لانگ مارچ: اس مرتبہ ویسے نہیں ہو گا جو ہوتا رہا ہے

عمران خان اس وقت نہ صرف کنٹینر پر چڑھ چکے ہیں بلکہ لاہور سے لانگ مارچ سے شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان بھی کر چکے ہیں اور اس وقت ان کا سیاسی قافلہ گجرانوالہ کے گرد و نواح میں پہنچ چکا ہے۔ راستے میں سادھوکی میں ایک خاتون صحافی کا اسی کنٹینر تلے آنے کی وجہ سے شہادت بھی ہوئی ہے۔ ان کی فوتگی کے وجوہات بھی خبروں کی حد تگ متنازعہ بتائی جا رہی ہیں لیکن اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہمارا موضوع عمران خان کا لانگ مارچ ہے جو چار نومبر کو اسلام آباد پہنچنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا اس لانگ مارچ کا اختتام بھی سابقہ لانگ مارچز کی طرح اپنے مقاصد حاصل کر کے ہی ڈسپرس ہو جائے گا۔
اس سے پہلے جو لانگ مارچز ہوئے وہ جب اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے تو بظاہر، دیکھنے، سمجھنے یا محسوسات کی حد تک سٹیبلشمنٹ اور فوج ان کے ساتھ ایک پیج پر دکھائی دیتے تھے ماسوائے مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے جب وہ ملتان پہنچا تو آئی ایس پی آر نے جب ان سے لاتعلقی کا اعلان کیا تو جو گروپس اور جماعتیں ان سے آس لگا بیٹھی تھیں راتوں رات یوٹرن لے کر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئیں یا کر دی گئیں اور جب اسلام آباد پہنچے تو صرف جے یو آئی ( ف ) ہی کے کارکن اس ٹھنڈ موسم میں اپنے زاد راہ کے ساتھ مولانا فضل الرحمان اور ان کے ساتھیوں کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ بعد میں دھرنا ختم ہونے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ میں کچھ لے کر گیا ہوں کچھ دے کر نہیں اور اس کا پتہ تین مہینے کے بعد چلے گا۔
اس طرح وکلاء تحریک کے دوران جب نواز شریف نے لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز کیا تو گوجرانوالا پہنچنے پر اس وقت کے آرمی چیف پرویز اختر کیانی کے لانگ مارچ اور حکومت کے درمیان میں آنے سے درمیانی راستہ نکال کر ججز کو بحال کیا گیا تھا۔
اسی طرح بلاول بھٹو نے بھی کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا تھا اور اسلام آباد میں دیگر اتحادیوں کی موجودگی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کر کے بظاہر اپنی کامیابی پر اپنے لانگ مارچ کا اختتام کیا۔
لیکن اب کی بار عمران خان کے لانگ مارچ کا قصہ ہی سرے سے الگ ہے نہ تو سٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے اور نہ فوج، رہی سہی کسر ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کے پریس کانفرنس نے پوری کر دی اور عوام اور خواص میں جو چہ میگوئیاں چل رہی تھیں کہ یہ جو عمران خان اتنا بول رہے ہیں اور الزامات اور سخت لہجہ استعمال کر رہے ہیں اس کے پیچھے نظر نہ آنے والے ہاتھ ہیں لیکن جب وہ ہاتھ سامنے آ گئے تو وہ بالکل صاف تھے اور اس پر کسی بھی گروپس پارٹی یا شخص کی لکیریں نہیں تھیں بلکہ الٹا عمران خان کے بیانئے کو رد کر کے ان کی سیاسی غبارے سے ہوا ہی نکال دی۔
اب اس لانگ مارچ کا اختتام کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ عمران خان واپسی کا یوٹرن بھی لے سکتے ہیں اور اگر اسلام آباد پہنچتے بھی ہیں تو دونوں جانب سے بیانات سے لگتا ہے کہ دونوں مرنے مارنے سے کم پر راضی ہی نہیں ہو رہے۔ تو ایسی صورت میں نتیجہ خون خرابے کے علاوہ اور کوئی نکل ہی نہیں سکتا اور اگر حکومت فوج کو طلب کرتی ہے جیسے کہ وہ کہہ رہی ہے تو پھر عوام اور فوج بھی آمنے سامنے آسکتے ہیں اور ایسی صورت میں فوج کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ، وہ خوب جانتی ہے لیکن سیاست اور سیاست مداروں کے ہاتھ سے بات نکل جائے گی اور جو لڑنے اور امن قائم کرنے کے لئے بیچ یا بیچ بچاؤ کے لئے بلائے گئے ہیں ان سے اچھا بینیفیشری اور کون ہو سکتا ہے۔
لیکن میرے منہ میں خاک حکومت بچانے اور حکومت گرانے کے اس کشمکش میں اگر نظام لپیٹ لیا گیا تو ایک بار پھر سیاست دان اس الزام سے نہیں بچ پائیں گے۔ گو کہ اس کے مضمرات دیگر بھی ہوسکتے ہیں جس میں یوکرائن مسئلہ عالمی طاقتوں کے لئے عموماً اور امریکہ کے لئے خصوصاً اہمیت کا حامل ہے۔

