بچوں کے لیے اردو زبان میں پہلا سفرنامہ
یوں تو سفرنامے عموماً بڑوں کے لیے لکھے جاتے ہیں مگر اردو میں بچوں کے لیے حکیم محمد سعید نے تیس سے زیادہ سفرنامے لکھے ہیں۔ جن کے کئی کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ حکیم سعید کی دیکھا دیکھی مزید کئی شخصیات نے بچوں کے لیے سفرنامے لکھے ہیں۔
بچوں کے اردو ادب میں پہلا سفر نامہ لکھنے کا اعزاز مسعود احمد برکاتی مرحوم کا سمجھا جاتا رہا ہے، جو ان کے حکیم محمد سعید کے ہمراہ، انگلستان و فرانس کا سفرنامہ ”دو مسافر دو ملک“ ہے، پہلی بار یہ سفرنامہ نومبر 1982 ء کے ماہنامہ ہمدرد نونہال میں شائع ہوا، جس کو پسند کیا گیا، تو یہ سلسلہ چلتا رہا اور 20 شماروں میں مکمل ہوا، مگر اعظم طارق کوہستانی صاحب نے اپنے ایم فل کے مقالے میں با حوالہ ثابت کیا کہ یہ اعزاز ان سے بھی پہلے خالد بزمی کو حاصل ہے، جن کا سفر نامہ ”لاہور سے کاغان تک“ تعلیم و تربیت ستمبر 1977 ء میں شائع ہوا۔ جب کہ مسعود احمد برکاتی کا سفرنامہ 1982 ء میں شائع ہوا۔
مگر مجھے اس سے بھی قبل، متحدہ ہندوستاں کے دور میں پیام تعلیم کے مئی 1943 ء کے 4 شماروں میں ؛ ایک سفرنامہ ”آگرے کی سیر“ ملا ہے، جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مختلف طالب علموں نے مل کر لکھا تھا۔
پیام تعلیم مئی 1943 ء میں پہلی قسط محمد عثمان ہاشمی نے ”آگرے کی سیر“ تعلیمی مرکز میں ایک رات، کے عنوان سے لکھی۔ جون 1943 ء میں دوسری قسط ”دہلی سے آگرہ“ ، محمد عثمان اور محمد نقی نے مل کر لکھی۔ جولائی 1943 ء کی قسط، ”ہماری جائے قیام آگرہ“ کے عنوان سے ہے، مگر اس پر کسی طالب علم/مصنف کا نام موجود نہیں، نہ ہی فہرست مضامین میں کوئی نام مل سکا۔ اگست 1943 ء کی قسط، ”آگرے کی سیر تاج محل“ کے عنوان سے مجیب الرحمان نے لکھی۔
اس طرح اب تک کے حوالہ جات کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچوں کے اردو ادب میں پہلا سفرنامہ پیام تعلیم کے مئی 1943 ء کے شمارے میں محمد عثمان ہاشمی نے لکھا۔
جب کہ پہلا سفر نامہ جو کتابی صورت میں شائع ہوا، وہ پھر بھی مسعود احمد برکاتی کا نہیں، بل کہ ”بچوں کا لندن“ نامی سفرنامہ ہے، جو آغا محمد اشرف (لندن سے آداب عرض، کتاب کے مصنف) کا ہے، جو ان کے 1939 ء۔ 1940 ء کے قیام لندن کے دنوں کا بچوں کے لیے سفرنامہ و معلوماتی سلسلہ تھا۔ جو اول، بی بی سی ریڈیو پر بچوں کے لیے نشر ہوا، 1943 ء میں وطن واپسی پر نومبر 1943 ء کو شائع کرایا، مگر اس سے قبل ماہ قبل مئی میں پیام تعلیم میں بچوں کے لیے سفرنامہ شائع ہو چکا تھا۔ یوں پہلے شائع ہونے کا اعزاز تو اس کو نہیں مل سکا، مگر پہلے پہل نشر ہونے کا اعزاز اس کے پاس ہے اور کتابی صورت میں شائع ہونے کا اعزاز اب مسعود احمد برکاتی کے سفر نامے کی بجائے، اس کتاب بچوں کا لندن کو جاتا ہے۔
جب کہ قیام پاکستان کے بعد ، بچوں کے لیے پہلے سفرنامے کا تاریخی ثبوت خالد بزمی کے حق میں ملتا ہے۔
جب کہ کسی دوسرے ملک کا اور کتابی صورت میں شائع ہونے کا اعزاز مسعود احمد برکاتی کے سفرنامے ”دو مسافر دو ملک“ کو حاصل ہے۔ مگر یہ دونوں بچوں کے اردو ادب کے اولین سفرنامے ہرگز نہیں۔


