خان صاحب کا لانگ مارچ
یکم نومبر 2022: تحریک عدم اعتماد ایک مکمل جمہوری عمل تھا جس کے ذریعے حکومت تبدیل کی گئی خان صاحب ایک سیاستدان ہونے کے دعویدار ہوتے ہوئے ایک مکمل پارلیمانی جمہوری عمل کو اسٹبلشمنٹ کے ذریعے ختم کروانا چاہتے تھے۔ موصوف نے اپنے پر خطاب میں یہی فرمایا کہ مجھے اسٹبلشمنٹ نے نہیں بچایا۔ ان کا خیال تھا آر ٹی ایس بٹھا کر جو انھیں حکومت میں لائے ہیں وہی اب جمہوری قوتوں سے بچائیں بھی۔
موصوف اب بھی اسٹبلشمنٹ سے الیکشن مانگ رہے ہیں۔ اور انکار ہونے پر انصافیوں کو بیوقوف بنانے کے لیے فرما رہے ہیں انھیں نہ کل اسٹبلشمنٹ کی ضرورت تھی اور نہ آج ہے۔ دوغلے پن اور جھوٹ کی انتہا ایک خطاب میں باجوہ سے مدد مانگتے ہیں۔ رات کے اندھیروں میں ان کے پیر پڑتے ہیں۔ پھر جب خالی ہاتھ لوٹائے جاتے ہیں تو موصوف پھر انھیں غدار اور کیا کیا خطاب دینے لگتے ہیں۔ بوٹ پالش کا طعنہ وزیراعظم کو دیتے ہیں اور اپنے ہر خطاب اور پریس کانفرنس میں اسٹبلشمنٹ کو دہائی دیتے ہیں کہ اس کا ساتھ دے۔
اگر آپ کو الیکشن یا کسی بھی قسم کا مطالبہ کرنا ہے تو سیاستدانوں سے ہی کرنا ہو گا۔ وردی والوں نے چکھ لیا اپنا پکایا ہوا۔ اب تائب بیٹھے ہیں۔ منافقت اور سنگدلی کی انتہا کہ ارشد شریف کے خون کا منتظر بیٹھے تھے۔ لانگ مارچ کے لیے۔ ابھی اس کا جنازہ بھی نہ ہوا کہ اس کی شہادت کی دکان اپنے کنٹینر پر سجا لی۔ اور پوری پی ٹی آئی اصل جنازہ چھوڑ کر غائب ہو گئی۔ اور غائبانہ نمازجنازہ پڑھ کر فوٹو سیشن کروا لیا۔
اب خان صاحب اپنے محفوظ علاقوں چوہدری پرویز الٰہی کی چھتر چھاؤں میں انصافیوں کو ٹہلاتے پھر رہے ہیں۔ مزید شہادتیں حاصل کرنے کے لیے گنڈا پور کو اسلام آباد کا ٹاسک دیا ہوا ہے۔ لاہور یا پنجاب کے کسی علاقے میں ایسا ایڈونچر اس لیے نہیں کریں گے کہ ان جگہوں پر حکومت اپنی ہے۔ الزام کس کو دیں گے۔ عمران خان کوئی سیاستدان نہیں۔ نہ کوئی لیڈر وغیرہ ہے۔ سیاستدان سیاسی عمل سے کبھی باہر نہیں نکلتا۔ جس پارلیمنٹ کے نام پر ووٹ لیتا ہے اسے بے توقیر نہیں کرتا۔
موصوف جب جب پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئے۔ سوائے حکومتی پونے چار سالوں کے۔ کبھی پارلیمنٹ میں نہیں ٹھہرے۔ نہ کبھی اپنی جماعت کو ٹھہرنے دیا۔ یہ عجیب سیاسی جماعت ہے جو منتخب پارلیمنٹ کے لئے ہوتی ہے اور پھر پورے پارلیمانی سال خود کو اور اپنے ووٹرز کو سڑکوں پر رولتی ہے۔ پہلے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پی ٹی آئی صرف عمران خان کا نام ہے۔ خان نہیں ہو گا تو یہ چار چھ مانگے کی اینٹیں بھی بنیرے سے اکھڑ جائیں گی۔
اسی وجہ سے خان صرف اپنی ذات کے گرد ہی سیاست کو گھما رہا پے۔ نہ اس کا مسئلہ قانون سازی ہے۔ نہ ملکی معیشت۔ دن گیارہ بجے اٹھنے والا اور دو بجے واپس اپنے محل میں جاکر سو جانے والا ملک کے لئے کیا کام کرے گا۔ یہ الزام لگانا بظاہر بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی بیرونی ایجنڈے پر ہی کام کر رہا ہے۔ لیکن اگر اس کی سیاست اس کے نظریات بغور جائزہ لیں تو ملک کے تمام جمہوری سویلین اور عسکری اداروں کو قطعاً بے توقیر اور بے اعتبار نہ صرف ملک اور بیرون ملک بھی کر دینے والا۔
اپنی حکومت چھن جانے پر بظاہر الیکشن کا مطالبہ لیکن ساتھ ساتھ عسکری قیادت کو سیاسی عمل میں شامل ہونے پر مجبور کرنے والا اور اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر مارشل لاء کی خواہش رکھنے والا اس ملک کا خیرخواہ کس طرح اور کس پہلو سے ہو سکتا ہے۔ ؟ خدا انصافیوں کو ہدایت دے اور وہ خان کی بد دماغی اور اصل ایجنڈے کو سمجھ سکیں اور وہ اسلام آباد کے پاس گنڈا پور کے جہاد سے بھی محفوظ رہیں۔ کیونکہ اس جہاد میں نہ خان کے بیوی بچے اور نہ باقی پی ٹی آئی قیادت کے بیوی بچے شامل ہیں۔ سو سی بھی شہادت کی سعادت بھئی صرف عوام ہی کو حاصل ہو سکتی ہے
ویسے ہمارا اندازہ ہے۔ یہ لانگ مارچ پنجاب کی حدود سے باہر نہیں نکلے گا۔ انصافی سڑکوں پر اور خان اپنے محل میں۔
2013 والے دھرنے میں بھی موصوف ٹہلتے ہوئے آتے کنٹینر پر تماشا لگاتے اور واپس گھر جاکر سو جاتے۔ انصافی کاروبار چھوڑ میوزک کنسرٹ میں موج میلہ کرتے رہے۔ اب بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔


