پت جھڑ کے رنگ خزاں


دھند، بادل، ملگجا سا اندھیرا اور ٹنڈ منڈ درخت یوں جیسے خالی ہاتھ جا بجا بکھرے پاؤں تلے چرچراتے پتے۔ زندگی موت ملنے بچھڑنے کے کتنے استعارے کتنے اشارے کتنے اسباق پوشیدہ ہیں اس میں گویا چرمراتے پتے پیغام دے رہے ہوں۔ کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو کبھی پھولوں کی سنگت میں سر سبز شاخوں پر خوشی سے جھولتے تھے اور اب قدموں تلے روندے جا رہے ہیں یہ استعارہ یہ کہانی فتح و شکست کی بھی تخت سے تختے اور امیری سے غریبی کی بھی۔

خزاں کا یہ موسم میرے لئے اپنے اندر کئی کہانیاں، کی رنگ کئی انگ، کئی زاویے رکھتا ہے۔ اتنا متنوع موسم شاید ہی کوئی اور ہو جس میں اتنے استعارے اتنی کہانیاں پوشیدہ ہوں۔ جس کا ہر پرت ہر زاویہ زندگی سے جڑا ہو اور موت کو چھوتا ہو۔

درختوں پر جھولتے سوکھے پتے ہوا کے جھونکے سے اڑ کر دور جا گرتے ہیں۔ میرے لئے یہ موت کا استعارہ کہ جانے کب زندگی کی شاخ سے ٹوٹ کر ایک انجان دنیا میں جا گریں۔ ان دیکھی ابدی دنیا میں ایسا ہی یہ موسم جو بہت اندر سے اداسیاں اور بے نام سے غم کی کہانی لئے ہوئے۔

خزاں کے ساتھ ہی اختتام سال تو ایک نیا اشاریہ کہ عمر عزیز کا ایک اور برس خزاں رسیدہ ہو کر ماضی کی گپھاؤں میں گم ہونے جا رہا ہے کبھی واپس نہ آئے کے لئے۔ جیون کے درخت پر کیا باقی ہے؟ رنجیدہ کر دینے والا سوال اب عمر کی نقدی ختم ہوئی۔

مغربی ممالک میں خزاں بہت خوب صورت سرخ سرخ پتوں سے لدے شجر اشجار جو پکار پکار کر کہتے ہیں کہ صرف بہار ہی حسین نہیں۔ خزاں کا اپنا ایک حسن۔

جوانی کی بہار تو گزر گئی مگر بڑھاپے کی خزاں کا اپنا ایک حسن و جمال، دل آویزی نانی بن کر دادی بنکر زندگی میں نئی بہار نئی کونپلیں نئے شگوفے پھوٹتے دیکھنا ہمارے بزرگ کیسے برگزیدہ ایک نورانی ہالہ لئے ہوئے۔

چہروں پر نور تقدس و ملکوتی مسکراہٹ سجائے ہوئے۔

خزاں کے ٹنڈ منڈ درخت حیات بعد الممات کا سب سے بڑا مظہر کہ خزاں میں درخت اور اس کی شاخیں یوں کہ جیسے خس و خاشاک لگتا نہیں کہ ہی دوبارہ سر سبز ہوں گی۔ پھر آمد بہار کے ساتھ ہی آلوچے اور خوبانی خشک شاخوں پر سفید سفید پھول کھل کر اللہ مصوری خلاقی و حقانیت کے شاہد کہ جو رب خزاں کو بہار میں بدلنے پر قادر اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔

خزاں گردش ایام بھی خوشیوں سے غموں کا سفر بھی۔ کہیں مرد کی بے وفائی اور کہیں جوان موت کہ زندگی خزاں بن کر رہ گئی۔ خزاں انقلاب زمانہ کہ لوگ محروم اقتدار تو سنبھل نہ پائے امیر فقیر تو یہ سارے خزاں کے رنگ ڈھنگ۔

دنیا کے بیشتر علاقوں میں درخت خزاں میں سرخ میرون رنگارنگ پتوں سے لدے ہوئے جو یہ پیغام دیتے ہوئے کہ خزاں میں کیسے شوخ رنگ کا لباس قدرت نے ہمیں پہنایا۔ کہ خالق کائنات جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے تو بڑھاپے کی خزاں و بے رنگی کو گہرے رنگوں سے رنگین بنائیں خزاں کے یہ درخت یہی پیغام سناتے ہیں۔ کہ کائنات تو رنگوں سے عبارت کہ کیسے کیسے رنگ ہمارے آس پاس بکھرے ہوئے ہمیں تدبر کی دعوت دیتے ہیں۔

آخر میں اس دعا کے ساتھ کہ رب کائنات ہمیں اپنے رنگ میں رنگ دے۔ ویسے آپس کی بات ہے ساٹھ سال سے زیادہ ہونے کے باوجود میں گہرے اور کھلتے ہوئے رنگ پہنتی ہوں اور آپ؟

Latest posts by نصرت نسیم (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نصرت نسیم کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments