افراد یا ادارے، تنقید کس پر کریں؟ جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام کھلا خط
افراد یا ادارے! تنقید کس پر کریں
محترمی و مکرمی عزت ماب جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب
امید ہے آپ اور اہل خانہ بفضل تعالی خیریت سی ہوں گے۔ میں نے آپ کے گزشتہ ہفتے کو لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب سے متعلق ایک رپورٹ اخبارات میں پڑھی اور چاہا کہ آپ کو خط لکھوں۔
آپ نے اپنے خطاب میں لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ اداروں کے بجائے ان میں کام کرنے والے افراد کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور ان پر تنقید کریں۔ نہ کہ اداروں پر کیونکہ یہ ریاست کے ادارے ہیں اور ان کے بغیر ملک چل نہیں سکتا۔ آپ نے اپنے ادارے سپریم کورٹ کی مثال دی کہ کہ آپ بحیثیت جج تنقید کریں مگر سپریم کورٹ بطور ادارہ پر نہیں۔ آپ نے اور بہت اچھی باتیں کیں جو کہ پریس میں آ چکی ہیں اور اگرچہ بطور جج آپ کی کارکردگی ہماری عدلیہ میں ایک روشن مثال ہے لیکن جان کی امان پاؤں تو مجھے آپ کی اس رائے سے اختلاف ہے اور وہ اختلاف وطن عزیز کے معروضی حالات میں ان اداروں اور ان میں اعلی سطح پر کام کرنے والوں کی عمومی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے ہے۔
مجھے اپنی بات کی وضاحت کرنے دیں۔ محترم جج صاحب آپ نے کہا کہ پاکستان کو عدلیہ، مقننۂ اور فوج کے ادارے کی ضرورت ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اس کو جمہوریت کی ضرورت ہے کہ جس میں عوام کے منتخب نمائندے ان کی راہنمائی کریں۔ ان کی اس بات سے بھی کوئی اختلاف نہیں۔ بات یہ ہے کہ ان تینوں اداروں یعنی عدلیہ، مقننۂ اور فوج کے تاریخی کردار پر نظر ڈالیں تو پاکستان جیسے ملک میں ان اداروں نے ہمیشہ چند لوگوں کے مفادات کا تحفظ کیا۔
منتخب راہنماؤں نے اگر سر اٹھانے کی کوشش کی تو ان تینوں اداروں کے باہمی گٹھ جوڑ نے ان کو ناکام بنانے میں موقع با موقع اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ آج کی نشست میں پاکستان کی پہلی دہائی میں ان تینوں اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہیں کیونکہ اس کارکردگی نے ایک ٹرینڈ سیٹ کر دیا اور ملک کو ایک ایسے طرز حکمرانی کی راہ پر ڈال دیا جس کا نتیجہ آج کے حالات ہیں کہ اگرچہ گردش تیز تر ہے لیکن منزل یا نشان منزل کا کوئی پتہ نہیں۔ مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ شاید یہ باتیں طبع نازک پر گراں گزریں جس کے لیے پہلے ہی معذرت
یہ تو تاریخ کا حصہ ہے کہ پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947 کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں ہوا، 11اگست کے اجلاس میں قائداعظم کو اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا اور ان کی مشہور زمانہ تقریر جس نے دراصل آنے والے دنوں میں ہماری راہنمائی کرنا تھی۔ 12 اگست کو اپنی کارروائی میں اسمبلی نے ایک کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جس کا کام اسمبلی کو پاکستانی شہریوں کے بالعموم اور اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق بارے اپنی سفارشات پیش کرنا تھا تاکہ مناسب قانون سازی کی جا سکے۔
اگلے چند سال اگرچہ تو چل میں آیا کی مصداق وزیراعظم بدلتے رہے لیکن آئین کا بنیادی مسودہ تیار کر لیا گیا اور 1954 کو اس وقت جب وہ متفقہ مسودہ اسمبلی میں پیش ہونے ہی والا تھا کہ گورنر جنرل غلام محمد (ایک بیورو کریٹ) نے 24اکتوبر 1954 کو اس آئین ساز اسمبلی کو برخواست کر دیا لیکن وزیراعظم کو اگلے انتخابات تک کام کرنے کے لیے کہا گیا۔ اسمبلی کے پریزیڈنٹ تمیزالدین نے سندھ چیف کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کردی۔
چیف جسٹس سندھ کورٹ جارج کانستنٹائن نے گورنر جنرل کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آئین ساز اسمبلی کی بحالی کا حکم دے دیا، لیکن گورنر جنرل نے اس فیصلے کے خلاف فیڈرل کورٹ (موجودہ سپریم کورٹ) میں اپیل کر دی، جہاں چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ ججوں کے پینل نے سندھ کورٹ کے فیصلے کو کینسل کرتے ہوئے ”نظریہ ضرورت“ کی بنیاد پر گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو جائز قرار دیا۔ یاد رہے کہ اس پانچ رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس منیر کر رہے تھے اور ان سمیت چار ججز نے فیصلے کے حق میں اور ایک جج نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔
آپ نے کو تو پتہ ہی ہے کہ اختلاف کرے والے جج کا نام جسٹس اے آر کارنیلیئس تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی، آپ نے اپنی تقریر میں جسٹس کانسٹنٹائن کو وائیٹ لسٹ، جب کے جسٹس منیر کو بلیک لسٹ میں شامل کیا۔ کاش آپ تین دوسرے ججز کے ناموں بارے بھی اپنی رائے کا اظہار کر دیتے۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ فیڈرل کورٹ کے چار پاکستانی ججز نے آئین ساز اسمبلی کو نہیں بلکہ ملکہ برطانیہ کے نمائندہ کی حیثیت سے گورنر جنرل کو اختیارات میں فوقیت دی کیونکہ ان کے خیال میں پاکستان ابھی ایک آزاد ملک نہیں تھا بلکہ سلطنت برطانیہ ہی کی ایک ڈومینین تھی۔ جسٹس کارنیلیئس کے فیصلے کے مطابق پاکستان دولت مشترکہ میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل کر چکا تھا۔
فیڈرل کورٹ کے اس ”نظریہ ضرورت“ کو اگلی نصف صدی تک منتخب حکومتوں کو ختم کرنے اور فوجی آمریتوں کو جائز قرار دینے کے لیے اپنے اپنے وقت کی سپریم کورٹ نے بطور ادارہ استعمال کیا۔ جہاں ہماری سپریم کورٹ نے قومی نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کی پاس کردہ آئینی ترامیم کو رد کیا، وہیں اس ادارے نے تمام فوجی آمروں کو آئین میں اپنی مرضی سے تبدیل کرنے کی اجازت دے دی۔ بات کہیں اور نکل گئی، چلیں واپس 50 کی دہائی میں چلتے ہیں تاکہ تصویر مکمل ہو سکے۔
مولوی تمیزالدین ناکام واپس ہوئے اور 28 مئی 1955 کو گورنر جنرل کے حکم کے تابع اسی اراکین پر مشتمل دوسری آئین ساز اسمبلی تشکیل دی گئی، یاد رہے کہ اس اسمبلی کے ارکان کا حلقہ انتخاب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں موجود صوبائی اسمبلیاں تھیں۔ سیاستدانوں نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں آئین پاکستان کو تیار کر کے اسمبلی سے منظور کروا لیا اور گورنر جنرل کے دستخط کے بعد 23 مارچ 1956کو ملک میں نافذ بھی ہو گیا۔
آج کل جو ہم 23 مارچ کو چھٹی کا دن مناتے ہیں تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ یہ آئین کے نافذ ہونے کی خوشی میں یوم جمہوریہ کے نام سے منایا جاتا تھا۔ آج شاید کسی کو یاد بھی نہ ہو۔ یہ ایک پارلیمانی نظام تھا جس میں اصل اختیارات وزیراعظم کے پاس تھے۔ صدر پاکستان کے عہدے پر میجر جنرل اسکندر مرزا منتخب ہو چکے تھے۔ جنہوں نے 1954 میں مشرقی پاکستان میں منتخب حکومت کو ختم کر کے مارشل لا لگایا تھا اور بیورو کریٹ غلام محمد کی جگہ گورنر جنرل کا عہدہ سنبھال ہوئے تھے۔
دو سال مشکل سے گزرے تھے کہ 7 اکتوبر 1958 کو آئین کو منسوخ کر دیا گیا، قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گیں اور مارشل لا کا نفاذ کر دیا گیا، حالانکہ 1959 کے شروع میں انتخابات کا انعقاد ہونا تھا۔ صرف بیس دن کے بعد پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کو ہٹا کر جنرل ایوب خود صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ اس بار کسی نے بھی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا کہ عقل مند کے لیے چند سال پرانا تجربہ ہی کافی تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارشل لا کے نفاذ کے بعد اولین اقدامات میں ایک آئینی کمیشن (فروری 1960) کا قیام تھا جس کا مقصد پاکستان کے معروضی حالات کی روشنی میں جمہوریت کے قیام اور اس کی مضبوطی کے کیے سفارشات تیار کرنا تھا۔
ان اگلے ایک ڈیڑھ سال میں اس کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں نیا آئین تیار کر کے یکم مارچ 1962 کو ملک کے عوام کو دیا۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے ہنسی اور رونا دونوں کے بیچ فرق مشکل ہو رہا ہے کہ کس طرح ان تینوں اداروں کے پالیسی سازوں نے عوام کے منتخب افراد کے تیار کردہ آئین کاوش اداروں کو کتنے آرام سے تباہ کر دیا۔ اگرچہ اس تباہی کے ذمہ دار افراد کی پہلی صف میں اکثریت یونیفارم میں تھی لیکن آئینی کمیشن کی ممبر شپ میں دوسرے دونوں اداروں کی مکمل شمولیت رضامندی کے ساتھ تھی۔ اور اس کو اخلاقی اور قانونی جواز فراہم کر رہے تھے۔
وطن عزیز کے شروع کے دنوں کے اس مختصر سے جائزے میں ایک بات تو واضح ہو گئی کہ اگر چہ یہ افراد ہی تھے جنہوں نے اپنے اپنے اداروں کی آڑ میں عوام کے حقوق کو غصب کیا اور عدالتوں نے بحیثیت مجموعی ان غاصبوں کا ساتھ دیا۔ اسی طرح ہماری مقننۂ جو کہ اپنے وقت کے بظاہر ذہین افراد پر مشتمل تھی اس کی منصوبہ بندی اور ان تینوں اداروں کے گٹھ جوڑ سے جو انتظامیہ وجود میں آئی اس نے پاکستان کا وہ حال کر دیا کہ آج آپ کے سامنے ہے۔
اس انتظامیہ کے نظام حکومت کی بنیاد اپنے چند طبقوں کے مفادات کی حفاظت اور ایسی پالیسیوں کا نفاذ تھا جنہوں نے عوام کی زندگیوں سے بہت کم واسطہ تھا۔ اس دہائی میں جب ہمارے ہمسائے ملک کی انتظامیہ امریکہ سے جدید تعلیمی اداروں کے قیام میں مدد مانگ رہی تھی تو ہمارے پالیسی ساز امریکہ کے علاقائی دفاعی معاہدوں میں شرکت کو کامیابی سمجھ رہے تھے۔ جب کسی نے اس کے بارے میں آواز بلند کی تو اس سلسلے میں اس انتظامیہ نے ہر حر بہ استعمال کیا۔
لوگوں کے مذہبی جذبات ہوں یا سرد جنگ میں وطن عزیز کو ایک فریق کے حق میں جھونکنا، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا ہوں یا کسی بھی اٹھتی آواز کو دبانا سب جائز سمجھا گیا۔ ان اداروں اور ان میں کام کرنے والے پالیسی سازوں کی بدولت، جب سے ہوش سنبھالی ہے، وطن عزیز کو نازک حالات میں ہی پایا ہے۔ ہر آنے والی حکومت خزانے کے خالی ہونے کی نوید سناتی ہے اور دور کیوں جائیں قابل احترام قاضی فائز عیسی صاحب آپ کے مختلف فیصلے خود اس بات کے شاید ہیں، کہ کس طرح مختلف ادارے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔
آپ نے تو خود ان کی بے بنیاد توجہ کی وجہ سے تکالیف اٹھائی ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہی پاکستانی جب ملک سے بظاہر جاتے ہیں تو اپنی صلاحیتوں سے دنیا کے تمام بڑے اداروں اور ذمہ داریوں کے اہل سمجھے جاتے ہیں اور ان اداروں کو نہ صرف چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
میں آپ سے بصد احترام اختلاف کرتے ہوئے آپ کی توجہ اس بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارا موجودہ نظام حکومت، جو درجہ بہ درجہ ضلعی سطح سے شروع ہو کر وفاقی سطح تک ترتیب دیا گیا ہے، صرف چند طبقات کے مفادات کے لیے ہی ہے؟ اور اگرچہ قدرتی اصولوں کے مطابق اور انسانی تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ فطری طور پر اچھی طبعیت کے ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے انسانی کارکردگی کا دار و مدار مروجہ نظام حکومت پر ہی ہوتا ہے اور یہ ہمارا موجودہ نظام حکومت سوائے خود غرضی کے کچھ اور نہیں پنپنے دیتا۔
آپ نے اپنی بلیک، وائیٹ اور گرے لسٹ میں جو نام شامل کیے بھی ہیں تو وہ سب اپنے اپنے اداروں یعنی فوج اور عدلیہ کے سربراہان کے ہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ مقننۂ میں سے بھی ناموں کی لسٹ مرتب کر سکتے ہیں۔ ان لسٹوں میں موجود تمام افراد اپنے اپنے اداروں کے پالیسی ساز تھے اور ان کے ایک ایک فیصلے نے کروڑوں افراد اور پورے ملک کی قسمت کو بدل کے رکھ دیا۔ میرا جیسا انسان جو عام طبقات سے تعلق رکھتا ہے اس کے لیے عدالت کا مطلب تو مجسٹریٹ یا زیادہ سے زیادہ ضلعی سطح تک ہی، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تو قسمت اور پیسے والوں کے لیے ہیں، جہاں مراعات یافتہ حکمران طبقوں کے درمیان عوام کے نام پر لڑی جانے والی لڑائی کے فوائد تو وہ افراد یا گروہ حاصل کرتے ہیں۔
اس نظام حکومت کی خوبی تو یہ ہے کہ اس کا تمام خرچ تو ٹیکس کے نام سے عوام ہی ادا کرتے ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں کیونکہ بالواسطہ ٹیکس زیادہ ہوتے ہیں جو تقریباً ہر شہری کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اگر کبھی مناسب سمجھیں تو کسی عام آدمی کے بجلی، گیس وغیرہ کے ماہانہ بل کا مطالعہ اس نقطہ کو واضح کر دیے گا۔
میں نے آپ کی وسعت نظری اور منصف مزاجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ چند سطریں لکھی ہیں۔ امید ہے درگزر کریں گے
والسلام
فقط ایک عام آدمی


