فوجی کاشن ہے ”جیسے تھے“


دیہات میں جن کی زمینداریاں بڑی ہوتی تھیں ان کے معاملات زمینداری ذرا دھیرے دھیرے چلتے تھے۔ شام کے کلوں سے بندھے جانور جب صبح ہونے پر تنگ پڑ جاتے تو گھر کا وڈیرا جانوروں کی سنبھال کرنے والے سے کہتا ”ان کو دن والے کلوں پر کر دو“ ۔

اس نے اٹھنا اور ناچنے کودنے والے جانوروں کو پچھلے کلوں کر دینا۔ جانور دو چار گھنٹے وہاں بہت خوش رہتے۔ اس کے بعد وہاں بھی بور ہونا شروع ہو جاتے تو پھر شام والے کلوں پر کرنے کے احکامات مل جاتے۔ مطلب یہ کہ جب بھی مالک محسوس کرتا کہ جانور اکتا گئے ہیں اور عن قریب رسے ٹوٹنا شروع ہو جائیں گے تو تبدیلی کلے کا حکم دے دیتا، ایسا کرنے سے جانور تین چار گھنٹے بڑے سکون سے نکال لیتے۔

اس سے تقریباً ملتی جلتی مشق زمانہ طالب علمی میں اس وقت دیکھنے کو آئی جب ایجوکیشن کالج لاہور میں این سی سی کی کلاس شروع کی تو پہلے آٹھ دس دن ایک سمارٹ سے حوالدار صاحب کاشن یاد کراتے رہے، کاشن کچھ اس طرح تھے، دائیں پھر، بائیں پھر، جیسے تھے وغیرہ۔

جب یہ کاشن سنے خاص طور پر ”جیسے تھے“ تو گاؤں میں جانوروں کی بوریت دور کرنے کے لیے کی جانے والی سرگرمی ”رات والے کلے دن والے کلے“ یاد آتی تھی۔

میڈیا پر موجود خان صاحب کی تقاریر پھر حاکموں کی پریس کانفرنسیں اور پریس ریلیزیں اس وقت کے ملکی سیاسی و معاشی حالات بارے ضرورت سے بہت فالتو اطلاعات موجود ہیں۔

اٹھارہ میں الیکٹیبلز کے بازو شازو مروڑ کے خان صاحب کو وزیر اعظم بنوانے والے تگڑوں نے اپنی کامیابی کا اظہار کھلے عام ”وتعزمن تشاء وتذل من تشاء“ کہتے ہوئے کیا۔ اس کامیابی کے اظہار میں بھی ایک قسم کا جھوٹ شامل تھا کہ الیکٹ ایبلز کو ہراساں خود کرتے رہے اور اس بدعنوانی کے نتائج برآمد ہونے پر ان کو اللہ کے کھاتے میں ڈال دیا۔

عوام کی اکثریت کی تقلیدی سوچ سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمارے ہاں ایک پریکٹس یہ بھی ہے کہ ملکی مختار اپنی غلط کاریوں کو قبولیت بخشوانے کے لیے اللہ کا نام دھوم دھڑلے سے لیتے ہیں۔ ایسا کرنے کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ وزیر اعظم اپنا بنوا لیا اور اللہ کا نام لینے پر ثواب بھی مل گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی یقین لے آئے کہ اب کی بار چونکہ سارا کام اللہ نے کیا ہے اس لیے اب ہمارے بھاگ جاگ جائیں گے۔

پھر وقت بدلا بازو مروڑ کو کسی مجبوری کی وجہ سے جن کو اللہ نے عزت دی تھی ان کی بجاآوری سے دست بردار ہونا پڑا، دست برداری کا اعلان سنتے ہی خوش فہمیوں میں خوش رہنے والوں نے خوشی کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔ سابق مسیحا نے دست بردار کو سیاسی معاملات سے نیوٹرل ہو جانے پر جعفر، صادق اور جانوروں کے کھاتے میں ڈالا دیا۔

پھر نیوٹرل نے صفائیاں دینی شروع کر دیں۔ اب پبلک بے شمار نئی خوش فہمیوں میں مبتلا ہو چکی ہے اور صفائیاں قبول کرنے پر تیار نہیں، خواہ صفائی پیش کرنے والے کی وردی پر کتنے ہی ستارے کیوں نہ سجے ہوں۔

شروع میں بتایا تھا کہ جانوروں کے کلے تبدیل کیے جاتے ہیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ این سی سی کی ٹرینگ میں ایک کاشن ”جیسے تھے“ بھی ہوا کرتا تھا۔ سبز باغ کے شوقین اگر کچھ لمحات کے لیے مان لیں کہ باغ کے سرسبز ہونے کا تعلق مالی کی گوڈی پانی کی سخت محنت میں پوشیدہ ہے نہ کہ مالی کی لمبی نوکری میں۔

یقین مانیے کہ لانگ یا شارٹ مارچ، نیوٹرل، سائفر، حقیقی یا دو نمبر آزادی، میر جعفر و صادق کچھ بھی نہیں، بس کلے تبدیل ہو رہے ہیں، آپ ویسے ہی رہیں گئے جیسے تھے۔

کان لگ کر سنیں، مالک مویشیاں کی ہدایت کہ ”اگلے کلے تے پچھلے کلے“ باقاعدہ سنی جا سکتی ہیں۔ اگر آپ دیہی بیک گروانڈ نہیں رکھتے تو پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں آپ اس غل میں حوالدار صاحب کا غل ”جیسے تھے“ بھی سن سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS