جنوبی کوریا میں ہیلووین کے موقعے پر ہجوم کے باعث کچلے جانے سے 146 ہلاک، 150 زخمی
مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر مرنے والوں کی تعداد 59 بتائی گئی تھی جو اب بڑھ کر 146 ہو گئی۔
حکام کے مطابق کچلے جانے سے کم از کم 150 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سیئول کے ایٹاون ضلعے کی ویڈیوز میں سڑکوں پر لاشیں، سی پی آر انجام دینے والے ہنگامی کارکن، اور امدادی کارکن دوسروں کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کچلے جانے کے واقعے کی وجہ کیا بنی۔
جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔
پرہجوم علاقہ ’غیر محفوظ احساس‘
اس علاقے میں مبینہ طور پر 100,000 لوگوں نے وبا کے بعد گھروں سے باہر بغیر ماسک ہیلووین تقریب کا جشن منایا۔
شام کے اوائل میں پوسٹ کیے گئے سوشل میڈیا پیغامات میں کچھ لوگوں کو یہ تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ایٹاون کے علاقے میں اتنا ہجوم تھا کہ انھیں یہ غیر محفوظ محسوس ہوا۔
بی بی سی کے ہوسو لی، جنھوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، کہا کہ انھوں نے ’بہت سے طبی عملے اور ایمبولینسیں کو ایک ایک کر کے لاشیں اٹھاتے ہوئے دیکھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہجوم میں ہزاروں افراد موجود تھے، اور اب وہاں نیلی چادروں میں ڈھکی کئی لاشیں تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’آج رات یہاں بہت سارے نوجوان جمع ہوئے ہیں۔ پارٹی اور کلب میں بہت سے لوگ خصوصی ’ور پر بنائے گئے ملبوسات پہنے ہوئے تھے اور بہت سارے لوگوں کو میں نے پریشان اور اداس دیکھا ہے اور وہاں افراتفری کے مناظر ہیں۔‘
تصاویر اور ویڈیوز میں ہنگامی مدد فراہم کرنے والے اہلکار اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے جو سڑکوں پر بے ہوش لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایک ویڈیو میں متعدد امدادی کارکن ایک تنگ سڑک پر لوگوں پر سی پی آر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری میں، امدادی کارکن لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بظاہر ہجوم کے بڑھنے کے بعد مرنے والوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ رہا ہے۔
ایک مقامی صحافی نے کہا کہ یونگسان ڈسٹرکٹ میں ہر موبائل فون پر ہنگامی نشریات بھیجی گئی ہیں جس میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد گھروں کو لوٹ جائیں۔

