لانگ مارچ، حادثہ اور عمران: وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا


وہ جو ہم تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مومن خان مومن نے اس غزل میں وہ سب کچھ موجود ہے جو عمران خان اقتدار سے الگ ہو نے سے لانگ مارچ تک کرتے چلے آرہے ہیں انہوں نے اداروں سے کبھی بیک ڈور رابطے کیے ، کبھی ماضی کی آشنائی یاد دلائی، کبھی ہاتھ جوڑے، کبھی دھمکیاں دیں، کبھی تاحیات توسیع کی پیشکش کی، کبھی الزامات لگائے، کبھی آرمی چیف کی تقرری میں مشاورت مانگی، کبھی یوٹرن کے نئے معانی متعارف کرائے، کبھی براہ راست نام لے کر کان کھول کر سننے کی تاکید کی مقصد ایک ہی تھا کہ ماضی کی آشنائی کا خیال ہی کرلو روٹھا ہوں تو ماننے کو تیار ہوں مگر جواب غیرجانبداری کا ملتا ہے تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے اور زہر افشانی کیے جاتے ہیں۔ عمران خان کو اس سے غرض نہیں کہ ملک کا کیا بنتا ہے وہ سرگرداں ہیں کہ اقتدار کا ہما ان کے سر پر بٹھایا جائے۔ ماضی قریب کا ان کا یہ بیان بین السطور نہیں واضح طور پر سب کچھ بتا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اس وقت صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو فوج سب سے پہلے تباہ ہو گی، فوج ہٹ ہوئی تو یوکرین کی طرح پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی ختم کر دیا جائے گا۔ ایٹمی پروگرام ختم ہوا تو ملک کے تین ٹکڑے ہوں گے۔ موجودہ لوگوں کو اقتدار سے نہ نکالا گیا تو ملک کے جوہری اثاثے چھن جائیں گے۔

عصر حاضر کی سیاست کا امام، اٹلی کے مکیاویلی کو قرار دیا جاتا ہے، اس کے فلسفہ ٔ سیاست کا خلاصہ یہ ہے کہ اصل اہمیت مقصد کی ہے، ذرائع کی نہیں، حصول مقصد کے لیے جو ذرائع اختیار کیے جائیں سب جائز ہیں۔ اس اصول کے تحت، جھوٹ، فریب، دغا بازی، دھوکا دہی، معاہدہ شکنی، غرض کہ ہر حربہ، جو حصول مقصد کے لیے مفید ہو، نہ صرف جائز بلکہ ضروری قرار پاتا ہے۔ اس فلسفہ ٔسیاست نے دنیا کو جس طرح درندوں کی آماجگاہ بنا دیا ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

سیاست کی تباہ کاریاں ویسے ہی کچھ کم نہیں، لیکن جب مذہبی ٹچ لگ جائے تو اس کی تباہ کاریاں اور حشر سامانیاں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں۔ عمران خان کے ہاں جب سیاست خود ساختہ مذہبی تقدس کا نقاب اوڑھے، ہاتھوں میں تسبیح چلاتے، شرک کے معنی بیان کرتی، خود ساختہ شریعت کی عظمت و اقتدار کے نعرے بلند کرتی نظر آتی ہے تو یہ دوآتشہ شراب کی صورت اختیار کر لیتی ہے، بدقسمتی سے یہ سیاست پاکستان میں فروغ پا چکی ہے جس کا عمران خان سمبل ہیں۔ خود ساختہ مذہبی نقاب کی آڑ میں آگے بڑھنے والی سیاست کا سب سے بڑا الم انگیز پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی فریب کارانہ روش کی تائید میں، مقدس اور عظیم ترین ہستیوں کو اپنے حق میں بطور گواہ پیش کرنے سے بھی نہیں شرماتی۔

اس روش پر اعتراض آئے تو عمران خان سمیت حواریوں کی بڑی تعداد جھٹ سے کہہ دیتی ہے کہ ہم نے کون سا انوکھا کام کیا ہے ( معاذ اللہ) ۔ مخالفین یا موصوف کے بعض معتقدین اعتراضات سے قائل نظر آئیں تو انہیں ڈانٹ کر کہا جاتا ہے کہ تمہارا ایمان بڑا کمزور ہے جو آغاز میں ہی میں گھبرا گئے، قبر میں سوال ہو گا، شرک کر رہے ہو ( نعوذ باللہ ) ، ان کا ”ایمان“ ہے کہ اس وادی میں اصولوں میں لچک پیدا کرنا ایک طرف، جھوٹ بولنا بھی نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔

ان کی خود ساختہ مذہبی تاویلات دیکھ کر مکیاویلی کی یاد ستانے لگتی ہے البتہ عمران خان اور مکیاویلی میں ایک فرق ہے کہ مکیاویلی سیاست پر عمل کرنے والا کوئی دوسرا سیاسی لیڈر اپنے جھوٹ، فریب دغا بازی کو کبھی فخریہ بیان نہیں کرتا، ادھر عالم یہ ہے کہ الزامات منسوب ہونے پر مذمت کرنے والوں پر خان جی حواریوں سمیت پل پڑتے ہیں الزامات سے نہ صرف انکار کر دیا جاتا ہے بلکہ یہ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اس قسم کی حرکات سے بہت بلند ہیں، اسے امر بالمعروف کہہ کر ، خود ساختہ نیکی اور ثواب کے تصور رات میں الجھا کر دوسروں کو دھوکا دے کر خوش ہوتے ہیں کہ وہ سرخرو ہو گئے۔

عمران خان کی مکیاویلی سیاست نئے الیکشن کی پیش بندی ہے، ان سے یہ کہا جائے کہ آپ نے ریاست مدینہ بنانے اور مورثی سیاست دفن کرنے کا بیانیہ دیا تھا مگر ریاست مدینہ نظر آئی اور نہ مورثی سیاست کا خاتمہ دکھائی دیا۔ دائیں بائیں وہی خانوادے ہیں۔ تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ عملی سیاست میں نظری اصولوں میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ فرشتے کہاں سے لائیں، یعنی جو کچھ نظری طور پر حرام ہو، وہ عملی طور پر حلال و طیب بن جاتا ہے۔ الیکشن میں کامیابی بلند ترین مقصد ہے، اس کے لیے، صداقت، راست بازی، دیانت، امانت جیسی ”معمولی اقدار“ کا نقصان کچھ معنی نہیں رکھتا۔

عمران خان اور ان کی جماعت سیاسی لیڈروں کو کوستی چلی آ رہی ہے یہ تو سب اقربا نواز اور اعزہ پرور ہیں ’۔ اس قسم کی دوسرے الزامات کا تانتا ہے جو نام نہاد صادق و امین کی طرف سے بندھا رہتا ہے۔ ایک بار پھر زمام اقتدار ان کے ہاتھ میں آ گئی تو عمران خان اور ان کے صالحین مکیاویلی سیاست اور مذہبی ٹچ کی آڑ میں کیا کچھ نہیں کر گزریں گے؟ یہی مذہبی ٹچ حالیہ فائرنگ کی بظاہر وجہ بنتا نظر آ رہا ہے اگر یہ پلانٹڈ نہیں۔

عمران خان کہتے ہیں کہ وزیر آباد میں جو کچھ ہوا یہ پلان تھا، اس کے بارے میں 24 ستمبر جلسے میں آگاہ کر چکا ہوں، رانا ثنا قاتل ہیں اس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں لوگوں کو قتل کرایا، ان کو خوف تھا کہیں اسلام آباد نہ آ جاؤں۔ رانا ثنا نے 18 قتل کرائے، شہباز شریف کیس میں گواہ کیسے مرے، کبھی کسی نے تحقیقات نہیں کیں۔

شہباز شریف، رانا ثنا نے پلان بنایا، ساتھ ڈرٹی ہیری مل گیا۔ ڈرٹی ہیری نے خوف پھیلایا، ڈرٹی ہیری نے پہلے شہبازگل پھر اعظم سواتی پرتشدد کرایا، اور ننگا کر کے ذلیل کیا، اعظم سواتی پرتشدد سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ان تینوں نے مجھے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔

سوال پوچھتا ہوں پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ سے ایسا سلوک ہو رہا ہے، رول آف لا کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ کو انصاف نہیں مل رہا، چیف جسٹس صاحب جو چھ ماہ میرے ساتھ کیا گیا ایسا تو کسی دشمن کے ساتھ نہیں کیا جاتا، وزیراعظم ہاؤس کی ریکارڈنگ کو ریلیز کیا گیا، میرے خلاف دشمن والا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ یہ پاکستان کی جمہوریت اور قوم کو تباہ کر رہے ہیں، مشرقی پاکستان میں کیا ہوا تھا جو جماعت الیکشن جیتی انہیں حق نہیں دیا گیا، اس کے خلاف ملٹری ایکشن کیا اور ملک توڑ دیا۔ اس بیان کے بعد عمران خان سے حفیظ جالندھری کے الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے

یوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے
اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

Facebook Comments HS