آزادیٔ صحافت کی موت

چوبیس اکتوبر کو سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی انتہائی افسوس ناک خبر سننے میں آئی جس نے ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی صحافی کے قتل کی خبر آئی ہو اس سے پہلے بھی کئی بار صحافیوں کے قتل اور اغوا کی خبریں سننے میں آ چکی ہیں۔ اور دیکھا جائے تو ان صحافیوں کا قصور یہ رہا ہے کے انھوں نے آزادی رائے کے حق کا استعمال کرنا چاہا۔ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہر انسان کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس حق کے استعمال کو گناہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے خاص طور پر جب اس حق کا استعمال کسی صحافی کی طرف سے ہو۔
انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر انسان کو آزادی رائے اور اس کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے تو پھر اس کے استعمال پر اغوا اور قتل ہونا انتہائی افسوس کا مقام ہے۔ ایسا ہونا آزادی صحافت کی موت ہے۔
سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان صحافیوں کا قصور کیا ہے؟ کیا ان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے اپنے آزادی رائے کے حق کو استعمال کیا اور کیا یہ اپنا یہ حق استعمال کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی سے اس کی زندگی ہی چھین لی جائے۔
اس سے بڑھ کر افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ارشد شریف کے قتل کو کینیا کی پولیس کی جانب سے ایک غلط فہمی کا نام دیا جا رہا ہے جبکہ عوام کو بھی اس بات کا پختہ شک ہے کہ ارشد شریف کا قتل محض کسی غلط کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ صحافیوں کو خاموش کروانے کا یہ طریقہ دنیا میں عام ہوتا جا رہا ہے اور حکومت ان واقعات پر افسوس کا اظہار کر کے اپنا دامن چھڑا لیتی ہے۔
افسوس کے ہم ایک اسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں اپنا حق بھی ڈر کر استعمال کرنا پڑتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اپنا حق استعمال کرنے کے جرم میں اپنی جان بھی گنوانی پڑتی ہے۔ ہم ایسے ملک کے باشندے ہیں جہاں انسانی جانوں کی کوئی وقت نہیں اور جہاں کے حکمران اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کے لیے اپنے نام نہاد اقتدار سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر افسوس کا مقام کیا ہو گا کہ ہمارا اپنا ملک ہی ہمارے لیے محفوظ نہیں اور ہمارے حکمران قیمتی جانوں کے جانے پر صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ اقتدار میں ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے انصاف کی توقع رکھنا بے کار ہے کیونکہ جب کوئی انصاف دلانا ہی نہ چاہے تو انصاف کیسے ملے گا۔

