’پاک بین‘ کا دورہ زمبابوے اور شائقین کو ملنے والا ’دھوکہ‘: ’میں نقلی تھا لیکن پاکستان ٹیم اصلی ہے‘


پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سلسلے میں آج ہونے والا میچ ناصرف پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے بلکہ زمبابوے کے چند شائقین کے لیے یہ ایک چھ سال پرانے ’دھوکے‘ کا بدلہ چکانے کا موقع بھی ہو گا اور اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی ٹیم آج یہ میچ ضرور جیتے۔

اتنا ہی نہیں زمبابوے کے ایک کرکٹ مداح کی جانب سے کی جانے والی استہزائیہ ٹویٹ پر پاکستان کے شائقینِ کرکٹ نہ صرف کافی محظوظ ہوئے بلکہ کئی پاکستانی شائقین اس معاملے کو سنجیدہ سمجھ کر زمبابوے کے شائقین کو اصلی اور نقلی کا فرق سمجھاتے نظر آئے۔

ہوا کچھ یوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستانی ٹیم کی پریکٹس کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کی گئیں جس کے ساتھ کہا گیا کہ ’یہ اگلا چیلنج ہے۔‘

اس ٹویٹ کے جواب میں زمبابوے کے ایک شہری نے ٹویٹ کیا کہ ’ہم بطور زمبابوے کے شہری آپ کو معاف نہیں کریں گے۔۔۔ ایک بار آپ نے ہمیں مسٹر بین روون کی جگہ دھوکے باز مسٹر بین دیا تھا۔۔۔ ہم یہ معاملہ کل حل کریں گے۔ دعا کرو کے بارش آپ کو بچا لے۔‘

کسی پاکستانی صارف نے پوچھا کہ بھائی مسئلہ ہے کیا؟ تو ان کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا ’انھوں نے اصلی مسٹر بین کی جگہ ہماری ایک تقریب میں پاکستانی مسٹر بین کو بھجوا دیا تھا۔‘

ان کی اس ٹویٹ پر ایک صارف دنویر نے لکھا ’پاکستانی آپ کو مسٹر بین کیسے دے سکتے ہیں؟ کیا اصلی مسٹر بین پاکستانی ہے؟ قصور ایونٹ آرگنائزر کا ہے جو اصلی مسٹر بین کی میزبانی نہیں کر سکتا تھا اس لیے اس نے اپنے پیسے بچانے کے لیے اس نقلی مسٹر بین کا بندوبست کیا۔‘

پاکستانی مسٹر بین زمبابوے کب اور کیا کرنے گئے تھے؟

پاکستانی مسٹر بین جو خود کو ’پاک بین‘ کہلواتے ہیں ان کا اصلی نام آصف میمن ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز ان کے سنہ 2016 میں کیے گئے زمبابوے کے دورے کی ہیں۔

انھوں نے بتایا کے وہ سنہ 1990 سے اپنا کاروبار کرتے ہیں تاہم سنہ 2010 میں حبیب بینک نے انھیں اپنا برانڈ ایمبیسیڈر بنایا تو انھیں شہرت ملی۔ جس کے بعد وہ بحیثیت پاکستانی مسٹر بین نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ زمبابوے ایک انڈین تاجر محمد عارف کی دعوت پر گئے تھے۔ انھوں نے بتایا ’مجھے وہاں جانے پر جو پروٹوکول دیا گیا میں خود حیران تھا۔ میرے آگے پیچھے اس قدر گاڑیاں تھیں کہ مجھے لگا شاید میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے۔ لیکن بعد میں دیکھا یہ تو صرف میرے لیے تھا۔ پروٹو کول ایسا تھا جسیے ہمارے ہاں کسی وزیر مشیر کو دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران انھوں نے مختلف شہروں میں دس مقامات پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اور اس دوران تمام بینرز پر واضح الفاظ میں ’پاک بین‘ لکھا گیا تھا جس کا مطلب تھا کہ لوگوں سے بالکل دھوکا نہیں کیا گیا تھا کہ انھیں اصلی مسٹر بین دیکھنے کو ملیں گے۔

