بریکنگ نیوز اہم یا آپ کی زندگی؟

کچھ عرصہ قبل ایف سی کالج میں جرنلسٹس سیفٹی ورکشاپ میں یہ باتیں سننے کو ملیں، اس طرح دیگر طریقے بھی بتائے گئے کہ کیسے خبر کی ترسیل و خبر کے حصول کے دوران اپنی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ارشد شریف کے کے معاملے میں بھی ڈیجیٹل سیکیورٹی ناکام ہوئی اور وہ سوشل میڈیا و واٹس ایپ کے ذریعے لوگوں سے رابطے میں رہے، جس کے ذریعے سے کسی کو بھی ٹریس کرنا آسان ہے۔
آج ہونے والے اندوہناک واقعے میں ایک خاتون جرنلسٹ شہید ہو گئیں ( اس پر جو پوسٹس دیکھیں ہیں ان میں اس خاتون کے لئے جاں بحق کا لفظ پڑھ کر افسوس ہوا، فرائض کی ادائیگی کے دوران جان دینے والا ارشد شریف شہید ہے تو یہ بھی شہید، یہ الگ حساب مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ فوجی شہید اور پولیس والا جاں بحق) ۔
اس وقت پورے ملک میں سب سے پہلے اور سب سے بڑی کوریج کی دوڑ جاری ہے، اس لیے بریکنگ نیوز کے لئے سب ہی ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس پر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چینل والے ان سے یہ کرواتے ہیں، اس حوالے سے اسی ورکشاپ میں ہم نیوز لاہور کے بیورو چیف شیراز حسنات صاحب کا کہنا تھا کہ چینل کی طرف سے کسی قسم کی زبردستی نہیں کی جاتی بلکہ چینل تو ان کو پہلے کہتا ہے کہ اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔
اللہ ایسی صورتحال میں آپ تک خبر پہنچانے والے صحافیوں کو اپنی امان میں رکھے، تاہم بریکنگ نیوز اور سب سے پہلے کی دوڑ انسانی زندگی سے قطعی اہم نہیں ہے۔ اس لیے خبر کے حصول کے لئے یاد رکھیں۔
آپ کی زندگی، بریکنگ نیوز سے زیادہ اہم ہے۔

