سیاسی رسا کشی اور اخلاقی انحطاط


اگر سیاسی عمل کے ذریعے کسی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس میں واویلا کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ غیر ملکی سازش ہو رہی ہے۔ اگر حکومت کا خاتمہ کسی دشمن ملک کی جانب سے فوج کشی کے نتیجے میں ہو تو آپ اپنے سپہ سالار سے امید کرتے ہیں کہ وہ ملک کا دفاع کرے گا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو آپ فوج سے کس قسم کی مدد کی توقع کرتے ہیں۔ فوج سے سیاسی کمک نہ ملنے کی صورت میں ان کو ببانگ دہل میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے نوازا جانا کہاں تک درست ہے اس کا فیصلہ پاکستان کے عوام پر منحصر ہے۔

حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد فوج کو مطعون کرنا پاکستانی سیاست کی ریت بن چکی ہے اور اقتدار میں رہنے والی تمام سیاسی جماعتیں ایسا کر چکی ہیں۔ فوج ایک طاقتور ریاستی عنصر ہے جس کی سیاست میں مداخلت یا غیر جانبداری کے موضوع پر صفحات غارت کیے جا سکتے ہیں۔ ہر دور میں اس موضوع پر عوامی رائے ملی جلی رہی ہے لیکن معاملات جس نہج پر آج ہیں، اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔ عوام میں سیاست کو لے کر اس حد تک نفرت اور شدت پسندی ہے کہ فریق مخالف کو باقاعدہ تحقیر آمیز ناموں سے پکارتے ہیں۔

معاملات یہاں تک محدود نہیں۔ عوام اپنے مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں کو نہ صرف ان کے انباکس میں جاکر گالیوں سے نوازتے ہیں بلکہ سرراہ مل جائیں تو دست درازی بھی کر گزرتے ہیں۔ کیا سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین اپنے ووٹرز کی تربیت کر پائیں گے یا ان کو اقتدار کی ہوس کے کھیل میں چلتے پھرتے ”زومبی“ بنا کر چھوڑ دیا جائے گا جو معاشرے کو مزید زہر آلود کریں گے۔ سیاسی شور شرابے میں پاک فوج پر بھی الزامات کی بھرمار ہوتی رہی ہے۔

جب ایک نوجوان بھرتی کے لیے آرمی سلیکشن سینٹر کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے تو اس کی عمر محض سترہ سے بائیس کے درمیان ہوتی ہے۔ وہی لڑکپن اور وہی خواب اور خواہشات جو ایک نوجوان کے ہو سکتے ہیں۔ بوڑھے ہوتے ہوئے والدین کے چہرے پر پریشانی کا وہی تاثر جو عام طور پر ایک ماں کا ہو سکتا ہے۔ تحریری امتحان، جسمانی معائنہ اور دیگر تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انتخاب ہو بھی جائے تو اس پر فوراً دودھ اور شہد کی نہریں نہیں جاری ہو جاتیں۔

چاہے وہ کمیشنڈ افسر ہو یا سپاہی، سب کو ابتدائی تربیت کے مراحل سے گزرنے کے لیے گھر سے دور تربیتی مراکز جانا ہوتا ہے۔ یہ پال پوس کر بڑے کیے ہوئے بچے والدین کے لیے۔ تربیت کے پہلے دن سے ہی پرائے ہو جاتے ہیں۔ ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد بھی والدین اپنے لاڈلوں کا چہرہ صرف عید پر ہی دیکھتے ہیں۔ جو سپاہی سیاچن یا کسی ایسے مقام پر ہوتے ہیں وہ ایمرجنسی کی صورت میں گھر بھی نہیں پہنچ پاتے۔ سپاہی ہوں یا افسر ، یہ سب آپ کی حفاظت کے لیے اپنی سوشل لائف کی قربانی دیے بیٹھے ہوتے ہیں۔

ظاہر ہے جو بندہ سال میں ایک بار گاؤں قصبے میں نظر آئے گا تو برادری کی سطح پر اس کے تعلقات کا کیا عالم ہو گا۔ ان میں سے بیشتر تو ایسے ہوتے ہیں جو اپنی شادی پر بھی گنتی کی چھٹیوں پر آتے ہیں کجا یہ کہ وہ رشتہ داری بھی نبھائیں۔ فوجی جوان چاہے فیملی ساتھ رکھے یا آبائی گھر میں، وہ فیملی کو کبھی بھی اس طرح سے وقت نہیں دے پاتا جیسے باقی شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگ دے سکتے ہیں۔ یہ باتیں صرف سروس کے دورانیہ پر موقوف نہیں بلکہ یہ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس حلف کے ساتھ گھر آتے ہیں کہ جب بھی ملک کو ضرورت ہوئی وہ خدمات دینے کے پابند ہوں گے ۔

وانا آپریشن، آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی شہادتوں کا ذکر نہ کرنا بھی نا انصافی ہے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ صرف سپاہی ہی شہید نہیں ہوتے بلکہ پاک فوج ایسا ادارہ ہے جس کے ہائی رینکس کے افسر بھی وقت پڑنے پر جان کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ صرف سپاہی ہی نہیں بلکہ سینکڑوں لیفٹیننٹ کیپٹن میجرز اور دیگر ہائی رینک آفیسرز جام شہادت نوش کرچکے ہیں جن میں کرنل بریگیڈیئرز اور جنرلز بھی شامل ہیں۔

حلف سے پاسداری کی مثال سپاہی مقبول حسین سے بہتر کس کی ہو سکتی ہے جو چالیس سال سے زائد دشمن کی قید میں مظالم کاٹ کر بھی اپنا حلف نہیں بھولا اور چالیس سال بعد اسے اپنا سروس نمبر کلمے کی طرح ازبر تھا۔ سپاہی مقبول حسین سروس نمبر 335139 ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔ میجر عزیز بھٹی شبیر شریف لالک جان کیپٹن کرنل شیر خان، راجہ محمد سرور، سوار محمد حسین، میجر طفیل، راشد منہاس، نائیک سیف علی جنجوعہ، میجر محمد اکرم۔ ایک لا متناہی فہرست ہے جو ہمیں پاک فوج کے جوانوں کی اپنے حلف سے پاسداری کا یقین دلاتی ہے۔

” فوجی کا مذہب کچھ بھی ہو لیکن اس کا خدا اس کا وطن ہی ہوتا ہے۔“

یہی وجہ ہے پاکستان آرمی کے وہ جوان جو اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں ان کی پاکستان سے محبت اور لگاؤ ویسے ہی ہوتا ہے جیسے کہ ایک مسلمان کا ہو سکتا ہے۔ ایک ادارہ بننے کا عمل کوئی کھیل نہیں ہوتا۔ یہی پوری ترتیب ہے۔ پاکستان کے تمام دور دراز علاقوں سے ایک ایک جوان ملا کر ان کی سلیکشن اور تربیت کے مراحل مکمل ہوتے ہیں۔ ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ ملک سے محبت، اس کی حفاظت، جان سے بڑھ کر حلف کی پاسداری کا جذبہ ان کی نس نس میں بھر دینا، یہ ایک سپاہی کی تشکیل کے مراحل ہوتے ہیں۔ نظم و ضبط کے ساتھ چلنے کا عشروں پر محیط عمل ادارے کی ساکھ بناتا ہے۔ اسی ساکھ اور نیک نامی سے ادارے کے حاضر اور سابق سپاہیوں کا جذباتی لگاؤ ہوتا ہے جو ان کے مورال کو بلند رکھتا ہے اور یہ بلند مورال ہی جوانوں کو دشمن کے خلاف ڈٹے رہنے کا جذبہ دیتا ہے۔

پاکستان کے فوجی افسران اور سپاہیوں میں ملک سے لگاؤ اور وفاداری ان کی جبلت میں ہوتی ہے۔ پاکستان سے محبت اور اس کی بیرونی و اندرونی دشمنوں سے حفاظت پاک فوج کے جوانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ جنرل ہو یا سپاہی، ان کی وفاداری اور حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی ان کی خدمات کو سراہنے کی بجائے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے منفی پروپیگنڈا کرتا ہے تو بلا شبہ وہ سب سے قابل نفرت اور کراہت انگیز کردار ہے جس کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ عدلیہ، فوج اور دیگر تمام ادارے ہماری سلامتی اور بقا کے ضامن ہیں جن کی وجہ سے ریاست کا نظم و نسق چل رہا ہے۔ خامیاں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں جن کے تدارک سے بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے چاہے ریاست کا نظام کمال کی آخری حد کو جا پہنچے۔

Facebook Comments HS