آصف میمن کے بقول چھ سال میں پہلی بار انھوں نے اس دورے سے متعلق سوشل میڈیا پر ایسا ردعمل دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو وہ سوشل میڈیا پر کمنٹس دیکھ کر ناراض ہوئے تھے اور پھر انھیں تھوڑا افسوس ہوا۔۔ ان کا کہنا تھا کہ زمبابوے کے لوگ بہت پیار کرنے والے ہیں اور انھیں خود کو دیا گیا گرم جوش استقبال اب بھی یاد ہے۔

محمد آصف یعنی پاک بین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے بعد سے وہ کسی غیر ملکی دورے پر نہیں گئے تاہم وہ کئی ملکوں میں پاکستانی بین کی حیثیت سے پرفارم کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’پہلے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اصلی مسٹر بین آ گئے ہیں لیکن جب میں بولنا شروع کرتا ہوں تو لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔‘

پاکستان کے زمبابوے کے خلاف میچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نقلی مسٹر بین تھا لیکن ہماری کرکٹ ٹیم اصلی ہے اس لیے وہ اچھا کھیل کر میچ ضرور جیتیں گے۔‘ 

سوشل میڈیا پر بحث

 

اس موضوع کو لے کر سوشل میڈیا پر اس قدر دلچسپ تبصرے ہونے لگے کہ پاکستان میں مسٹر بین ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔ کچھ شائقین کا کہنا تھا کہ اب یہ میچ پاکستان اور زمبابوے کا نہیں بلکہ زمبابوے بمقابلہ مسٹر بین ہے۔

ایک اور پاکستانی صارف نے لکھا ’مسٹر بین آج آپ جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں، کل ہمارے کھلاڑی  کھیلیں گے۔‘

ایمن شہیل نامی صارف نے لکھا ’زمبابوے کے شہریوں سے معذرت، ہم اگلی دفعہ احتیاط کریں گے بطور ہرجانہ اگلی بار شو کرنے کے لیے پروفیسر سرگیؤ ماکوینا کو شو کرنے کے لیے بھیجیں گے۔ بس کل ذرا آرام سے کھیلنا۔‘

کچھ صارفین اور پاکستان میں مختلف سلیبریٹیز جیسے دکھنے والے افراد کی تصاویر شیئر کرنے اور میمز بنانے لگے۔ انھیں میں سے ایک صارف عبدالباسط جنجوعہ کا کہنا تھا ’میں  اس کی سختی سے مذمت کرتا ہوں اور ہم کشیدگی ختم کرنے کے لیے تصفیے کے طور پر شاہ رخ خان کو بھیج رہے ہیں۔‘

ٹوئٹر صارفین صورتحال کا لطف لیتے ہوئے استہزائیہ تبصرے کرتے نظر آئے۔ نامعلوم افراد نامی ٹوئٹر ہنڈل نے لکھا ’ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ہم دفتر خارجہ سے اس بابت فوری معافی اور وضاحت کی توقع کر رہے ہیں۔ ہم کرکٹ میں دشمنیاں نہیں چاہتے۔‘

اذہان مرزا نے اس صورتحال کے پیش نظر آج کے میچ کا نیا بینر بنا ڈالا۔ جس کا عنوان تھا ’دنیا مسٹر بین بمقابلہ پاکستانی بین کے لیے تیار نہیں۔‘

حجاب زاہد نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ’مسٹر بین تنازع کی وجہ سے کل کے میچ کے حوالے سے جوش و خروش صفر سے 100 پر چلا گیا ہے۔ اگر سٹیڈیم میں کوئی مسٹر بین کے حلیے میں نہیں آتا تو وہ موقع ضائع کر دے گا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ’میں مرتے دم تک پاکستانی کی جانب سے نقلی مسٹر بین زمبابوے جانے کے معاملے کو یاد کر کے ہنستا رہوں گا۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp