اقبال اور ہمارے چار گروہ


بیشتر انسانوں کے لیے خود غور و فکر کرنا، زندگی کے گورکھ دھندوں سے نمٹنا اور آگے بڑھنے کے لیے راہیں متعین کرنا دشوار ہوتا ہے یا انہوں نے ایسا سمجھا ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں ایک ایسے رہنما کی تلاش ہوتی ہے جس کے قدم سے قدم ملا کر آنکھیں بند کر کے پیروی کی جا سکے۔ ایسے میں میر کارواں ایک بت بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس قدر گہرا جذباتی ناتا جڑ جاتا ہے کہ اس کی کہی ہوئی کسی بھی بات پر تنقید ناقابل برداشت بن جاتی ہے۔ قائد کی جہان دیدگی سے تو استفادہ ہو رہا ہوتا ہے لیکن اس کی تمام تر نادیدگی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اکثر حالات میں جہان دیدگی کی بھی ایک طے شدہ میعاد ہوتی ہے اور نئی دریافتوں اور ایجادات کے بعد ایکسپائر ہو ہی جاتی ہے، لہٰذا لکیر کے فقیروں کا مشکل میں پڑ جانا طے ہے۔

آج تک ایسا انسان نہیں دیکھا جو ہو بہو وہی زندگی جیتا ہے جس کی وہ تبلیغ کرتا ہے۔ آپ دنیا کے بڑے بڑے فلسفی اٹھا کر دیکھ لیجیے، پہلے تو ان کا فلسفہ بذات خود ایک پیراڈاکس ہو گا اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو ان کے قول اور فعل میں تضاد ضرور ہو گا۔ تھیوری اور عمل میں فرق کا نمایاں ہونا ایک بشری تقاضا ہے۔ ایسا بھی کوئی شخص نہیں گزرا جس نے کبھی کچھ غلط نہ کہا ہو، اس لیے کسی شخص کے ساتھ صد فی صد متفق ہونا ایک ذی شعور انسان کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ اقبال بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان کے حوالے سے ہمارے ہاں چار بڑے گروہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

پہلا وہ جن کی اقبال کے ساتھ محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اقبال کا ہر فرمان بطور ضرب المثل پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی ان پر کسی حوالے سے تنقید کرتا ہے تو کمر کس کر اقبال کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ اقبال کی شخصیت کا یک طرفہ تذکرہ انتہائی ابتدائی جماعتوں سے نصاب کا حصہ ہوتا ہے اور ریاست کے قومی شاعر اور مبینہ مفکر ہونے کے ناتے انہیں ہر پلیٹ فارم پر ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، اس لیے اقبال کے ساتھ اس حد تک عقیدت ہونا سمجھ سے بالاتر نہیں ہے۔ جیسے پہلے بتایا گیا ہے، ان لوگوں کو اقبال میں وہی قائد نظر آتا ہے جس کی بغیر کسی جھجک کے پیروی کی جا سکتی ہے۔

دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو اقبال سے کچھ اختلافات یا ان کے قول و فعل میں کچھ تضادات کی بنیاد پر پورے اقبال کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً ان کا مذاق بھی اڑاتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے فہم کے آگے اقبال کی کوئی حیثیت نہیں ہے حالانکہ عموماً معاملہ الٹ ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر مغربی مفکرین سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض مفکرین کو وہی درجہ دیتے ہیں جو پہلے گروہ نے اقبال کو دیا ہے۔ اس گروہ کو مناسب

رد استعماریت (decolonization) کے بعد معتدل نقطۂ نظر کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے۔

تیسرا گروہ پہلے دو گروہوں کی طرح انتہا پسند نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ تو اقبال کی مکمل نفی کرتے ہیں اور نہ ان کے بت تراشتے ہیں۔ اس گروہ کو اقبال بھی اپنے جیسا بشر معلوم ہوتا ہے لہٰذا ان میں کوئی فرشتہ ڈھونڈنے کی بجائے انہیں انسانی کمزوریوں اور صفات کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اقبال کے ساتھ ان لوگوں کی عقیدت جذباتی سے کہیں بڑھ کر علمی ہوتی ہے۔ یہ لوگ شرق و غرب کی تفریق میں نہیں پڑتے۔ جہاں سے بھی سیکھنے کو کچھ ملتا ہے، بلا تردد سیکھ لیتے ہیں۔ اپنا تعلق بھی اسی گروہ سے ہے۔

تاحال جہاں تک اقبال کو جانا ہے، ان کا پسندیدہ گروہ بھی تیسرا ہی ہے۔ انہوں نے کسی کی اندھی تقلید نہیں کی اور نہ حصول علم کے سلسلے میں مذہبی اور ثقافتی بٹوارے کو رکاوٹ بنایا۔ ہر مکتب فکر کا مطالعہ کر کے اپنا راستہ خود متعین کیا۔ ممکن حد تک اپنے طرز کی ایک تعمیر نو کی کوشش کی جس کا ثبوت ان کی تصنیف

”The Reconstruction of Religious Thought in Islam“

میں بخوبی ملتا ہے۔ انہوں نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ میرا بت تراش لیں اور جو کچھ میں نے کہا یا کیا ہے، اسی تک محدود رہیں۔ وہ بذات خود ایک پیہم سفر میں رہیں اور دوسروں کو بھی جہد مسلسل اور تجدید کا سبق دیا۔ فکر کا سفر انہی تک محدود کرنا اور انہیں ایک فوق البشر والی حیثیت دینا مخصوص ریاستی سرپرستی اور ہماری اپنی کاہلی کا نتیجہ ہے، اس میں اقبال کا ذاتی طور پر کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ تو ہماری ذمے داری ہے کہ جو عمارت انہوں نے کھڑی کی ہے، پہلے اس کی جان پڑتال کر لیں اور پھر جہاں مناسب لگے، مرمت کر لیں، جہاں ضرورت محسوس ہو، نئی اینٹیں لگا لیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جس حد تک اقبال کو موضوع بحث بنایا جاتا رہا ہے، اتنا ان کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ سنی سنائی باتوں پر ایک گروہ نے انہیں امام بنا لیا جبکہ دوسرے نے یکسر رد کر دیا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ فیس بک پر موجود میرے چار ہزار دوستوں میں سے شاید ہی بیس لوگوں نے اقبال کی کتاب

”The Reconstruction of the Religious Thought in Islam“

کی ورق گردانی کی ہو، اسے پوری طرح سے سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ فارسی کلام پڑھنے والوں کی تعداد اس سے بھی کم ہوگی۔ میں خود بھی اقبالیات کا ابتدائی طالب علم ہوں۔

چوتھا گروہ وہ ہے جو نثر نما اشعار میں دل کی بھڑاس نکال کر نیچے لکھ لیتا ہے ”اقبالؔ!“

اقبال نے ہمیں متواتر تعمیر نو اور اجتہاد کا پیغام دیا لیکن ہم نے اس حوالے سے ان ہی کی طرف سے کی گئی محنت پر بس کیا۔ مولانا مودودی کو جہاں تک میں نے سمجھا ہے، اجتہاد کے بڑے قائل تھے۔ جماعتی بھی انہیں گزشتہ صدی کا سب سے بڑا مجتہد مانتے ہیں لیکن جماعتیوں نے بھی اجتہاد کو انہی پر ختم کیا ہے۔ ایک طرف دعویٰ کرتے ہیں کہ اپنا کوئی فرقہ نہیں ہے جبکہ دوسری طرف جب مودودی صاحب کے مقابلے میں ابو الکلام آزاد، مولانا وحید الدین خان، جاوید غامدی، ڈاکٹر اسرار وغیرہ لا کھڑے کیے جاتے ہیں تو پھر ان کی فرقہ پرستی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ یہی رویہ باقی مکاتب فکر کا اپنے رہنماؤں سے متعلق ہے۔

ہم نے اگر آگے بڑھنا ہے تو جمود اور بت تراشیوں سے باز آنا ہو گا۔ بقول اقبالؔ
تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی
شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

Facebook Comments HS