمران پروجیکٹ کو لانچ کرنے کے لئے اور اس کے دور اقتدار میں اسے مسیحا پیش کرنے کے لئے ٹی وی اینکرز کی مستقل طاقت کے مسکن والوں کو ضرورت محسوس ہوئی۔ بس یہیں سے ارشد شریف کو شطرنج کی چالوں میں شکست آنا شروع ہو چکی تھی۔
اب وہ بھی کچھ اینکرز کی طرح سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ بادشاہ گر بن چکا ہے۔ دیگر کچھ تو اپنی حیثیت جلد جان گئے مگر ارشد شریف اپنی انا کے ہاتھوں مارا گیا، کیونکہ وہ یہ بات خود سے نہ منوا سکا کہ وہ بادشاہ گر نہیں تھا ایک بازی گر تھا۔ بازی گر کے تماشے کی عمر کم ہوتی ہے۔ تمہیں جنت میں جگہ ملے۔ آمین!


