موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات
دنیا کی سلامتی کو درپیش خطرات میں موسمیاتی تبدیلی بڑے خطرے کے طور پر ابھری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب، فصلوں کی تباہی اور خشک سالی میں اضافے کے ساتھ ساتھ، متضاد موسم سے انسانی رہن سہن بھی متاثر ہوا ہے۔
لندن کی انوائرمنٹل جسٹس فاؤنڈیشن کے مطابق ”دنیا میں 26 ملین افراد موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں اور 2050 ء تک 500 سے 600 ملین لوگ مزید ہجرت پر مجبور ہونے کے ساتھ ساتھ شدید دیگر خطرات سے بھی دوچار ہوں گے“ ۔ انگلینڈ کے نجی ادارے ویر سک میل کرافٹ کی رپوٹ کہتی ہے کہ ”جنوبی ایشیاء کے متعدد شہر تباہی کے دہانے پر ہیں پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے 1.4 ارب انسانوں کو سیلاب اور زلزلوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان آفات سے پاکستان کی 70 فیصد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ بھارت کی 82 فیصد اور بنگلہ دیش کی 100 فیصد آبادی متاثر ہو گی“ ۔
سائنسدانوں نے فائنل کال دی ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کو نہ روکا گیا تو دنیا کا درجہ حرارت 1فیصد تک بڑھ جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ سمندری طوفانوں کی شدت بڑھ جائے گی اور دنیا کے بڑے بڑے ساحلی شہر ڈوبنے لگیں گے کئی جگہوں پر بارشیں اتنی کم ہوں گی کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور کچھ علاقے طوفانی بارشوں کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ درختوں کا مسلسل کم ہونا، دھواں چھوڑتی گاڑیاں اور انڈسٹریز ہیں۔ کاربن ایمشن میں چائنہ کا حصہ 28.6 فیصد، امریکہ کا حصہ 16 فیصد، انڈیا 5.4 فیصد، روس کا 5.4 فیصد اور جاپان کا 3.7 فیصد ہے جبکہ پاکستان 0.78 فیصد اس کی وجہ بن رہا ہے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ بن رہے ہیں 122 نمبر پر ہے بد قسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں جن پر موسمیاتی تبدیلی سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے 7 نمبر پر ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات چند برسوں سے واضح ہونے کے باوجود اس حساس اور سنگین مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنے ماحولیاتی پروگرام میں 1989 سے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جو سمندروں میں پانی کی بلند ہوتی سطح کے باعث خطرات سے دو چار ہیں۔
اگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی نے بڑے پیمانے پر تباہی کی ہے۔
پاکستان کو دو طرح کے سنگین خطرات لاحق ہیں، شمال میں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث گلیشیئر پگھل رہے ہیں تو جنوب میں سمندری پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانو گرافی کے مطابق ”کراچی کے علاقے ملیر کے کئی حصے زیر آب آ چکے ہیں جبکہ 2050 ء تک سندھ میں ٹھٹھہ اور بدین پانی میں ڈوب چکے ہوں گے“ ۔
ماہرین ماحولیات متعدد مرتبہ اس خدشہ کا اظہار کر چکے ہیں کہ سمندر کی سطح میں تیزی سے اضافہ کے باعث 2060 ء تک دو کروڑ سے زائد آبادی کا شہر کراچی زیر آب آ سکتا ہے، سندھ سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں سمندر کی سطح میں اضافہ زیر زمین پانی میں کمی خشک سالی، سیلاب و دیگر موسمی تبدیلیوں سے جڑے مسائل کی وجہ سے ہزاروں گھرانے ہجرت کر چکے ہیں جبکہ متعدد گھرانے مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے آفت زدہ علاقوں میں بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
مستقبل میں موسمی تبدیلیوں کی ہولناکی سے لاکھوں خاندان ایسے ہی خطرات سے دوچار ہوں گے۔ صنعتی سرگرمیوں کے دو بڑے مراکز چین اور بھارت کے درمیان میں واقع ہونے کے باعث پاکستان ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو چکا ہے۔ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار پانی پر ہے جبکہ ملک میں زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ کراچی سمیت ملک کے بڑے حصے کو صاف پانی میسر نہیں، پانی کے بحران میں مبتلا اس ملک کی پانی سے متعلق کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔
آبی ذخائر بنانے اور دریاؤں، ندی، نالوں کا پانی نامیاتی و صنعتی و دیگر آلودگی سے محفوظ رکھنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔
پاکستان کے تقریباً ساٹھ فیصد علاقے میں سالانہ اڑھائی سو ملی میٹر سے کم بارش ہوتی ہے اور چوبیس فیصد علاقوں میں بارش اڑھائی سو ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں گلیشیئرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے آج کل پاکستان میں درجہ حرارت میں تبدیلی آ رہی ہے جس کی وجہ سے زراعت متاثر ہو رہی ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار اور اناج کی غذائیت متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان میں ربیع اور حریف دو طرح کی فصلیں اگائی جاتی ہیں ربیع فصلیں عام طور پر نومبر سے اپریل تک اور خریف فصلیں مئی سے اکتوبر تک اگائی جاتی ہیں۔
پاکستان کی اہم فصلیں گندم، چاول، کپاس، گنا اور مکئی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان فصلوں کی کاشت اور نشوونما کے مراحل کے اوقات متاثر ہوتے ہیں مثلاً گندم کی فصل کے وقت لمبے عرصے کے لیے درجہ حرارت بڑھ جائے تو اس کے اثرات گندم کی پیداوار پر مثبت ہوتے ہیں لیکن بارشوں میں تھوڑے یا لمبے عرصے کے لیے اضافہ ہو جائے تو اس کے منفی اثرات رونما ہوتے ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق پاکستان جنگلات کی کٹائی میں ایشیاء میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پاکستان میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور کچرے کو جلانے کی بجائے ری سائیکلنگ کا طریقہ اپنایا جائے۔ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی بہت سے دیہاتی لوگ موسمیاتی تبدیلی کو قدرت کا کھیل سمجھ کر اس معاملے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس لیے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم جہاں تک ممکن ہو سکے لوگوں کو اس خاموش قاتل سے آگاہ کریں جو موسمیاتی تبدیلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

