کینیڈا اور ڈنمارک کے درمیان ہونے والی وہسکی وار


دس جون 2022 کو کینیڈا اور ڈنمارک کے درمیان تقریباً پچاس سالہ تنازعہ اختتام کو پہنچا۔ یہ تنازعہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک چھوٹے سے جزیرے پر تھا جو صرف ایک مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔

یہ چھوٹا سا جزیرہ ہانس، کینیڈا کی ریاست نوناوٹ اور ڈنمارک کے زیر انتظام ملک گرین لینڈ سے ملتا تھا۔ یہ سارے برفانی علاقے ہیں جو بحیرہ آرکٹک کے قریب واقع ہیں۔ جزیرہ ہانس قطب شمالی سے تقریباً 680 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس جزیرے کے قریب کینیڈا کی ایک تیل کی کمپنی نے کچھ تحقیقاتی کام شروع کیا تھا۔ اسی طرح ڈنمارک کی بھی کچھ کمپنیاں جزیرے کے گرد تحقیقاتی کام کرتی تھیں۔ یہاں موسم اتنا شدید ہوتا ہے کہ بعض اوقات دونوں ملکوں کی کمپنیاں واپس پلٹ جاتیں تھیں کیونکہ جزیرے تک رسائی نا ممکن ہوتی تھی۔

1984 کی بات ہے جب کینیڈا کے فوجیوں نے اس جزیرے پر کینیڈا کا جھنڈا لہرا دیا اور ساتھ میں کینیڈا کی ایک بہترین وہسکی کی بوتل ڈنمارک کو جلانے کے لئے رکھ دی۔ ڈنمارک کو جب اس کی خبر ملی تو اسی سال ڈنمارک کا وزیر جو گرین لینڈ کا انتظام سنبھالتا تھا، اس جزیرے پر آیا اور اس نے کینیڈا کا جھنڈا اتار کر ڈنمارک کا جھنڈا لہرا دیا اور ساتھ میں اترے ہوئے کینیڈا کے جھنڈے کے اندر لپیٹ کر ڈنمارک کی مشہور وہسکی کی بوتل وہاں کینیڈا کے لئے رکھ دی اور ساتھ میں لکھ دیا ”ڈنمارک میں خوش آمدید“ ۔

اس جنگ کو اسی لئے وہسکی وار کہا جاتا ہے۔ کینیڈا یا ڈنمارک کا جو بھی نمائندہ وہاں جاتا، دوسرے کا جھنڈا اتار کر اپنے ملک کا جھنڈا لہراتا اور ساتھ میں دوسرے ملک کے جھنڈے کے اندر اپنے ملک کی بہترین شراب کی بوتل رکھ آتا۔ دونوں ملکوں کے نمائندے جب بھی وہاں سے گزرتے بہترین شراب سے لطف اندوز ہوتے لیکن دوسرے ملک کے جھنڈے کو احترام سے اتارتے اور اس کو لپیٹ کر اس میں اپنے ملک کی بہترین شراب رکھ دیتے۔

2005 میں اس جزیرے کے سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کی کوششیں بالآخر کامیاب ہوئیں اور جزیرے کو آدھا آدھا بانٹ کر ایک طرف کینیڈا کا جھنڈا لہرا دیا گیا اور دوسری طرف ڈنمارک کا۔ اس طرح کینیڈا کی سرحد یورپ سے جا ملی اور ڈنمارک کی شمالی امریکہ سے۔

اس سال جون میں کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان کیا اور دنیا کی توجہ امن کی طرف مبذول کروائی کہ سرحدی تنازعے اس طرح بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے ایک دوسرے کو وہسکی کی بوتل بھی پیش کی۔

دوسری طرف پاکستان اور انڈیا دونوں آپس میں دست و گریباں ہیں۔ سیاچین میں ہر دوسرے روز ایک بھارتی فوجی اور ہر چوتھے دن پاکستانی فوجی کی ہلاکت ہوتی ہے۔ بھارت کا کنٹرول اوپر والے برفانی تودے پر ہے اور پاکستانی فوج کا نچلے حصے پر۔

موسمی درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے آئے دن برفانی طوفان آتے رہتے ہیں۔ 2012 میں ایک ایسے ہی طوفان اور برف پگھلنے اور تودہ گرنے سے 140 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے۔ 2003 سے اب تک یہاں سیز فائر ہے لیکن اتنے شدید موسم میں ہلاکتیں روز کا معمول ہیں۔ اگر برفانی موسم سے بچ بھی گئے تو آکسیجن کی شدید کمی آپ کو مار دے گی۔ اب تک کل ملا کر کوئی دو ہزار فوجی بغیر کوئی گولی چلانے اپنی زندگی گنوا چکے ہیں۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سیاچین گلیشئر دونوں ملکوں کے لئے دفاعی لحاظ سے اہم ہے پھر بھی اتنے شدید موسم کے پیش نظر یہاں فوجی رکھنا کسی طور پر بھی درست فیصلہ نہیں ہے۔

انڈیا اپنے فوجیوں پر سیاچین میں سالانہ 300 ملین ڈالر خرچ کرتا ہے۔ پاکستان کا خرچہ اس سے قدرے کم ہے لیکن یہ بھی اربوں روپے میں ہے۔ پچھلے تیس سال سے دونوں ملک یہ ہاتھی پال رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے تقریباً پانچ پانچ ہزار فوجی یہاں تعینات ہیں۔ یومیہ اس جنگ کا خرچہ ایک ملین ڈالر ہے۔ جانی نقصان الگ۔ یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے؟

ہونا تو یہ چاہیے کہ دونوں ملکوں کی طرف سے سیاچین کو غیر فوجی علاقہ قرار دے کر دونوں طرف انڈیا اور پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا جائے۔ ایک اور وہسکی وار کی طرح ہم پاکستان کے جھنڈے میں ان کو پاکستان کے خشک میوہ جات بھیجیں اور وہ ہمیں انڈیا کے جھنڈے میں اپنی برفی۔ ہم ان کو پاکستان کا مشہور کیک بھیجیں اور وہ ہمیں آگرہ کی مشہور پیٹھے کی مٹھائی۔

جھنڈے میں ایک دوسرے کو لاشیں لپیٹ کر دینے سے تو مٹھائی کہیں بہتر ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments