عربی اور اردو پہ انگریزی کے اثرات کا ایک مختصر موازنہ!


 

خلیجی ممالک میں کافی عرصہ رہنے کے بعد بھی عربی عامیہ سیکھنے کے کوئی خاص مواقع میسر نہیں آئے کہ جن عرب لوگوں میں ملنا جلنا ہوتا تھا وہ انگریزی سے واقف تھے اور بازار اور دوسری جگہوں پہ کوئی نہ کوئی عربی عامیہ سے واقف دیسی ملازم مدد کو موجود ہوتا تھا۔ مگر اب حالات کافی بدل رہے ہیں۔ جا بجا عرب خواتین و مرد کام کرتے نظر آتے ہیں، جن میں سے بیشتر انگریزی سے فی الحال ناواقف ہیں۔

عرب ممالک میں فصحاء عربی سیکھنے اور سکھانے کے لئے سکول یا افراد تو مل جاتے ہی مگر عامیہ یا روز مرہ کی بول چال سکھانے والے افراد یا ادارے شاذ و نادر ہی ملتے ہیں۔ پچھلے سال پھر ایک استاد ملیں جن کا تعلق تو سوڈان سے ہے مگر سعودی عربی عامیہ کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی روانی سے بولتی ہیں۔ ایسے زبان سکھانے والے اساتذہ ادھر مشکل سے ہی ملتے ہیں جو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہوں اور استاد بھی ہوں، کہ صرف زبان بولنے والا ہر شخص استاد بھی نہیں بن سکتا۔ ان سے پھر ہمیں شٌد سعودی عامیہ عربی سیکھنے کا موقع ملا۔

کالج میں چار سال فرانسیسی پڑھی، پھر قرآن سمجھنے کے لئے عربی فصحاء پر بھی کئی سال صرف کیے ، اردو، پنجابی، انگریزی اور کچھ کچھ فارسی ادب پڑھنے کا بھی ہمیشہ شوق رہا۔ لہذا کسی ایک زبان سے مرعوب ہونا ممکن نہیں کہ ہر زبان سیکھنے کے بعد یہ جانا کہ ہر زبان کا اپنا ایک مزاج اور اسلوب ہے جو بولنے والوں کے مزاج کا بھی عکاس ہوتا ہے۔ اور اکثر سماجی میل ملاپ سے ایسے الفاظ بھی جنم لیتے ہیں جن کا دوسری زبان میں متبادل الفاظ تلاش کرنا کئی بار مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے۔ تو اس مضمون کا مقصد کسی ایک زبان کی خوبیاں بیان کرنا نہیں بلکہ زبان بطور سماجی رویوں کی عکاس ہونے کا ایک مختصر سا موازنہ ہے۔ اسی وجہ سے عرب لوگوں کے بارے میں جو میرا ایک عمومی تاثر تھا، اس زاویہ نظر میں عامی زبان سیکھنے کے بعد تبدیلی بھی آئی۔

ہماری کلاس میں اطالوی، ہسپانوی اور ترک بھی سیکھنے والوں میں شامل ہیں۔ اطالوی اور ہسپانوی خواتین کا اپنی مادری زبان سے مختلف خط ہونے کے باوجود عربی خط کا علم اور اسے سیکھنے کا شوق قابل ستائش لگا۔ ترک بھائی اور ہم پاکستانی طلبا عربی سے مماثلت رکھنے والے الفاظ پر برابر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ میرا اردو کا ذخیرہ الفاظ اردو ادب پڑھنے کی ہی مرہون منت ہے اور عربی کے تقریباً ستر فیصد الفاظ میں اسی اردو کے علم کی وجہ سے ہی سمجھ پاتی ہوں۔

جب کہ میری استاد اسے میری عربی فصحاء پر عبور سے تعبیر کر کے اکثر بہت تعریف بھی کرتی ہیں۔ مثلاً جب ڈاکٹر مریض کے مکالمے میں میری استاد نے مجھے کہا ساکتب لک تحلیل الدم، تو مجھے استاد کو اس کا ترجمہ بتانا مشکل نہ تھا۔ کہ یہ الفاظ اردو میں بھی موجود ہیں۔ پھر ڈاکٹر سے جب درد، جس کے لئے وجع اور الم بولا جاتا ہے، کی بات کی تو ترک بھائی نے کہا کہ الم تو ہماری زبان میں روحانی درد کے لئے استعمال ہوتا ہے جس پر میں نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ اردو میں بھی ایسا ہی ہے۔

