کیا پاکستان میں کسی بہتری کی امید ہے؟
پچھلے چند دنوں سے ملک کے حالات میں جس تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رو نما ہو رہی ہے اس نے بلا شبہ ہر شہری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ موجودہ سیاسی انارکی کے زندگی کے ہر شعبے پر دوررس اثرات پڑ رہے ہیں۔ سیاست سے لے کر معیشت تک اور معیشت سے لے کر مذہب تک ہر شعبہ زندگی ایک ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ صورتحال کافی تشویشناک لگ رہی ہے لیکن جمہوریت اور جمہوری ریاستوں کے تاریخ پہ نظر ڈال کر تاریکی کی اس نا ختم ہونے والی رات میں طلوع صبح کے اثرات نظر آ نے لگتے ہیں۔ جس سے انسان کو کچھ بہتر ہونے کی امید ہو جاتی ہے۔
ویسے تو جمہوریت اور سیاسی احتجاج، مظاہروں اور تحریکوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لیکن موجودہ دور میں یورپ اور امریکہ ایک مضبوط جمہوری نظام کے بل بوتے پر امن، ترقی اور خوشحالی کے ایسے مقام تک پہنچ گئے ہیں جس کو دیکھ کر کچھ لوگ یہ باور کرتے ہیں کہ شاید یہ نظام صرف ان کے لئے موزوں ہے اور باقی دنیا کے لئے نہیں۔ مگر حقیقت ایسی نہیں ہیں۔ ان ممالک کو یہاں تک پہنچنے کے لئے صدیاں لگی ہیں۔ کئی سیاسی تحریکوں نے ان ممالک میں جمہوری ارتقائی عمل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
مثال کے طور پر یورپ کی تاریخ میں گلورئیس ریوالوشن اور فرینچ ریوالوشن نے سیاسی، سماجی اور اقتصادی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ اس طرح امریکہ میں 1848 ء میں خواتین کے حقوق کے لئے منعقدہ سینیکا فال کنوینشن، 1960 ء میں شہری حقوق کے لئے گرینز بورو اور ناشویلی کے دھرنے اور حال ہی میں بلیک لائیوز میٹر کے تحریکوں نے سماجی تبدیلی اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان تمام ممالک نے موجودہ جمہوری سیاسی نظام قائم کرنے کے لئے ایک لمبا ارتقائی راستہ طے کیا ہے۔
اس کٹھن سفر میں لاکھوں لوگ اپنی جان، مال اور وقت کے قربانی دے گئے۔ ان بحرانوں سے گزر کر ان ممالک نے یہ تاریخی سبق سیکھ لیا کہ افہام و تفہیم، بقائے باہمی اور برداشت ہی تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ اور سیاسی لحاظ سے یہ سبق حاصل کیا کہ ریاست اور شہری کا رشتہ ایک عمرانی معاہدے کے تحت قائم ہے۔ جس میں ہر ادارے کا کردار واضح طور پر بیان ہوا ہے اور ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرے گا۔
وطن عزیز پاکستان میں تحریک انصاف اور قومی جمہوری اتحاد نے کچھ عرصے سے جو احتجاجی سیاست شروع کی ہے اس کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ملک صحیح سمت چل پڑا ہے۔ اس سیاسی بحران سے گزر کر ایک قابل قبول سیاسی نظام کا قیام ممکن ہو سکے گا۔ کیونکہ جب تک کسی مسئلے پر کھل کر بات نہیں ہوگی اور ہر فریق کے کردار کو متعین نہیں کیا جائے گا تب تک بہتری کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔ سیاسی استحکام اور سماجی ترقی کوئی ریڈ کارپٹ واک نہیں بلکہ کانٹوں پہ چلنا ہے۔ دیر آید درست آید کے مصداق اب امید سی پیدا ہونے لگی ہے کہ ہمارے ملک نے اس کانٹوں والے راستے پہ چلنے کے لئے رخت سفر باندھ لیا ہے۔
پنسلوینیا یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ڈینئیل گیلیون نے تحریکوں اور مظاہروں کی سیاست پہ وسیع تحقیق کی ہے۔ ان کہ بقول احتجاجی سیاست بنیادی طور پر شراکتی جمہوریت اور سماجی تبدیلی کو ممکن بناتے ہیں۔
احتجاج کا حسن یہ ہے کہ اس کے ذریعے لوگ اپنے گلے شکوے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ احتجاج شہریوں کو طاقت کا احساس دلاتا ہے۔ جمہوریت کا زریں اصول یہ ہے کہ اقتدار اعلی کی حاکمیت عوام کو حاصل ہے اور عوام کو اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ ریا ست کے ساتھ اپنے تعلق کا از سر نو جائزہ لے کر اس کو ایسے اصولوں پہ استوار کریں کہ شہری کی حیثیت ایک محکوم کی نہیں بلکہ حاکم کی ہو۔ چونکہ موجودہ دور میں ریاست کا تصور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے فلاح کے بنیاد پر قائم ہے۔
اس کے علاوہ احتجاج اور تحریکیں سماجی، سیاسی اور معاشی تبدیلیاں لانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے افہام و تفہیم اور بحث و مباحثے کے کلچر کو فروغ ملتا ہے۔ احتجاج کے ذریعے شہری حکمرانوں کو جوابدہ بناتے ہیں۔ احتجاج کے ذریعے ہی حکمران اور رہنما اپنے ایوانوں سے نکل کر عوام کے ساتھ سڑکوں اور چوراہوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس طرح عوام اور خواص کے درمیان فاصلہ کم ہو جاتا ہے ۔ حکمران کو اپنے درمیان دیکھ کر شہری کو اپنی سیاسی طاقت کا احساس ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنے حکمران کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ذمے داریوں کا احساس دلاتا ہے اور اس پہ یہ بات واضح کر تا ہے کہ میرے ووٹ کے بل پوتے پر آپ اس منصب تک پہنچے ہو اور یہ کہ اقتدار اور کرسی کسی کی جاگیر نہیں۔ اگر آپ اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر سکتے تو کسی اہل اور قابل کے لئے کرسی خالی کرو۔
مختصر یہ کہ ملک کے موجودہ حالات کو دیکھ کر گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ زندہ قومیں ہمیشہ مشکلات اور مصائب سے سرخرو ہو کر نکلتی ہیں۔ اس بحران سے گزر کر ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرنا ممکن ہو جائے گا۔ جس میں شہری اور ریاست کا رشتہ واضح ہو گا۔ ہر ادارے کا کردار متعین ہو گا۔ حکومت شہریوں کو جوابدہ ہوگی۔ جہاں کسی کی حکمرانی نہیں ہوگی۔ فلاحی ریاست کا تصور ہو گا۔ رہنما شہریوں کا خادم ہو گا نہ کہ حکمران۔ دل تھام کے رکھو۔ بہتر کی امید رکھو۔ کیونکہ کندن آگ میں جل کر سونا بنتا ہے


