بابا جی سے عالم برزخ میں ایم اے پاکستانی کی ملاقات


جی جی۔ آپ نے بڑوں سے آنکھ نہ ملانے والی بات کی ہے، میرے نزدیک ایسا کرنے سے بڑوں اور چھوٹوں کے درمیان دیوار چن جائے گی، دوریاں ہو جائیں، آنکھ ملا کر بات کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ایسے سے اپنے جذبات سمجھانا اور دوسرے کے جذبات کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔

، اچھا اچھا، اب میں سمجھا، شاید لتا نے گایا تھا، آنکھیں بڑی پاگل ہیں ہر بات بتا دیتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے؟ میں ساری زندگی یہی سمجھتا رہا، گانے، فلمیں بس ویسے ہی ہوتے ہیں تفنن طبع کے لیے، یا عیاشی، اب پتہ چلا یہ سبق آموز بھی ہوتے ہیں۔

بابا جی، ہاں ہاں کیوں نہیں، اگر ویسے ہی ہوں تو کوئی نہ دیکھے سنے، اور یہ لتا کون ہے؟
جی آپ نہیں جانتے؟ یہ ہندوستان کی مشہور سنگر ہے۔
، ہمارے وقت میں یہ مشہور نہیں تھی، ویسے بھی میں انگلش ڈرامے فلمیں پسند کرتا ہوں۔
ایم اے، جی وہ کیوں؟
اس لیے کہ ان کی اداکاری و شاعری نیچرل ہوتی ہے؟
ایم اے، جی درست ہے پر یہاں کسی کو نہ بتانا، کوئی غدار کا فتوی لگا دے گا۔

یہ آپ مجھے نہ بتائیں، میں نے لا پڑھا ہوا ہے، میں جانتا ہوں کون غدار ہوتا ہے اور کون کون سی بات غداری میں آتی ہے، کسی دوسری زبان کی فلم دیکھنا یا گانا سننا غداری میں نہیں آتا۔

ایم اے، میری بہت خواہش تھی کہ کاش آپ میری زندگی میں ہوتے، آپ سے ملتا، آپ کے پاس بیٹھتا، لوگ آپ بارے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، میں چاہتا تھا کہ آپ سے ان باتوں بارے جانوں، کوئی آپ کو بڑا سیاست دان کہتا ہے، کوئی بڑا وکیل مانتا ہے، کوئی آپ کو مذہبی اور کوئی لبرل قرار دیتا ہے، میں اسی لیے آپ سے ملنا چاہتا تھا تاکہ ڈائریکٹ آپ کو سن کر جانوں کہ آپ کیا ہیں۔

یہ تمہاری خوبی ہے کہ تم سنی سنائی پر رائے قائم کرنے کے بجائے ڈائریکٹ علم حاصل کر کے رائے قائم کرتے ہو۔ میں کتنا قابل وکیل تھا اس بارے میرے جیتے اور ہارے کیسوں کو دیکھ لیں، میرا سیاسی رتبہ چیک کرنے کے لیے آزادی کی تحریک کے دنوں کی میری تقریریں پڑھ سن لیں۔

ایم اے، آپ نے سارے جواب دیے ہیں پر اپنے مذہبی یا لبرل ہونے کا جواب نہیں دیا؟

بابا جی، وہ جواب میں نے اس لیے نہیں دیا کہ ہو سکتا ہے میرے جواب سے آپ کے جذبات کو تکلیف پہنچے۔ اگر آپ ضرور جواب لینا چاہتے ہوتو پہلے آپ بتائیں کہ، آپ مذہبی اور لبرل کے معنی کیا لیتے ہیں؟

ایم اے، جی مذہبی بس مذہبی ہوتا ہے اور لبرل وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے ننگا پھرنے پر اعتراض نہ کرے۔ اب آپ بتائیں؟

بابا جی، شاباش، تم نے بڑی عجب تشریح کی ہے۔ اگر مذہبی بس مذہبی ہوتا ہے تو پھر میں بھی مذہبی ہوں۔ لبرل کے معنی آپ نے غلط بتائے ہیں، لبرل ازم ایک سیاسی فلسفہ ہے جو شخصی آزادی، جمہوری نظام حکومت آزادی تجارت کا پر چار کرے وہ لبرل ہے، اس میں عورتوں کے ننگا پھرنے کی کوئی بات نہیں۔ لبرل بارے جو تمہارا خیال ہے اس کا اس میں کوئی ذکر نہیں، لگتا ہے تم نے لبرل کے بارے میں کچھ پڑھا نہیں بس سنا ہوا ہے۔

کیا کھڑے کھڑے ساری کہانی کرو گے؟ بیٹھو۔
ایم اے۔ آپ کے ادب احترام کا تقاضا ہے اس لیے آپ بتائیں کہاں بیٹھوں بنچ پر یا زمین پر ؟

بابا جی خوبصورت مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے، تم اب بھی اسی سوچ میں پھنسے ہوئے ہو، میں نے تمہیں بتا دیا ہے، اب تمہاری مرضی ہے، میں لبرل ہوں، میں کسی کو فورس کرنا پسند نہیں کرتا، جہاں دل کرتا ہے بیٹھو، ہاں سکس فٹ ڈسٹینس کا خیال رکھنا۔

ایم اے پاس پاکستانی مشرقی طرز کے حیاء کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنچ کی نکڑ پر سکڑ کے آدھا آڑ گیا، جیسے بڑوں کے سامنے چھوٹے احترام ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں، دل میں سوچ رہا تھا، جو بات دہائیاں لگا کے سکھائی گئی ہو وہ پلوں میں دل سے کب نکلتی ہے۔

میں نے تمہارے بیٹھنے سے اندازہ لگایا ہے کہ ایم اے کرنے کے باوجود تم میں اعتماد کی کمی ہے۔ تم نے ایم اے کیا ہوا ہے یا ایم اے تمہارا نام ہے؟

جی میں نے ایم اے کیا ہوا ہے اور اس کے بعد میرا نام ہی ایم اے پڑ گیا، آپ کی باتیں سن کر ایسے لگ رہا ہے کہ ایم اے بھی کوئی نہیں۔

بابا جی حیرانی سے، کیوں؟ ، جو باتیں میں نے آپ کو بتائیں ہیں کیا یہ تم نے پڑھی ہوئی نہیں ہیں؟
کہاں بابا جی؟
سلیبس میں اور کہاں۔
ہمارے سلیبس میں ایسی باتیں نہیں پڑھائیں جاتیں۔
بابا جی تعجب سے۔ ایسی باتیں نہیں سکھائیں جاتیں تو پھر آپ کے سلیبس میں کیا سکھایا جاتا ہے؟

جی ہمیں سلیبس کے ذریعے سکھایا جاتا ہے، فیس معافی کی درخواست، دوست سے ادھار کیمرا منگوانے کا خط، جیب خرچ کے لیے ابو کو خط لکھنا، بھینس کی راہداری، انگریزی اردو نثر نگاروں کے حالات زندگی، ولی دکنی، مغلوں کی حکومت کے عروج و زوال کے اسباب وغیرہ۔ ہاں مجھے یاد آیا بلدیہ ایڈمن کے نام عرضی لکھنا بھی سکھایا جاتا ہے، مجھے یہ بھی یاد ہے کہ سب کے شروع میں، بخدمت جناب عالی لکھنا ہوتا ہے اس کے بعد گزارش ہے، پھر منکہ مسمی اور آخر میں العرضے آپ کا تابع فرمان۔

بابا جی کا رنگ سرخ ہو گیا، غصے سے بولے، ابھی بھی یہ؟ یہ سارا تو اس نے غلام ہندوستان کو غلامی سکھانے کے لیے بنایا تھا۔ اس سے تو لوگوں کی اناء و خودداری قتل ہوجاتی ہے، اسی کو ختم کرنے کے لیے تو ہم نے آزادی کی جنگ لڑی تھی۔

بابا جی کی باتیں سنتے سنتے ایم اے پاکستانی محویت کی وجہ سے بنچ کی نکڑ سے کھسک کر زمین پر بیٹھ گیا۔

بابا جی ناراضگی کے انداز میں، میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا ہے، زمین پر مت بیٹھو، یہ تم میرا احترام نہیں میری بے عزتی کر رہے ہو، خود کرسی پر بیٹھنا اور دوسروں کو زمین پر بٹھانا انسانیت کی توہین ہے، میں اس طرح انسانیت کی توہین برداشت نہیں کر تا، تقسیم سے پہلے سرمایہ داروں کے سامنے غریب، جاگیرداروں کے سامنے کسان اور انگریز کے سامنے ہندوستانی اسی طرح بیٹھتے تھے۔

بابا جی، حکمیہ انداز میں، اٹھو اور سامنے والے بنچ پر بیٹھو۔

ایم اے پاکستانی، بابا جی، مجھ سے یہ بے ساختہ ہوا ہے پر مجھے یہ تو بتائیں زمین پر بیٹھنے میں کیا توہین ہے؟

تم کیوں نہیں سمجھتے، توہین ہے، تمہیں پتہ نہیں۔

مگر بابا جی ہمیں تو سکولوں، کالجوں، عبادت خانوں اور اس کے علاوہ بے شمار مقامات پر زمین پر ہی بٹھایا جاتا ہے اور استاد کرسی یا ممبر پر بیٹھتے ہیں۔

ہاں۔ ہاں۔ پتہ چل گیا، اس عمل سے آپ کی اتنی توہین ہوئی ہے کہ اب توہین تمہیں توہین لگتی ہی نہیں، جب بار بار کسی انسان کی اس طرح تذلیل کی جائے تو اس کی انا ڈیمج (Damage) ہوجاتی ہے، جب انا ڈیمج ہو جائے تو انسان کو پتہ چلنا بند ہوجاتا ہے کہ میرے اس ایکشن سے میری تذلیل ہو رہی ہے، تم نے لوگوں کو کبھی نہیں دیکھا تھا؟ لوگ فرشی سلام کرتے ہیں، الٹے پاؤں واپس آتے ہیں، دونوں ہاتھ سلام کے لیے آگے بڑھاتے ہیں، وہ بھی ان کے آگے جو آدھے ہاتھ سے سلام لیتے ہیں، اگر کوئی بیٹھے بیٹھے یا آدھے ہاتھ سے سلام لے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ آپ سے سلام لینا نہیں چاہتا، آپ اپنا ہاتھ بڑھا کر اپنی توہین کرتے ہیں۔

ایم اے پاس پاکستانی زمین سے اٹھ کر پھر بنچ پر بیٹھ گیا اور بولا

”حضور آپ کی باتوں سے مجھے سمجھ آئی ہے اور کچھ یاد بھی آیا ہے، بے شمار کام ہماری تذلیل کے ہوتے ہیں جو ہم کرتے ہیں، دل میں کھٹکا رہتا ہے پر سمجھ نہیں آتی کہ کھٹکا کیوں ہے“ ۔

دماغ کے کسی اندرونی خانے سے آپ کو پیغام آ رہا ہوتا ہے کہ تمہاری توہین ہو رہی ہے، اس لیے آپ کو سمجھ نہیں آتی پر کھٹکا سا لگ جاتا ہے۔ کب آپ نے ایسا نوٹ کیا تھا

Facebook Comments HS