سو عربی عامیہ سیکھتے ہوئے اکثر بے ساختہ دھیان اپنی روز مرہ اردو کی طرف جاتا ہے۔ اور جو بات بڑی قابل ذکر لگی کہ جہاں ہم مسلسل انگریزی سے مستعار الفاظ کو وسیع القلب اردو کے مکان کے مستقل مکین بنا رہے ہیں (ایک مرتبہ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پاکستان کے اندرون شہر تک میں بھی ہر ’آٹو، الیکٹرک ورکشاپ‘ پر انگریزی الفاظ کو ہی اردو میں لکھا گیا تھا) ۔ اس کے برعکس فی الحال عربی (زبان کی حد تک) انگریزی الفاظ کو یا تو دروازے سے ہی فارغ کر دیتے ہیں یا اپنے رنگ میں ڈھال لیتے ہیں۔

ورکشاپ، ورشہ بن جاتی ہے اور الیکٹرکل، کھربائی۔ ان کے ہاں بہت سے عالمی سطح پر رائج انگریزی الفاظ کا قابل استعمال نعم البدل موجود ہے۔ نہ کہ ایسا ثقیل جس کا استعمال ہی ممکن نہ ہو۔ گو کہ نئی نسل میں انگریزی سیکھنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے، مگر ابھی ان کی روز مرہ کی عربی اس بھرپور آمیزش سے محفوظ ہے۔ مثلاً جہاں بہت سی زبانوں میں فون کو فون ہی بولا جاتا ہے عربی میں اس کے لیے لفظ جوال استعمال ہوتا ہے، پاسپورٹ کے لئے جوازات، اپارٹمنٹ کے لئے شقہ/ شگا، ٹشو پیپر مندیل کہلاتا ہے۔ نیٹ کو شبکة کہا جاتا ہے، مچھلی پکڑنے کے جال یا نیٹ کو بھی شبکة صید کہا جاتا ہے تو اسی نسبت سے ان لائن نیٹ ورک کے لئے بھی شبکة کا لفظ رائج ہو گیا۔ کیش کاؤنٹر پہ ہر جگہ پوچھتے ہیں کیش یا شبکة۔ جس سے مراد کیش یا آنلائن پیسوں کی ادائیگی ہے۔

پھر جب ’لو سمحت/ سمحتی‘ یعنی پلیز اور انا اسف / اسفہ یعنی آئی ایم سوری پڑھا تو خیال آیا کہ ہماری اردو میں پلیز تو چھوڑیں، سوری کے لئے بھی کوئی قابل استعمال لفظ نہیں، جس سے ہم اپنے سماجی ارتقا کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یا شاید غلطی ماننا ہمارے طاقت کے آگے سر نگوں ہونے والے پدر سری معاشرے کی روایت نہیں، اسے لئے بلند آواز والوں کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی! معاف کیجئے گا، میں معذرت خواہ ہوں گلیوں، بازاروں میں شاذ و نادر ہی سنائی دیتا ہے۔

عربی میں انا اسف/ اسفہ اور شکریہ کے جواب میں عفواً کہا جاتا ہے جس کے معنی حالات کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ مگر اردو میں شکریہ کے جواب میں کوئی مختصر قابل استعمال جواب بھی موجود نہیں، جن کا تبادلہ گلی بازاروں میں چند لمحوں کے آمنے سامنے میں استعمال کیا جا سکے۔ ’نہیں کوئی بات نہیں‘ ، یا ’یہ میرا فرض تھا‘ وغیرہ بھی جاننے والوں میں تو استعمال ہو سکتے ہیں انجانے لوگوں یا دکانداروں، ملازمین کے ساتھ نہیں۔ لوگ، اور کچھ نہیں تو، انگیزی میں بہت ہی ناگوار سمجھے جانے والا جواب ’اٹ از او کے‘ کہ دیتے ہیں۔ جب کہ صحیح انگریزی میں بہت خوبصورت جواب ملتے۔ یہ الفاظ اور اظہار ایک مہذب گفتگو میں تبھی آتے ہیں جب ان کی کمی محسوس کی جائے۔

یہ صحیح ہے کے انگریزوں کی کالونی رہنے کی وجہ سے انگریزی سیکھنا ہماری بقا کے لئے ضروری تھا، جس کا ہمیں اب فائدہ بھی ہو رہا ہے، مگر پھر انگریزی استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنا ہماری جینیاتی کوڈ کا حصہ بن گئی۔ جو عرب ممالک باقاعدہ کالونی نہیں رہے ان کا معاملہ مختلف ہے، مگر ابھی ان کی نئی نسل بھی انگریزی سیکھنے کی بھرپور خواہش مند نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود آج کل کی دنیا بھر میں رائج انگریزی الفاظ کو جوں کا توں استعمال کرنے کے بجائے اپنی زبان میں متبادل الفاظ تلاش کر کے رائج کرنا ایک قابل تحسین عمل لگا۔

پھر ملنے اور رخصت ہوتے وقت کے لئے بہت سے خوبصورت دعائیہ کلمات ملتے ہیں۔ ہمارے ہاں زیادہ تر اسلام علیکم کا ہی استعمال ہے یا منفرد حالات میں رشتہ کے حساب سے کچھ کلمات بھی بولے جاتے ہیں مگر کوئی عام عمومی الفاظ زبان زد عام نہیں۔ شاید اکثر لوگ چونکہ عربی میں ہی دعائیہ کلمات کہنے میں زیادہ معتبر اور مستند محسوس کرتے ہیں تو اردو میں کوئی عام فہم کلمات زیادہ رائج نہیں ہوئے۔

عربی میں کسی کو کھانا پیش کرتے وقت ’صحتین‘ کہنا بھی ایک اچھا اظہار لگا، جو فرانسیسی بون آپیتیت کا متبادل ہے انگریزی میں اس کا کوئی متبادل نہیں اور یہ فرانسیسی سے انگریزی میں بھی ایسے ہی رائج ہے۔ بیشک زبان اسی طرح پھلتی پھولتی ہے اور دوسری زبانوں سے الفاظ شامل ہونا ایک قدرتی عمل جو بہت سے دوسرے عوامل سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ مگر اب ایسا بھی نہ ہو کہ باہر کا اونٹ سرکتے سرکتے پورا ہی خیمے میں ڈیرا ڈال لے!

ایک اور چیز جو عامیہ سیکھتے ہوئے دیکھی کہ چونکہ مجموعی طور پر انسان ہر چیز میں سھل راستہ اختیار کرنا پسند کرتا ہے تو عربی عامیہ میں یہ سھل پسندی ’ق‘ کے استعمال میں نظر آتی ہے۔

چونکہ ق بولنے میں حلق کا زور لگتا ہے تو اس کی جگہ گ کا استعمال ہے، جو مصری لہجے کا اثر معلوم ہوتا ہے۔ گو کے لکھنے میں وہ ق ہی لکھتے ہیں۔ کیونکہ عربی حروف تہجی میں ’گ‘ موجود ہی نہیں۔ قلم کو گلم، ورق کو ورگا، حقی کو حگی، قال کو گال بولا جاتا ہے۔ کچھ عربی لہجوں میں ج کو بھی گ ہی بولتے ہیں جیسے جمیل کو گمیل، جمال کو گمال بولتے ہیں۔

بہرحال کوئی بھی زبان سیکھتے ہوئے ہمیشہ دھیان اردو میں متبادل الفاظ یا اظہار پر جاتا ہے۔ مگر پھر خیال آتا ہے زبان تو شناخت کی علامت ہے اور جب اب تک ہم نے اپنی شناخت کا ہی کوئی تعین نہیں کیا تو سماجی سطح پر زبان کا کیا قصور۔ آج کل کی اردو کی مثال اس ہنڈیا جیسی لگتی ہے جس میں مختلف مصالحہ جات کی زیادتی نے اصل مرکزی چیز کا ذائقہ اتنا معدوم کر دیا ہے کہ اب اس کی شناخت کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔

Facebook Comments HS