اردو زبان میں بچوں کا ایک گمنام ابتدائی رسالہ
بچوں کے اردو رسائل کی تاریخ یوں تو ایک سو بیس سال پرانی ہے مگر بچوں کے رسائل پر ادبی تنقید اور تحقیقی کام بہت ہی کم ہوا ہے۔ حالیہ عرصے میں جامعاتی سطح پر کچھ ایم فل و پی ایچ ڈی کے مقالات سامنے آئے ہیں۔ اور گنتی کی چند کتابیں بھی لکھیں گئیں ہیں۔ مگر ایک بنیادی کام بچوں کے رسائل کا اشاریہ مرتب کرنے کا تھا، جو اب تک باضابطہ طور پر نہیں ہو سکا۔
2022 ء میں اس طرف ایک اچھی اور قابل تحسین پیش رفت بچوں کے ادیب اور ماہنامہ ساتھی کے سابق مدیر، اعظم طارق کوہستانی کے ایم فل مقالے میں نظر آئی، ان کے مقالے کا موضوع ”پاکستان میں بچوں کے اردو رسائل 1971 ء تا 2000 ء“ ہے۔ جس کے ایک باب میں انھوں نے بچوں کے 1902 ء سے 2021 ء تک کے 383 رسائل کا اشاریہ پیش کیا ہے، جو (اکتوبر 2022 ء تک) کا بچوں کے رسائل کا سب سے بڑا اشاریہ ہے۔
اس سے قبل ایسا کام ضیا اللہ کھوکھر کی 2004 ء کی کتاب، ”بچوں کی صحافت کے سو سال“ میں بھی ملتا ہے، لیکن وہ صرف ان دو سو رسائل کی فہرست ہے، جو ان کے کتب خانے ”عبد المجید کھوکھر لائبریری“ میں محفوظ ہیں۔
جب کہ مختلف کتب خانوں کی رسائل کی فہرستیں اور رسائل و اخبارات کی کتابیات وغیرہ سے جو نام میں نے اکٹھے کیے، کچھ نام فیس بک سے لوگوں سے معلوم ہوئے، تاریخ صحافت از امداد صابری سے کچھ نام معلوم ہوئے، یوں بچوں کے رسائل کی تعداد 383 سے بڑھ کر 450 سے زیادہ ہو چکی ہے، اور ہنوز رسائل کی دریافت جاری ہے۔ مجھے جن مزید ذرائع کا علم ہو سکا ہے، اس حساب سے یہ پانچ سو کے لگ بھگ رسائل ہو سکتے ہیں۔
بچوں کے ادب کے حوالے سے اب تک کے شائع شدہ تمام کام میں اس پر سب کا اتفاق رہا ہے کہ پہلا ماہنامہ 1902 ء میں پیسہ اخبار کے مولوی محبوب عالم نے شروع کیا تھا جو ممکنہ طور پر جولائی 1912 ء کے بعد بند ہوا اور اس کے بعد دوسرا بچوں کا رسالہ، 1909 ء میں مولوی ممتاز علی (اصل میں یہ منصوبہ ان کی زوجہ محمدی بیگم کا تھا، مگر پہلا شمارہ شائع ہونے سے قبل ہی ان کی وفات ہو گئی) نے شروع کیا، جس کی پہلی مدیرہ بنت نذر الباقر تھیں۔
مگر میری تحقیق کے مطابق 1900 ء کی دہائی میں صرف یہ دو رسالے شائع نہیں ہوئے، بل کہ اس دوران میں تین رسالے شائع ہونا شروع ہوئے تھے، اور ہفت روزہ پھول بچوں کا دوسرا نہیں، بل کہ تیسرا رسالہ تھا (البتہ بچوں کا پہلا ہفت روزہ یہی تھا) ۔
دوسرا رسالہ دراصل ”رفیق الطلبہ“ تھا، جو 1906 ء میں شائع ہونا شروع ہوا تاریخ صحافت کی چوتھی جلد میں امداد صابری نے لکھا ہے کہ یہ ذوالحجہ 1324 ہ (اکتوبر 1906 ء) کو شروع ہوا۔ مگر اس کے چوتھے شمارے میں صفحہ تین پر مدیر نے لکھا ہے کہ ”یہ رسالہ چار ماہ سے جاری ہے اور برابر وقت پر شائع ہو رہا ہے“ ۔ اور یہ چوتھا شمارہ شعبان 1324 ہ (مئی 1906 ء) کا ہے یعنی اس کا آغاز جمادی الاول 1324 ہ (مارچ 1906 ء) بنتا ہے۔
یہ رسالہ گلبرگہ (دکن) سے مطبع آصفیہ کے مالک، محمد عبد العلیم شائع کرتے تھے۔ یاد رہے یہ کسی تعلیمی ادارے کا مجلہ نہیں، اس کا محض نام رفیق الطلبہ تھا۔ رسالے میں دوسرے صفحے پر درج ہے کہ یہ ہجری ماہ کے آخری ہفتے میں شائع ہوتا ہے۔ جب کہ طلبہ کو مضامین (اس دور کے رسائل میں مضامین سے مراد ہر قسم کی تحریریں ہوا کرتی تھیں ) لکھنے پر مناسب ہدیہ پیش کرنے اور متعلقہ شمارہ مفت ارسال کیے جانے کا بتایا گیا ہے (اس دور میں بھی اکثر رسائل لکھنے والوں کو محض ایک نسخہ رسالے کا بھیجتے ہیں، کچھ تو یہ تکلف بھی گوارا نہیں کرتے ) ۔
تاریخ صحافت کی چوتھی جلد میں امداد صابری نے غلطی سے رسالہ ادیب الاطفال کو 1909 ء کا رسالہ بتایا ہے جو بالکل غلط ہے بل کہ خود اگلی پانچویں جلد میں انھوں نے اس کو دوبارہ 1911 ء کے سال میں (جو اصل سال اشاعت ہے ) میں بھی درج کیا ہے۔ (مگر جلد چہارم کی اس غلطی کا ذکر نہیں کیا گیا) ۔
رفیق الطلبہ کتنا عرصہ شائع ہوا، اس کا ذکر نہ امداد صابری نے کیا ہے، نہ ہی مجھے کہیں اور سے اب تک معلوم ہو سکا۔ بچوں کے نہ جانے کتنے رسائل تاریخ میں یوں ہی دب چکے ہیں۔ اور ان کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔


