سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن انتہا پسندی کا فروغ
انتہا پسندی ایک ایسا عالمی مسئلہ ہے، جو مذہب، مسلک، ثقافت اور سرحدوں کی حدود سے بالاتر ہے۔ یہ دراصل عدم برداشت، نفرت، لسانیت و جنونیت میں شدت کا نتیجہ ہے۔
جدید دور میں جدت کی وجہ سے معاشرے کی عام انتہا پسندی بھی جدید (آن لائن انتہا پسندی) میں بدل گئی ہے، جس میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔
یکم جنوری، 1983 ء کو انٹرنیٹ کی ایجاد نے دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا اور ترقی کے مختلف مراحل طے کرنے کے بعد 1990 ء میں ورلڈ وائڈ ویب کی ایجاد سے مزید ترقی کرلی۔ 2004 ء کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں کچھ ایسی سوشل سائٹس آئیں، جنہوں نے لوگوں کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 50 ملین سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کر رہے ہیں ؛ جن میں سب سے زیادہ تعداد فیس بک استعمال کرنے والوں کی ہے، جو تقریباً 30 ملین سے زیادہ ہے۔
سوشل میڈیا جہاں سماجی رابطے قائم کرنے، دوستوں اور عزیزوں کا آپس میں آن لائن میل جول کا ذریعہ اور ایک مضبوط مواصلاتی نظام ہے، وہیں آن لائن انتہا پسندی کے فروغ میں بھی اس نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی اور غلط خبریں پھیلانے کے ساتھ غیر اخلاقی اور نفرت انگیز مواد کو بھی شیئر کیا جاتا ہے ؛ جس کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور آئے روز کوئی نیا واقعہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق: داعش (انتہا پسند تنظیم) سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ متحرک ہے، جو اپنے پوسٹوں کے ذریعے سے نوجوانوں کو شدت پسندی پر اکسا کر معاشرے میں انتہا پسندی پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہے۔
مزید اپنے موضوع پر بات کرنے سے پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی آن لائن انتہا پسندی کے عناصر کا تجزیہ کرتے ہیں (کہ وہ کون سے بنیادی عناصر ہیں جو آنلائن انتہا پسندی کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں ) ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن انتہا پسندی کے فروغ میں کردار ادا کرنے والے عناصر میں غیر مستند اور جھوٹی خبریں، غیر اخلاقی مواد، اور غیر مجاز صحافت بنیادی عناصر ہیں۔ یہاں ان (بنیادی) عناصر کا بالترتیب ایک جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلے ’غیر مستند اور جھوٹی خبروں‘ کے بارے میں بات کرتے ہیں ؛ کیونکہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ گردش کرنے والی خبریں اکثر جعلی ہوتی ہیں۔ (ایم آئی ٹی) کے محققین کی تحقیق کے مطابق: ”سوشل میڈیا پر غیر مستند اور جعلی خبریں عام خبروں کی نسبت دس فیصد زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں“ ۔ چونکہ سوشل میڈیا پر ہر کسی کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے اور ہر شخص جب چاہے، جیسے چاہے اور جس کے خلاف چاہے کچھ لکھ لے، مائیک اٹھا لے یا بیان جاری کر لے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
لیکن ہماری اکثریت کیونکہ زیادہ تر غیر تربیت یافتہ ذہنیت کے مالک ہیں، جو اس آزادی کا غلط استعمال کر کے غیر مستند اور جھوٹی خبریں جاری کرتے ہیں ؛ جبکہ بعض شر پسند افراد (اپنے مذموم مقاصد کی خاطر) جان بوجھ کر بھی ایسی خبریں جاری کرتے ہیں۔ جن کو بلا تصدیق آگے شیئر کیا جاتا ہے۔ ان من گھڑت اور جعلی خبروں کی وجہ سے معاشرے میں غلط فہمیاں اور نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، جو شدت اختیار کرنے کے بعد انتہا پسندی اور دہشتگردی کو جنم دیتا ہے۔
دوسرے نمبر پر ’غیر اخلاقی اور قابل اعتراض مواد‘ پر بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر چونکہ مختلف قسم کے لوگ موجود ہیں، جن میں سے کچھ بگڑے ہوئے اور خراب ذہنیت کے مالک ہیں۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور فحش مواد شیئر کر کے لوگوں (خاص کر نوجوانوں ) کے جنسی جذبات کو ابھارتے ہیں ؛ جس کی وجہ سے معاشرے میں جنسی ہراساں، جنسی زیادتی اور جنسی تشدد جیسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
آخر میں ’غیر مجاز صحافت‘ پر بات کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا کہ سوشل میڈیا پر ہر کسی کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے (لکھنے اور بولنے ) کا حق حاصل ہے، جس نے ہر شخص کو با اختیار بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صحافت کرنے والے چاہے صحافت کا ”الف“ بھی نہ جانتے ہوں لیکن اپنے آپ کو صحافی تصور کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے کئی لوگ اور پیجز دیکھنے کو ملتے ہیں، جو غیر مجوز اور غیر تصدیق شدہ ہونے کے باوجود بلا جھجک صحافت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس غیر مجوز صحافت کی وجہ سے معاشرے میں غلط نظریات اور معلومات پھیل رہے ہیں، جو آن لائن انتہا پسندی کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔
انتہا پسندی معاشرے کا ناسور ہے، جس کو سوشل میڈیا کے ذریعے سے کافی فروغ مل رہا ہے۔ سوشل میڈیا کا مکمل آزاد استعمال (کھلے عام غیر اخلاقی سرگرمیاں، جعلی خبروں کی گردش، جعلی اکاؤنٹس اور پیجز، وغیرہ) کی وجہ سے آن لائن انتہا پسندی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے اس کے فروغ میں معاون اور ذریعہ بننے والے عناصر کے خلاف اگر مل کر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو بہت حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔


