جنرل اکبر خان تا حال، صورت حال


جنرل اکبر خان کی آپ بیتی میری آخری منزل پڑھنے کے بعد اور کچھ سنی اور دیکھی ہوئی صورت حال کا اگر ہم تجزیہ کرنے بیٹھ جائیں تو تاریخ کے اوراق خود بخود پلٹنے لگ جائیں اور ہم پڑھتے پڑھتے دنگ رہ جانے کے ساتھ ساتھ ان واقعات کے ساتھ چاہے نہ چاہے ہم آہنگ بھی ہوتے جائیں گے۔

پتہ نہیں اسے سازشی تھیوری کا نام دیں یا کار سازی ڈلیوری کا شاخسانہ کہیں لیکن یہ سب کچھ ہماری مرضی سے بالکل نہیں ہوا ہاں البتہ اس کے مہرے ہم ضرور تھے۔ اور مہرے ہمیشہ استعمال ہوتے ہیں اور دوسرے کے ہاتھوں سے اپنی اپنی جگہ پر رکھے جاتے ہیں جہاں استعمال کرنے والا فریق یا کھلاڑی کھیلنا چاہتا ہے ویسے ان مہروں میں نام کے لحاظ سے بادشاہ، ملکہ اور گھوڑے جیسے ناموں کے رکھنے کے حامل مہرے ہوتے ہیں جو صرف نام کی حد تک ہوتے ہیں کام کسی اور کا ہوتا ہے۔

یہ وہ دور ہوتا ہے جب نواب زادہ لیاقت علی خان وزیراعظم ہوتے ہیں اور ان کے سامنے آرمی چیف کی تقرری کے فرائض انجام دینے ہوتے ہیں اور وہ جنرل اکبر خان اور ایم رضا کو بائی پاس کرتے ہیں اور ان سے جونئیر افسر کو فوج کی کمان ان کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔

اور وہ جنرل بعد میں جنرل ایوب خان کے نام سے جانے جاتے ہیں یا اپنا تعارف پاکستان کی تاریخ میں اس نام سے کندہ کر کے چلے جاتے ہیں۔

جنرل ایوب خان نہ صرف انیس چھپن کا آئین سبوتاژ کرتے ہیں بلکہ انیس اٹھاون میں پھر مارشل لاء لگوا کر ایک انکوائری بھی بٹھا دیتے ہیں کہ وہ یہ پتہ لگوائیں کہ یہ انیس سو چھپن کا آئین کیوں ناکام ہوا جس کا آج تک پتہ نہ چلا۔

اس کے بعد ایوب خان بطور صدر آرمی چیف کا تقرر کرتے ہیں تو وہ جنرل موسیٰ خان کو جو سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہوتے ہیں کو آرمی چیف بناتے ہیں۔ اور جب یہی باری ایک بار پھر سے جنرل ایوب اپنے دور ایوبی میں دہراتے ہیں تو اس بار اپنے سنیارٹی لسٹ کے تیسرے نمبر پر افسر کو فوقیت دے کر آرمی چیف بنا دیتے ہیں جو بعد میں نہ صرف خود مارشل لاء لگواتے ہیں بلکہ ایوب خان سے استعفی بھی لے لیتے ہیں۔ جن کو تاریخ میں جنرل یحییٰ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔

اسی تسلسل کو پھر مسٹر بھٹو بھی دہراتے ہیں اور ایک نہ صرف جونئیر ترین فوجی افسر کو بلکہ ان کی دانست میں شریف النفس شخص کو آرمی چیف کے منصب پر براجمان کر دیتے ہیں جو بعد میں ان کو نہ صرف معزول کرتے ہیں بلکہ تختہ دار تک بھی لے جاتے ہیں۔ جو تاریخ میں ضیا ء الحق کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں جن کو سات فوجی افسروں پر فوقیت دے کر چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا گیا تھا۔

اس تسلسل کو پھر نواز شریف بھی دہراتے رہے ہیں اور ہر بار ان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ایک بار جنرل مشرف جیسے جونئیر ترین فوجی افسر کو آگے لانے کے بعد جو سنیارٹی پر تیسرے نمبر پر تھے اور جنرل ملک اور علی قلی خان جیسے دبنگ جنرلز کو نظر انداز کیا گیا۔

پھر جنرل راحیل شریف کو بھی تیسرے نمبر سے اٹھا کر آرمی چیف کے عہدے پر فائز کیا جو گاہے بہ گاہے نواز شریف کے لئے اور سسٹم کے لئے مسئلہ بنتے گئے اور ان کے لئے کچھ لوگوں نے باقاعدہ بینرز چھپوائے جس پر نعرے لکھے ہوئے تھے قدم بڑھاؤ راحیل شریف لیکن وہ قدم بڑھاتے بڑھاتے قدم سبکدوشی کی طرف موڑ کے چلے گئے۔

بالکل اس طرح نواز شریف نے سنیارٹی لسٹ پر پانچویں نمبر پر جنرل باجوہ کو آرمی چیف کے عہدے کے لئے اہل سمجھا۔ لیکن کچھ عرصے بعد نواز شریف پھر ببانگ دہل اسلام آباد تا لاہور موٹر وے پر جگہ جگہ صدائیں دیتے ہوئے پائے گئے کہ مجھے کیوں نکالا گیا؟

جب آج سے تین سال پہلے جنرل باجوہ کا بطور آرمی چیف ٹینیور ختم ہوا تو عمرانی دور میں ان کو ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ ہوا جس کے لئے باقاعدہ آئین میں ترمیم کرا کے اس مشق کو قابل رشک بنا کر چشم اشک بنایا جو بعد میں خود عمران خان نے نہ صرف اس کو اپنے سیاسی رخسار پر جگہ جگہ اور بار بار بہایا بلکہ اس کی نمی اب تک دلدل کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دلدل سے ہماری سیاست اور سیاست دان کس طرح نکلتے ہیں یا پھر تاریخ اپنے آپ کو دھرا کر ہم ایک بار پھر انیس سو اکیاون یا پھر دو ہزار انیس کی طرف لوٹ کر فیصلوں پر اکتفا کرتے ہیں۔

ویسے بھی بقول شاعر
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
جو کرے سو آپ کرے ہم کو عبث بدنام کیا۔

Facebook Comments HS