کینیا نہیں جاؤں گا

کہا جاتا ہے کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، صحافی وہ ہوتا ہے جو کسی لالچ اور مفاہمت کے فلسفے سے دور رہ کر سچ کی آواز کو بلند کرتا ہے، معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں پر انگلی اٹھاتا ہے، انگلی کٹ جانے کا خوف سچے صحافی کی سرشت میں نہیں ہوتا، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانا اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے، یوں صحافی صحیح معنوں میں ایک معاشرے میں رہتے ہوئے ایسا مجاہد ہے جس کا قلم اس کا ہتھیار ہوتا ہے۔
پاکستان صحافت کے لئے گزشتہ کئی سالوں سے دنیا کا خطرناک ترین ملک ڈکلیئر کیا جا رہا ہے، بے شمار صحافی (زیادہ تر چھوٹے اور کم مشہور) سچ بولنے کی پاداش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، یا مختلف طریقوں سے چپ کرا دیے گئے ہیں، کسی کو غائب کیا گیا، مارا پیٹا گیا، چھوٹے موٹے ایکسیڈنٹ میں زخمی کر دیا گیا، صحافتی اداروں سے نکلوا کر بے روزگار کر دیا گیا، یا جھوٹے پروپیگنڈے سے معاشرے میں ان کو گندا کیا گیا۔
مشہور بڑے صحافی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں اس لئے یہاں ان کو چپ کرانے والے خفیہ ہاتھ کمزور ہو جاتے ہیں، وہ تھوڑے سمجھدار بھی ہو جاتے ہیں، انہیں اپنی حدود و قیود کا اندازہ رہتا ہے اور یہ اندازہ وقت کے ساتھ ان تمام صحافیوں کو کبھی نہ کبھی ایسے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ان کے اور خفیہ ہاتھوں کے دلچسپی کے معاملات ایک پیج پر آ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہو کر آپسی کمر کھجاتے ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں یہ سب کون کرتا ہے؟ سیاسی نظام تو شروع دن سے کمزور ہے، ہاں البتہ ایک ادارہ نہ صرف انتہائی مضبوط ہے بلکہ متعدد بار بلا شرکت غیر دہائیوں تک ملک کا حکمران رہا ہے، پاکستان میں آنے والا ہر سیاستدان جب تک پاور میں نہیں آتا یا جب تک پاور میں رہتا ہے اس ادارے کا نغمہ خواں رہ کر نمک حلالی کرتا ہے، چند ایک جھٹکوں کے بعد اسے جمہور یاد آ جاتا ہے، صرف چند ماہ پہلے تک انہی اداروں کی ڈھال بنے رہنے کے بعد کبھی سیاسی بالادستی اور کبھی جمہوریت کے خلاف بیرونی سازش جیسے نعرے لے کر سڑکوں پر خوار ہو رہا ہوتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں الیکٹرانک میڈیا عام ہونے کے بعد پاکستان میں تو جیسے صحافیوں کی چاندی ہو گئی، یہ سائیکل سے موٹر سائیکل پھر کار اور اس کے بعد جہازوں تک پہنچ گئے، کوئی کسی سیاسی جماعت کا بھونپو بن گیا تو کوئی اداروں کا ٹاوٹ، کسی نے آرمی چیف کو سپہ سالار کا لقب دے دیا تو کوئی ہر پروگرام میں بیٹھ کر آرمی سے پہلے عظیم اور عظیم تر آرمی جیسے لاحقے لگانے لگا۔
جس سیاسی جماعت کو اداروں کی خوشنودی درکار تھی ان کے موافق صحافی، اداروں کے موافق صحافیوں کے پیٹی بھائی بن گئے، ایسے ہی ٹی وی چینلز اور پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ان کے دست و بازو بن گئے، اور عوام معصومیت سے جہالت کا سفر تہہ کرنے لگی، جو گالم گلوچ اور نفرت کو دلائل سمجھتی ہے۔
اگر صرف صحافیوں تک محدود رہا جائے تو نظر آ رہا ہے کہ زیادہ تر صحافی بہت سمجھدار ہو گئے ہیں، وہ اس ملک کے نظام کو اچھی طرح سمجھ کر اسی کا حصہ بن گئے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ کتنا، کہاں اور کسے بولنا ہے تو ان کی دال روٹی، گھی مکھن کے ساتھ چلتی رہے گی، زیادہ مجاہد بننے کی کیا ضرورت ہے؟
گاڑی، مہنگا گھر، چار پانچ نوکر اور بچوں کی بیرون ملک تعلیم، اللہ کا دیا سب کچھ تو ہے اپنے پاس، اللہ کا یہ بھی تو حکم ہے کہ اپنی جان بچائی جائے اور اس کی دی گئی نعمتوں پر شکر۔
ان حالات میں مار کون کھائے گا؟ وہ جو اپنی اوقات سے بڑھ کر سچ کا پیامبر بننے کی کوشش کرے گا، یا وہ جو بھینسوں کی لڑائی میں حالات و واقعات کو غلط پرکھتے ہوئے کسی ایک بھینسے کا پیادہ بن جائے گا اور گھاس کی طرح مسئلہ جائے گا، یاد رہے کہ بھینسے کی خوراک گھاس ہی ہوتی ہے۔
کئی سالوں تک آرمی اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان کے لیے کوئی خدائی نعمت ثابت کرتے رہنے، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے والے صحافیوں کا مذاق اڑاتے رہنے، چھوٹے صوبوں کی تحریکوں کو غداری سے منسوب کرتے رہنے، سیاسی نظام کو خدا کا عذاب اور آرمی ڈکٹیٹرز کو نجات دہندہ قرار دیتے رہنے کے بعد ، موجودہ حالات میں جہاں پاکستان کے مضبوط ترین ادارے میں ایک ڈویژن نظر آ رہی ہے، بہت سے صحافی محتاط ہو گئے ہیں، لیکن کچھ نادان موقع پرست صحافی اسے ایک موقع جان کر مستقبل میں لمبی چھلانگ لگانے کے چکر میں ہے۔
یاد رہے کہ یہ چھلانگ آپ کو کینیا بھی پہنچا سکتی ہے، کینیا میں جاتے تو آپ جہاز پر ہیں لیکن آتے سوشل میڈیا کی دعائیا پوسٹوں پر ہیں، بہتر یہی ہے کہ یا تو ہمیشہ اور پورا سچ بولیں اور یا روزانہ رات کو سوتے وقت گیارہ دفعہ ”میں کینیا نہیں جاؤں گا“ کا ورد کر کے اپنے آپ، ریفریجریٹر، بچوں اور پورے گھر پر پھونکیں، خدا سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

