مقبوضہ کشمیر کا پلاٹینم یوم تاسیس اور یوم سیاہ


آزاد جموں و کشمیر کا 75 واں یوم تاسیس۔ 24 اکتوبر کو اس تجدید عہد کے ساتھ منایا گیا کہ بھارت کے ناجائز قبضے سے جموں و کشمیر کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ دن کا آغاز کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعاؤں سے کیا گیا۔ بلاشبہ، کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی چاہتے ہیں۔ جموں و کشمیر کی آزادی کا سفر ابھی جاری ہے۔ کشمیری عوام نے اپنے حق خودارادیت کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

بھارت نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر شب خون مارا اور بھارت نے لاکھوں غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل جاری کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی کی۔ بھارت کی فاشسٹ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ 75 سال قبل کشمیری عوام نے لازوال قربانیوں کی بدولت آزاد جموں و کشمیر حکومت کی بنیاد رکھی، کشمیریوں نے ثابت کیا کہ وہ ہر قیمت پر بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کا بچہ بچہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح حق خودارادیت کے جذبے سے سر شار ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو شکست دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ 5 اگست 2019 ع کے غیرقانونی اقدامات سے بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

24 اکتوبر 1947 کو اسی دن آزاد جموں و کشمیر کے بہادر اور عظیم سپوتوں نے اپنی سرزمین کو غاصب ڈوگرہ راج کے چنگل سے آزاد کروایا تھا۔ برطانیہ میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والی ہماری نوجوان نسل کو ان تاریخی واقعات سے آگاہ کریں جو تحریک آزادی کشمیر کے قیام کا باعث بنے جب کہ آزاد کشمیر کے حکمران طبقے کو بھی اس خطے کے قیام کے مقاصد یاد دلائے جانے چاہئیں کہ آزاد کشمیر کا اصل مقصد مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے ایک بیس کیمپ کا کردار ادا کرنا تھا۔

ان چہروں کو بھی ایکسپوز کیا جائے جنھوں نے بیس کیمپ کو اقتدار کے کیمپ میں بدل دیا۔ ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جو آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کو دبائے رکھنا چاہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو آزاد کشمیر کے عوام کو ڈوگروں کے ظالمانہ دور کی یاد تازہ کرا دیتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو آزاد کشمیر کے عوام کو جمہوری نظام دینے کے حق میں نہیں تھا۔ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا اس لیے کشمیری شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کے علاوہ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کی جلد کامیابی اور آزاد جموں و کشمیر کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں لیکن اس خطے کو طویل عرصہ تک محرومیوں کا شکار کرنے والے ان عناصر کے چہروں کو بھی کشمیری عوام کے سامنے لایا جائے خواہ وہ آزاد کشمیر میں ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطے میں اب وقت آ گیا ہے کہ ان کو بے نقاب کیا جائے۔

ہر دور کے بھارتی حکمرانوں نے نہرو کے عالمی اور علاقائی برادری سے کیے گئے وعدوں کو اہمیت نہ دی۔ آج مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ پچیس لاکھ نہتے کشمیری، آزاد کشمیر کے 40 لاکھ باسی، گلگت بلتستان کے 12 لاکھ عوام، 20 لاکھ بے گھر مہاجرین جموں و کشمیر اور 15 لاکھ سے زائد کشمیری تارکین وطن ہر روز ہندوستانی حکمرانوں کے ضمیر پر دستک دیتے ہیں، اور انھیں جواہر لعل نہرو کے علاقائی اور عالمی برادری سے کیے گئے وعدے یاد دلاتے ہیں۔ اس کے با وجود، ہندوستانی حکمران، نہرو کے وعدے پر عمل نہ کر کے، بے حمیتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔

یوم تاسیس کشمیر منا کر ، جہاں ہم اپنے بزرگوں کو آزاد ریاست جموں و کشمیر کے لیے جد و جہد پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، وہیں ہم اس عزم کو بھی دہراتے ہیں کہ ہماری جد و جہد تب تک جاری رہے گی، جب تک ہم مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کے غاصبانہ قبضے سے آزاد نہیں کروا لیتے۔

27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے ریاست جموں و کشمیر میں فوجیں اتار کر ریاست کے ایک حصے پر ناجائز قبضہ کیا، جس کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں بسنے والے کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا تھا، اس دن بھارت نے اپنی افواج کشمیر میں داخل کیں اور کشمیریوں کا حق آزادی چھین لیا تھا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 75 سال سے یہ دن ”یوم سیاہ“ کے طور پر منا کر عالمی برادری کو باور کروا رہے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے جس کا قطعی کوئی اخلاقی، قانونی و آئینی جواز نہیں ہے۔ بھارت اپنے اس ناجائز قبضہ کو مہاراجا کشمیر کی اس قرارداد کے حوالہ سے درست قرار دیتا ہے کہ اس نے کشمیر کے بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ حال آں کہ یہ صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے دراصل مہاراجا نے کشمیر کے بھارت سے الحاق کی قرارداد پر دستخط نہیں کیے تھے بل کہ وہ جعلی تھے۔

بھارتی لیڈر جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ کے علاوہ اپنے ملک کے اندر بھی کئی مقامات پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کروائیں گے لیکن ان وعدوں کو 75 سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ بھارت نہ صرف عالمی ادارہ کی منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں حائل کر رہا ہے بل کہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کے لیے من گھڑت اور بے بنیاد جھوٹے دلائل دے رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مقدمہ کشمیر کے وکیل پاکستان کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا کر رہا ہے۔

گزشتہ برس ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق بارے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے روح فرسا مظالم کی رپورٹیں شایع ہوئیں تو مودی سرکار نے انھیں مسترد کر کے عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ، پر طمانچہ رسید کر دیا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے اسرائیل طرز کے ظالمانہ اقدام کر رہا ہے۔

پاکستانی حکومت نے بھارت سے سفارتی تعلقات کی سطح کم کی، تجارت بند کی۔ جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو یہ بتانا ہے کہ بھارت اس خطے میں جنگ کے حالات پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان ایسی سخت کارروائیوں پر مجبور ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے روح فرسا مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرے۔ مقدمہ کشمیر کے تین فریق کشمیری عوام، پاکستان اور بھارت ہیں پاکستان نے تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں و اقدامات کیے اور 155 بار مذاکرات کی میزیں سجائی گئیں لیکن بھارتی حکمرانوں اور قیادت کی ہٹ دھرمی کی وجہ، سے نتیجہ صفر رہا۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تنازع کشمیر اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہو گا۔

آج تک بہادر، با شعور کشمیریوں نے بھارت کا تسلط قبول نہیں کیا ہے۔ اگر تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو بیسویں اور اکیسویں صدی میں دنیا کے کسی بھی خطے میں یہ طویل ترین جنگ آزادی ہے۔ پاکستان کی مختلف حکومتوں نے کشمیر کے عوام کی اس جد و جہد میں سفارتی، سیاسی مدد کی ہے۔ لیکن یہ کشمیریوں کی خالص اپنی جد و جہد ہے۔ یہ جد و جہد اپنا ایک منطقی جواز رکھتی ہے کہ جغرافیائی، اقتصادی، عمرانی اور دینی کسی حوالے سے بھی کشمیر بھارت کا حصہ بن ہی نہیں سکتا تھا۔ تاریخ بھی یہ کہ، رہی ہے، جغرافیہ بھی، اور اقتصادیات کے اصول بھی۔ بھارت کی نہرو حکومت سے لے کر مودی سرکار تک سب نے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں، فوج کی نفری میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، مگر کشمیر میں آزادی کی لڑائی کو کبھی بھی ختم نہیں کیا جا سکا۔

لمحۂ فکریہ ہے کہ پاکستان جس پر کشمیری عوام تکیہ کیے ہوئے تھے اور اپنی تمام تر قربانیوں کے باوجود پاکستان کو اپنا وکیل گردانتے تھے آج اس میں حالات قابل رحم حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ عوام حکومت سے، مقتدر اداروں سے نہ صرف نالاں ہیں بل کہ دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اور حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ با اختیار شخصیات اور اداروں نے پاکستان کی کشتی کو بے یار و مددگار بھنور میں چھوڑ دیا ہے۔ اغیار میں بیٹھ کر پاکستان کے حصے بخرے کرنے کے پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں بارے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور اس پر سبھی خاموش نظر آتے ہیں۔ ہم اس قدر اپنی اپنی ذات کے لیے جذباتی ہو گئے ہیں کہ کسی کی ہلکی سی تنقید مثبت یا منفی ہمارے اوپر گراں گزرتی ہے اور ہم اس کو برداشت کرنے یا اس کا مثبت جواب دینے کے بجائے سبق سکھانے کی بات کرتے ہیں۔

عوام کا یہ حال ہے کہ جو جس جس سے وابستہ ہے اس کے بداعمال اس کی نظر میں نہیں اور جس سے وابستہ نہیں اس میں ہر انداز میں کیڑے نکال رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں اور اس ملک کے لیے سوچنا چاہیے یا ہمیں ان شخصیات کی پوجا کرتے رہنا ہے جو کہ ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

آزاد کشمیر جو ہمارا بیس کیمپ ہے اسے صرف حکمرانی کے مزوں کے لیے مختص کر دیا گیا ہے اور حرام ہے کہ کبھی ہمارے منتخب نمایندوں نے سوچا بھی ہو کہ ہم نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے بھی کچھ کرنا ہے۔

یوم تاسیس یا یوم سیاہ صرف منانے کے لیے نہیں تجدید عہد کے لیے ہیں۔ آئیں! مل کر اپنی ذمہ، داریوں کا احساس کریں، احساس دلائیں اور اس کے لیے کام کریں۔ ورنہ ”ہمارا نام تک بھی نہ ہو گا داستانوں میں“ ۔

Facebook Comments HS