اقبال اور ہمارے چار گروہ

بیشتر انسانوں کے لیے خود غور و فکر کرنا، زندگی کے گورکھ دھندوں سے نمٹنا اور آگے بڑھنے کے لیے راہیں متعین کرنا دشوار ہوتا ہے یا انہوں نے ایسا سمجھا ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں ایک ایسے رہنما کی تلاش ہوتی ہے جس کے قدم سے قدم ملا کر آنکھیں بند کر کے پیروی کی جا سکے۔ ایسے میں میر کارواں ایک بت بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس قدر گہرا جذباتی ناتا جڑ جاتا ہے کہ اس

Read more

کتاب پر ایک نظر :”Sapiens“

اسرائیلی تاریخ دان یوال نوح حراری کا بین الاقوامی سطح پر کافی چرچا ہے۔ ان کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب 2014 ء میں ان کی لکھی گئی ایک کتاب کا ”Sapiens, A Brief History of Humankind“ کے عنوان کے ساتھ عبرانی زبان سے انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ یہ کتاب راتوں رات مشہور ہوئی اور رفتہ رفتہ ساٹھ زبانوں نے اس کو اپنی آغوش میں جگہ دی۔ بعد میں ان کی دو کتب اور بھی آ گئیں۔ حال ہی

Read more

میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا

اکثر لوگ کسی مخصوص پارٹی، شخص یا نظریے کے قائل ہوتے ہیں اور پوجنے کی حد تک اس سے عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کے مخالفین میں سے اگر کوئی ٹھیک کام بھی کر لے تو ان کا ظرف ان کو اس کی تعریف و توصیف کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں تک تو پھر بھی ٹھیک ہے لیکن یہ اس پر اکتفا نہیں کرتے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ باقی لوگ بھی ان ہی کی طرح کسی نہ کسی کو پوجتے ہوں

Read more

اسرائیلی لابی اور ہماری سوچ

فیس بک اور واٹس اپ کے ذریعے کئی دوستوں نے تنبیہ کی کہ آپ نے Jerusalem Prayer Team نامی پیج کو فالو کیا ہے حالانکہ یہ اسرائیل کا پیج ہے۔ چونکہ وہ لوگ اپنے پروپیگنڈے کے لیے اس پیج کا استعمال کر رہے ہیں لہٰذا اس کو ان فالو کر دو۔ کچھ احباب یہ شکایت بھی کر رہے ہیں کہ انہوں نے پیج خود فالو نہیں کیا تھا بلکہ یہ فیس بک کا اپنا کیا دھرا ہے۔ انفرادی طور پر کئی

Read more

خدا گم نہیں ہوا

کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے سے وہ آزادی چھین لے جو خود خدا نے اس کو دی ہے۔ انسان کو اتنا پابند سلاسل نہ کیا جائے کہ وہ اپنے ہی خالق سے گلے شکوے نہ کر سکے، سوالات نہ پوچھ سکے اور جستجو کر کے اس کی پہچان نہ کر سکے۔ اگر انسان اپنے وجود، مقصد تخلیق، فلسفۂ حیات، قضیۂ مکان و لامکاں، ہنگامۂ ہست و نیست اور اس طرح اور بہت سارے گورکھ دھندے خدا سے ڈسکس نہ کرے تو کیا اپنی ہی جیسی مخلوق سے ڈسکس کرے جو خود خدا کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور یا خدا کی غلط پہچان کر کے اسی پر اکتفا کر بیٹھی ہے؟

Read more

سوئے اتفاق

بچپن سے میری خواہش رہی ہے کہ کسی طرح نئی جگہیں دیکھوں، نئے نظریات سے آشنا ہو جاؤں، نئے

لوگوں سے ملوں اور ان سے زندگی کے تجربات کے بارے میں پوچھ گچھ کر کے بہت ساری باتیں سیکھوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مثبت شوق ہے۔ ایسا کرنے سے بہت ساری ایسی باتوں سے واقفیت ہو جاتی ہے جو کتابوں میں نہیں پائی جاتیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہر جگہ میری اس خواہش کا سامان ہو ہی جاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں شام کا وقت ہو اور چائے نہ پی جائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہاسٹل کے کینٹین میں اپنے نئے دوست فراز کے ساتھ چائے پینے بیٹھا تھا۔ فراز سے پہلی ملاقات ایک ہفتہ پہلے یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں ہوئی تھی اور پہلی ہی ملاقات میں دوستی ہو گئی۔ وہ بلوچستان کے ایک خوبصورت لیکن پس ماندہ علاقے سے ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات میں بی ایس کر رہا ہے۔ کچھ گپ شپ کے بعد میں نے فراز سے پوچھا:

Read more

خلافت و ملوکیت: میری نظر میں

سید ابو الاعلٰی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب ” خلافت و ملوکیت“ کا نام تو سب نے سنا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ بہت کم لوگوں نے یہ کتاب پڑھی بھی ہوگی۔ یہ ابو الاعلٰی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی وہ کتاب ہے جس کو تنگ نظر و متعصب مخالفین اور ان کے اندھے مقلدین نے سب سے زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کی، لوگوں کو اس سے دور رکھنے کے لیے سرتوڑ تحریکیں چلائی گئیں

Read more