ایک شادی شدہ ہندو عورت کا اغوا اور منصف کا انصاف


وہ ایک ہندو عورت تھی، شادی شدہ اور 5 بچوں کی ماں، سندھ میں ہندو مرد و خواتین دونوں ہی محنت مزدوری کرتے ہیں تو ہی ان کا گھر چلتا ہے، سو وہ بھی مل میں مزدوری کرتی تھی۔ 4 خواتین ایک ہیں رکشہ میں جاتیں، وہ خواتین بھی اس کی رشتے دار اور پڑوسی تھی، خیر وہ 2019 کے مارچ کا مہینا تھا جب وہ رکشہ میں سوار ہو کر مل گئی، اتفاقا باقی خواتین اس دن مل نہیں گئی۔ رکشہ والا اس کو مل نہیں اپنے گھر لے کر آیا، جہاں اس کو ایک کمرے میں بند کیا، دو دن کے بعد ایک اسلامی دارالعلوم لے گیا جہاں اس کی رضا کے برعکس کلمہ طیبہ پڑھایا۔ دوسرے دن اس کا نکاح پڑھا لیا گیا۔

جس رکشہ میں وہ سوار ہو کر مل جاتی تھی، دراصل اس کی نیت میں فتور آ گیا تھا وہ جانتا تھا جہ مائی ہندو ہے، 5 بچوں کی ماں ہے، اور شادی شدہ ہے پر پھر بھی اس کو اغوا کر کہ 2 دن کمرے میں بند کر کے تیسرے دن نکاح کر لیا۔

ادھر عورت کے شوہر نے اغوا کے بعد ایف آئی آر درج کروائی، جس کی وجہ سے اغواکار خاتون کے ساتھ نکاح کر لیا۔

خاتون موقع پاتے اغواکار کے گھر سے نکل کر پولیس کے پاس آئی تو جج کے سامنے بیاں دیا کہ وہ ہندو ہے شادی شدہ ہے اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس کو اغوا کر کر کے اس کی عزت خراب کردی گئی۔ وہ اپنے ہندو شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔

کورٹ میں اس طرح کے کیسز میں عورت کے بیان دیکھتی ہے۔ وہ عورت کہتی رہی کہ اس کو اغوا کیا گیا۔ لیکن جب ملزم ضمانت لینے عدالت پہنچا تو نہ صرف معزز جج نے ضمانت دی لیکن یہ بھی بولا کہ عورتیں مرضی سے گھر سے نکلتی ہیں اور گھر والوں کے برین واش کرنے پر اغوا کار ملزموں کے خلاف مقدمات کرتی ہیں۔

تو یہ ہے ہمارا مصنف اور انصاف کا سسٹم۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments