میڈیا کرائسز اور انٹر پرینورشپ


وہ پیشہ ورانہ طور پر صحافی ہے۔ اپنے معاشی تحفظ کے لئے اس نے ایک سائیڈ بزنس شروع کیا۔ کہتا، میڈیا کے سیٹھ مافیا کے موڈ بگڑنے کا کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ کب قلم کی ایک جنبش سے برخاستگی کا لیٹر پکڑا دیں۔ میرے بیمار، ضعیف والدین اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ان کی ادویات، تعلیم، گھریلو اور دیگر اخراجات میری قلیل تنخواہ میں پورے نہیں ہو رہے۔ میں ان کی خواہشیں نہیں مار سکتا۔ اسی لئے سائیڈ بزنس شروع کیا ہے۔ دفتر کی مختصر سی تنخواہ اور سائیڈ بزنس کی آمدن ملا کر میرے کئی گھریلو مسئلے حل ہو جائیں گے اور اپنے بچوں اور والدین کی خواہشات پوری کر سکوں گا۔

وہ مزید بتا رہا تھا کہ اب تک ہمارے کتنے ہی دوست ”میڈیا کرائسز“ کا شکار ہو چکے ہیں۔ حالات اس نہج پر ہیں کہ ذہنی طور پر صحافیوں کو اس بات کے لئے تیار رہنا ہو گا کہ کسی بھی وقت، کسی کو بھی رخصتی کا پروانہ تھمایا جا سکتا ہے۔ سو ضروری ہے کہ متبادل بندوبست رکھا جائے تاکہ یک دم کوئی ایسا جھٹکا زندگی سے مایوس نہ کر دے۔

یہ خیالات ایک صحافی دوست کے تھے۔ جب سے ملک معاشی بحرانوں کا شکار ہوا ہے، ہر شعبہ کی طرح میڈیا انڈسٹری پر بھی زوال آیا ہے۔ میڈیا کے کارکنان کی جبری برخاستگیاں شروع ہوئیں، کئیوں کی تنخواہوں پر کٹ لگے، جو تاحال بحال نہ ہو سکے۔ بے شمار کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہوتی ہوتی کئی کئی ماہ نیچے لگ گئیں، جن کے ملنے کی امید ہی نہیں ہے۔ میڈیا انڈسٹری سے کئی سالوں تک وابستہ رہنے اور اسی شعبہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنے والے صحافی دوستوں کو مالکان کے ان اقدامات پر جھٹکا لگا۔

کئی دوست تو یہ اقدام برداشت نہ کر سکے اور یا تو بیمار ہو گئے یا دوسری دنیا سدھار گئے۔ دلبرداشتہ ہو کر بیشتر صحافی دوستوں نے میڈیا کی فیلڈ کو خیر باد کہہ کر کوئی اور کام شروع کر دیا۔ کئی دوستوں نے مذکورہ واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے میڈیا کی جاب کے ساتھ ساتھ سائیڈ بزنس کا بھی آغاز کر دیا۔ میں کئی ایسے صحافیوں کو جانتا ہوں جنہوں نے سائیڈ بزنس کے عوض خود کو مستحکم کیا اور اس فکر سے آزاد ہوئے کہ اگر میڈیا کے ”سیٹھ“ انہیں نکال بھی دیں، تو ان کے پاس متبادل وسیلہ موجود ہو گا۔

صحافی برادری کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کی کوششوں کے تناظر میں گزشتہ دنوں چند میڈیائی دوستوں نے یونائیٹڈ جرنلسٹ فورم کے پلیٹ فارم سے ڈیجیٹل میڈیا اور فری لانسنگ کے موضوع پر ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ اس ورکشاپ کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا گیا اور شرکاء کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا کی جانب منتقل ہونے کی ترغیب دی گئی۔ یو ٹیوب چینلز بنانے سے لے کر اس کے لئے مواد (کانٹینٹ) کی تیاری اور اس کے اپ لوڈ کرنے سے لے کر تکنیکی مشکلات کے ازالے تک تربیت دی گئی جبکہ فری لانسنگ کے لئے مہارات میں اضافے کے لئے بھی مختلف تجاویز دی گئیں۔ سوشل میڈیا پر اثر انگیز یوٹیوبرز اور فری لانسرز نے شرکاء کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور ان کی رو سے انہیں صحافت کی فیلڈ میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو اپ گریڈ کرنے کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔

مذکورہ تربیتی پروگرام اور اس جیسی مزید ورکشاپ اس لئے بھی ضروری ہیں کیونکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مجموعی حالات جس نہج پر ہیں، ان میں ہم صرف ملازمت پر بھروسا نہیں کر سکتے۔ بالخصوص لگی بندھی تنخواہ کے حامل افراد کے لئے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو حالات کے دھارے کے ساتھ بہانا بہت ضروری ہو چکا ہے۔ یونائیٹڈ جرنلسٹ فورم نے جس کام کا بیڑہ اٹھایا ہے، اسے آگے بڑھانا اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی بھوکے کو کھانا کھلانا اور کسی کے روزگار کا بندوبست کرنا۔

یعنی، انٹر پرینورشپ (Entrepreneurship) آج کے دور میں جتنی ضروری ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔ ہر فرد کا انٹر پرینور ہونا نہ صرف معاشی استحکام کا ضامن ہو گا بلکہ ملازمتوں کے حصول کے لئے جوتیاں گھسیٹتے افراد کو بھی خود کو منوانے کے مواقع میسر آ سکیں گے۔ میں سمجھتا ہوں یونائیٹڈ جرنلسٹ فورم کو ثابت قدم رہتے ہوئے ایسی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ صحافتی کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے لئے بھی ماہرین کو آگاہی و تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرنا چاہیے، تاکہ قلیل تنخواہ کے حامل افراد بھی ان مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے گھروں کا معاشی سرکل خوش اسلوبی سے چلا سکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments