صدف نعیم کی موت اور میڈیا ورکرز کا استحصال


گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کوریج کے دوران کنٹینر کے نیچے کچل کر خبریں اخبار کے چینل فائیو کی رپورٹر و اینکر صدف ندیم جاں بحق ہو گئیں۔ گزشتہ ہفتے سینئر اینکر ارشد شریف کو قتل کر دیا گیا تھا۔ سیاست دانوں کا وتیرہ رہا ہے کہ سیاست کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سو دونوں کی موت پر سیاست دانوں کو کھیل کھیلنے کا بھرپور موقع ملا اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی تگ و دو جاری رہی۔ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے پچاس پچاس لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا حمایت اور مخالفت سے بھر چکا ہے۔ مارک ذکر برگ اور ایلون مسک بھی سوچتے ہوں گے شاید ہم نے فیس بک اور ٹویٹر پاکستان کے لیے ہی بنائے ہیں۔ خوب ریٹنگ بڑھتی ہے یہاں پر۔

خیر یہ تو الگ بات ہے۔ صدف نعیم کی ناگہانی وفات پر مختلف ذرائع سے کئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ جن میں ایک بات پر مشترک ہے، وہ ہے استحصال۔ 3 مہینوں سے تنخواہ سے محروم صدف نعیم اپنی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھیں۔ خبر ڈھونڈنے کے چکر میں وہ خود خبر بن گئیں۔

صدف نعیم کو چینل فائیو نے گزشتہ 3 ماہ کی تنخواہ ادا نہیں کی تھی۔ جبکہ لانگ مارچ میں جانے کے لئے صدف کو گاڑی بھی نہیں دی گئی۔ پچھلے روز صدف نے لاہور سے جی این این کی گاڑی میں لانگ مارچ کے ساتھ سفر کیا۔ اپنے بچوں کے منع کرنے کے باوجود آج بھی ڈیوٹی پر نکلیں۔ معلوم نہیں کل کس سے لفٹ لی۔

صحافی افضال سیال کے مطابق جی ٹی روڈ سادھوکی میں عمران خان کے خطاب کے بعد مختلف چینلز کے تین رپورٹرز اپنے کیمرہ مینوں کے ساتھ عمران خان کے کنٹینر کے دروازے والی سائیڈ سے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے تاکہ عمران خان کا ساٹ کیا جا سکے۔ کنٹینر کے ساتھ بھاگنے والوں میں دنیا نیوز کے اخلاق باجوہ ان کے کیمرہ مین آصف پرویز ٹوبہ، نیو ٹی وی کے کاشف سلمان اور ان کے کیمرہ مین اور پانچویں صدف نعیم تھی جو ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی۔

کوئی دو سے تین کلومیٹر بھاگنے کے بعد جب کنٹینر پر چڑھنے کی اجازت نہیں ملی تو اخلاق باجوہ صاحب تھک کر سائیڈ پر ہو گئے اور اس کے پیچھے صدف نعیم نے ان کی جگہ پر بھاگنا شروع کر دیا۔ اخلاق باجوہ نے صدف کو کہا ہے دفع کریں ہم تھک گئے ہیں، یہ ہمیں کنٹینر پر نہیں چڑھنے دیں گے۔ اب صدف آگے تھے کیمرہ مین آصف پرویز پیچھے تھا اور اس کے پیچھے نیو ٹی وی کے کاشف سلمان اور ان کا کیمرہ مین۔ اسی اثنا میں صدف نے کنٹینر کے دروازے کو ہاتھ ڈالا۔ بعض اطلاعات کے مطابق عمران خان کے دو سیکورٹی گارڈ جو کنٹینر کے دروازے پر مامور تھے ان میں سے ایک نے صدف کو دھکا دیا اور وہ گر گئی، جیسے ہی وہ گری کنٹینر کے ٹائر نے صدف نعیم کا سر کچل دیا اور صدف نعیم موقع پر شہید ہو گئیں۔ یہ تمام واقعہ موقع پر موجود عینی شاہد دوستوں نے بتایا ہے عینی شاہد بھی سب جرنلسٹ ہیں۔

صدف نعیم خبریں گروپ کے ساتھ گزشتہ بیس سال سے منسلک تھیں اور ایک انتہائی محنتی خاتون تھیں۔ شہید صدف نعیم کے دو بچے ہیں بڑی بیٹی نمرہ نعیم بیٹا اذان نعیم ہیں۔ ان کے شوہر نعیم بھٹی فوٹوگرافر ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایک ایسا چینل جو اپنے ورکرز کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دیتا، اس کو حکومت بند کیوں نہیں کرتی؟ ایسے مالکان اور نیوز چینلز کے خلاف صحافتی تنظیمیں کیوں نہیں کوئی ایکشن لیتیں؟

میں نے میڈیا ورکرز کا استحصال اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اور خود بھی اس کا زخم خوردہ ہوں۔ مذکورہ چینل کی بلڈنگ کے بارے میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ وہ ناجائز قبضے کی ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کرتے، ہیلتھ انشورنس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مستقل کرنے کا رواج بالکل ناپید ہو گیا ہے کیوں کہ مستقل ملازمین کو تمام مراعات دینا پڑتی ہیں۔ اب تو تنخواہوں کے لالے ہیں تو مراعات کی کیا حیثیت۔ اونچی دکان پھیکے پکوان والی مثال صادق آتی ہے۔ اخبارات ہوں یا چینلز، میڈیا کا کوئی بھی ادارہ اس لعنت سے محفوظ نہیں رہا۔ ورکرز کا استحصال اب معمولی بات ہو گئی ہے۔

چوبیس گھنٹے عوام اور حکومت کو ایمانداری کا بھاشن دینے والے یہ چینلز اور ان کے مالکان، منافقت کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ ورکرز کی تنخواہیں اور مراعات روک کر اربوں روپے کی جائیدادیں بنا کر باہر منتقل کردی گئی ہیں۔ ظلم اور زیادتی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرنے والے ان چینلز کے خلاف کارروائی بھی نہیں کی جا سکتی، ورنہ ہم جیسے ورکرز ہی سڑکوں پر نکل کر آزادی اظہار رائے پر قدغن کے نعرے لگاتے پھرتے ہیں۔ بینر اٹھا کر حکومت کے خلاف آوازیں لگاتے ہیں۔

مگر ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ادارے کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ تمام بڑے بڑے میڈیا اداروں نے اپنے ورکرز کا استحصال کیا ہے، نوکریوں سے بغیر نوٹس اور واجبات کے فارغ کر دیا گیا۔ اس وقت بڑے کرتا دھرتاؤں پر جوں تک نہیں رینگی۔ جب جیو کے سربراہ کو گرفتار کیا گیا تو پورے پاکستان کا میڈیا باہر آ گیا۔ پاکستان میں ہر جگہ دو قانون ہی ہیں۔ امیر کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ۔ غریب کے لیے کوئی باہر نہیں نکلتا اور امیر کے لیے نکلنا واجب ہوجاتا ہے۔

یہی منافقت ہے۔ اس منافقت کی خلیج مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کو ختم کرنا ہو گا۔ ورنہ نئے لوگ اس پیشے سے وابستہ ہونے سے ڈریں گے۔ ورکرز کا استحصال ختم کرنے کے لئے تحریک کی اشد ضرورت ہے۔ اور وہ کسی بڑے صحافی یا کسی صحافتی تنظیم سے اس کی امید نہ رکھی جائے کہ وہ چھوٹے ورکرز کے لئے آگے بڑھے گی۔ اس کے لیے چھوٹے ورکرز کو ہی ایکشن لینا ہو گا۔ استحصال کو روکنا ہو گا۔ کیونکہ بڑے صحافی اور تنظیمیں بڑے کاموں میں مصروف ہیں!

Facebook Comments HS