ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث کی قبر


 

ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا۔ آپؓ کے والدین نے آپؓ کا نام ”برہ“ رکھا تھا۔ جب حضور ﷺ کے نکاح میں آئیں تو آپ ﷺ نے ان کا نام بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ حضرت میمونہؓ کا نکاح پہلے مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی سے ہوا لیکن کسی وجہ سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔ پھر ابورہم بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں آئیں۔ ان کی7ھ میں وفات کے بعد آپؓ حضور ﷺ  کے نکاح میں آئیں۔

یہ آنحضرت ﷺ کا آخری نکاح تھا اور حضرت میمونہؓ سب سے آخری بیوی تھیں۔ اسلامی تاریخ کے عظیم جرنیل خالدبن ولید حضرت میمونہؓ کے بھانجے تھے۔ ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ آپ کی ماں کی طرف سے بہن تھیں۔ آپ کی ایک بہن حضرت عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں۔ عسما بنت عمیس جو حضرت جعفر طیارؓ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت علی ؓ کے نکاح میں رہیں وہ بھی آپ کی ماں کی طرف سے سگی بہن تھیں۔ آپ کی ایک بہن کا نکاح حضرت حمزہ ؓ بن عبدالمطلب سے بھی ہوا تھا۔ آپؓ کی دیگر صحابہؓ کے ساتھ بھی رشتہ داریاں بنتی ہیں۔

سعودی عرب میں پچھلے ایک سو سال میں جہاں حکومتی پالیسی کے پیش نظر بیشتر قبریں اب اپنا نشان گم کر چکی ہیں۔ 1979 کے بعد سعودی عرب میں قدامت پسندانہ اقدامات کے بعد جنت البقیع میں ہزاروں صحابہ صحابہ اکرام کی قبریں بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکیں۔ وہیں پہ حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کی قبر انور کی نشانی آج بھی موجود ہے۔ مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے مکہ کی حدود کے آخر پہ قائم نقطہ تفتیش (چیک پوسٹ) سے چند سو میٹر پہلے سڑک کے بائیں جانب بالکل سڑک کے اوپر آپ کی قبر انور ہے۔

اسے مقام سرف کہتے ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں آپ نبی کریم ﷺ کئی نکاح میں آنے کے بعد آپ سے ملیں تھیں اور دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ عجیب اتفاق ہے کہ آپؓ کا انتقال بھی اسی جگہ پر ہوا۔ اپنے وصال سے کچھ وقت پہلے آپ نے اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن عباس خود ہی فرمایا کہ: ”مجھے مکہ سے لے چلو، کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ:“ تیری موت مکہ میں نہیں ہوگی ”۔ اور اسی طرح ہوا کہ جیسے ہی“ سرف ”میں پہنچیں تو داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ حضرت ابن عباسؓ نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور قبر میں اتارا۔ آپؓ کے سال وفات کے متعلق اگرچہ اختلاف ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ انھوں نے 51 ہ میں وفات پائی۔

گزشتہ ماہ عمرہ کی سعادت کے دوران حضرت میمونہ کی قبر پہ حاضری کا موقعہ ملا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ صرف ایک قبر ہی نہیں بلکہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ قبر اگرچہ زمین کے برابر ہے لیکن اس کے چاروں طرف ایک بڑی اینٹ سے سے چار دیواری کر کے نشاندہی کی گئی ہے۔ جو لوگ حرم کعبہ سے جاتے ہیں انہیں تھوڑا آگے جا کر یو ٹرن لے کر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے ان کے اسی ہاتھ قبر ہے۔ قبر کے گرد قریب آٹھ سے دس فٹ کے اونچی چار دیواری سے پورے احاطے کو کور کیا گیا ہے۔ دروازے کے ساتھ ایک تختی پہ آپ کا نام ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث لکھا ہے۔ اگر کوئی نشاندہی کرنے والا نہ ہو تو ڈھونڈنا کافی مشکل کام ہے۔ کیونکہ وہاں زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہی تھی۔

چار دیواری پہ کوئی چھت نہیں ہے۔ اس احاطے میں نہ کوئی پھولدار پودا تھا اور نہ ہی اگر بتی۔ کسی دوسری طرز کی کسی خوشبودار چیز کا نام و نشان بھی موجود نہ تھا۔ اس کے باوجود جیسے ہی انسان جنگلے کے بنے ہوئے مقفل دروازے کے پاس جاتا ہے تو اتنی دلفریب اور محصور کن خوشبو آتی ہے کہ یہ تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا کہ وہ خوشبو کس چیز کی ہے۔ نہایت لطیف احساس کا تجربہ ہوتا ہے خوشبو نا زیادہ تیز کہ دماغ کو چڑھنے لگے اور نا اتنی کم کہ خوشبو سونگھنے کے لیے خاص کوشش کرنا پڑے۔ خوشبو سونگھنے کے بعد ایسے محسوس ہوتا کہ جیسے انسان سونگھنے کے ساتھ ساتھ اسے کھا بھی رہا ہو۔ ایسی کئی دوسری کیفیات سے انسان کا واسطہ پڑتا جنہیں بیان کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔

خوشبو کا ایک اصول ہے کہ وہ زیادہ ارتکاز سے کم ارتکاز والی جگہ کی جانب پھیلتی ہے مگر یہاں یہ اصول قدرت بھی کام کرتا دکھائی نہیں دیتا آپ جیسے ہی دروازے سے ایک قدم نیچے اترتے خوشبو آنا بند ہو جاتی ہے۔ ہم دوپہر ایک بجے کے قریب حاضری کے لیے پہنچے تھے اور مکہ میں سورج اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا تھرما میٹر 38 ڈگری سینٹی گریڈ بتا رہا تھا لیکن 42 ڈگری سینٹی گریڈ جیسی گرمی محسوس ہونے کی نشاندہی بھی کر رہا تھا۔ اتنی کڑکتی دھوپ اور چبھنے والی گرمی میں مجال ہے جو ایک لمحہ خوشبو کم ہوئی ہو۔ ہم وہاں قریب 15 منٹ تک ٹھہرے رہے اور کئی بار دروازے کے پاس جا کر خوشبو کا احساس لیا جو کہ قائم تھا۔

کسی باقاعدہ نشاندہی نہ ہونے کے باعث شاذ و نادر ہی کوئی آتا ہے۔ ہمارے وہاں ہوتے ہوئے ایک عربی نوجوان اپنے کم سن بیٹے کے ساتھ آیا دعا مانگی اور چلا گیا باقی زیادہ تر جگہ خالی ہی رہتی ہے۔ نبی کریم کی سبھی ازواج مطہرات کی قبریں جنت البقیع میں ہیں سوائے ام المومنین حضرت خدیجہؓ اور ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث ؓ کے۔ حضرت خدیجہ ؓ کی قبر مکہ کے قبرستان جنت المعلی میں ہے جبکہ حضرت میمونہ ؓ کی قبر اس وقت ویرانے میں تھی جس کے آس پاس کوئی آبادی نہ تھی۔
آپ ؓ کے پاس جب نبی ﷺ کے نکاح کا پیغام پہنچا تو آپ ؓ اس وقت اونٹ پہ سوار تھیں اور ارشاد فرمایا کہ اونٹ اور جو کچھ اونٹ پہ ہے سب کچھ نبی کریم ﷺ کو ہبہ کرتی ہوں۔ آپ ؓ کی قبر اگرچہ ویرانے میں تھی لیکن اللہ تعالیٰ کا ان بندوں سے وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو کبھی بے نام و نشان نہیں ہونے دیتا۔ اللہ کے اس وعدے کی سب سے بڑی دلیل کے طور پہ آپ کی قبر آج بھی موجود ہے۔

Facebook Comments HS