عورت کی سیاست میں شمولیت


پاکستان میں دن بہ دن یہ اس بات کا ادراک بڑھ رہا ہے کہ آج کے اس جدید دور میں بھی خواتین کو سیاست اور عوامی زندگی سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اسی بناء پر حالیہ سالوں کے دوران بعض اعلیٰ عہدوں پر خواتین دیکھنے کو ملی ہیں۔ یہ سلسلہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ شروع ہوا جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ ملک کی ترقی، خوشحالی اور خطے میں امن کے لئے ان کی شاندار کوششوں کا اعتراف نہ صرف اندرون ملک بلکہ دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔

‎ حالیہ دہائیوں میں پوری دنیا میں متعدد سیاسی پیشرفت ہوئی ہے، لیکن سب سے اہم اثر سیاسی کرداروں میں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی پر ہوتا ہے۔ خواتین ہماری آبادی کا تقریباً نصف ہیں، لیکن ہمارے سیاسی نظام میں ان کی تعداد کے تناسب سے نمائندگی کم ہے۔ گھر سے لے کر حکومت کی اعلیٰ سطحوں تک ہر سطح پر خواتین کو فیصلہ سازی سے باہر رکھا گیا ہے۔ سیاست میں خواتین کی فیصلہ سازی کی شمولیت کا خواتین کی با اختیاریت پر کافی اثر پڑ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایشیائی خواتین صنفی تفاوت کے مسئلے سے نبرد آزما ہیں۔

ہر ملک کے آئین میں مساوی مواقع کی فراہمی کے باوجود، خواتین کی قانون ساز اداروں میں بہت کم موجودگی اور ہر سطح پر سیاسی شرکت ہے۔ ممکنہ وجوہات تک رسائی حاصل کرتے ہوئے، ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیم سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم خواتین سیاست دانوں کی شرح خواندگی مرد سیاستدانوں سے زیادہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف خواتین کو سیاسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ مزید برآں اگر ہم پاکستانی خواتین کی بات کریں تو وہ منتخب ہوتیں یا سیاست میں حصہ لیتی ہیں تو رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہیں، قانون سازی کے کام میں اور سیاست میں حصہ لینے کے باوجود ان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی بہت کم ہے۔ اس میں بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جیسے کے صنفی نظریہ، ثقافتی نمونے، اور خواتین اور مردوں کو تفویض کردہ پہلے سے طے شدہ سماجی کردار؛

خواتین میں الیکشن میں کھڑے ہونے کے لیے اعتماد کی کمی، سیاست کے بارے میں خواتین کا تصور ایک ’گندے‘ کھیل کے طور پر؛ اور جس طرح سے میڈیا میں خواتین کی تصویر کشی کی جاتی ہے، یہ عوامل نا صرف عورت کی ذاتی زندگی بلکہ معاشرتی زندگی کو بھی متاثر کرتے ہے، جیسے پاکستان میں روایاتی ماؤں اور گھریلو خواتین کو ان کے بنیادی کرداروں پر زور دیا جاتا ہے اور انہیں ان کرداروں تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔ جب کہ ایک روایتی مضبوط، پدرانہ اقدار کا نظام جنسی طور پر الگ الگ کرداروں کی حمایت کرتا ہے، اور ’روایتی ثقافتی اقدار‘ کسی بھی سیاسی عمل میں خواتین کی ترقی، پیشرفت اور شرکت کے خلاف لڑتی ہیں۔ دنیا بھر کے معاشروں پر ’عورت کی جگہ‘ کے نظریے کا غلبہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق، خواتین کو صرف ’کام کرنے والی ماں‘ کا کردار ادا کرنا چاہیے، جو کہ عام طور پر کم اجرت والی اور غیر سیاسی ہوتی ہے۔

خواتین نے سیاست میں آنے کی کوشش کی اور وہ مردوں کی طرح نظر آئیں لیکن اس معاشرے میں ابھی تک اس طرح عورتوں کی شمولیت مشکل سے نظر آئی ہے اس کے لیے ہمیں اپنے اختلافات، اپنے جذبات، چیزوں کو دیکھنے کے طریقے، یہاں تک کہ اپنے آنسوؤں کو بھی عمل میں لانا ہو گا۔

خواتین کو اس کے متعلق تعلیم کے ذریعے آگاہی دی جائے اس کے علاوہ کوٹہ متعارف کروا کر سیاسی جماعتوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے حکمت عملیوں کا اطلاق کیا جائے۔

سیاسی جماعتوں کے اندر نظام اور اسٹریٹجک میں خواتین کے الحاق کو یقینی بنانا زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ

فیصلہ سازی کی پوزیشنیں بڑھانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ وکالت کرنا بھی عورتوں کی سیاست میں شمولیت پر اثر اندازہ و سکتا ہے ہمیں اس کے ساتھ چاہیے کہ

رائے عامہ کو اکٹھا کرنے کے لیے میڈیا تک خواتین کی رسائی دلوائیں کیوں کہ ووٹنگ کے ابلاغ کی بھی ضرورت ہے۔ اپنے معاشرے میں تعلیم، تربیت اور رسائی میں اضافہ کے ذریعے خواتین کو با اختیار بنا سکتے ہیں بلکہ ان سب عوامل کو بروئے کار لاکر عورت کی ناصرف نمائندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ قانون سازی میں عورت کی رائے کی اہمیت کو بھی اجاگر کروایا جا سکتا ہے، اگر عوامل پر عمل کیا جائے تو پاکستان میں ترقی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS