"ویڈیو گیم” اور عورتیں


کون کہتا ہے پاکستان میں فلمیں نہیں بنتیں یا کم بنتی ہیں پاکستان میں فلمیں بہت بنتی ہیں مگر ریلیز موقع اور وقت دیکھ کر کی جاتی ہیں ان فلموں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ اس میں صرف ڈائریکٹر ہوتا ہے کہانی اور کیمرہ پرسن نہیں ہوتا ٹیکنیشن سے کام چلانا پڑتا ہے جو لوگ ان فلموں میں نظر آتے ہیں ان کی حقیقت سے قریب اداکاری سے ہم لوگ تو نہیں مگر فنکار خود متاثر ہو جاتے ہیں ایسی فلمیں ریلیز کرنے کے لئے کسی سینما یا سنی پیکس کی ضرورت نہیں بس جب ڈائریکٹر کا دل چاہا سنسر بورڈ کی اجازت کے بغیر فلم ریلیز کردی۔ فلم سوشل میڈیا پر ریلیز کرتے ہیں کیونکہ یہ طریقہ سستا ھے اور سکرین توڑ ویوز بھی ملتے ہیں اور لوگ فی سبیل اللہ آگے بڑھاتے رہتے ہیں ہر کوئی یہ فلم مزے لے کر دیکھتا ہے۔ اپنے دوستوں یاروں سے شئیر کرتا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر کمنٹ کرتا ہے ہے "ہم کس طرف جا رہے ہیں اور ھم کتنا گریں گے” اس جملے کے بعد اس لنک کو دوبارہ آگے کر دیا جاتا ہے۔

سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لئے یہ ہتھکنڈے نئے نہیں ہیں مگر فرق یہ ھے کہ پہلے یہ فلمیں تصویریں خواص تک محدود ہوتی تھیں اب سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک کلک پر لاکھوں اور کروڑوں افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔ مجھے اس سارے عمل سے بہت تکلیف ھے۔ کسی کی نجی زندگی آپ کیسے چوک پر لے آتے ہیں۔جس ڈھٹائی اور بےحیائی سے آپ یہ کام کرتے ہیں آپ ایک لمحے کے لئے نہیں سوچتے کہ لوگوں کی نجی زندگی کی جھلکیاں اچھالنے سے آپ معتبر نہیں ہو جاتے بلکہ لوگوں کی سوچ سے زیادہ گھٹیا ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس ویڈیو گیم سے اس لئے بھی بہت تکلیف ھے کہ ہمارے بال سفید ہوگئے ہیں لوگوں سے سیاست کے حق میں بحث مباحثے میں کہ سیاست اچھی ھے اپنے حقوق کے حصول کی جدو جہد کا پر امن طریقہ ھے۔ سیاست میں حصہ لینا ہر شہری کا حق ہے۔ وغیرہ وغیرہ مگر جس برے طریقے سے سے ان ویڈیوز کے ذریعے سیاستدانوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے ہے اس سے تو لگتا ہے ہمارے سیاست کے حق کے دلائل کمزور پڑ گئے ہیں۔
 میرے جیسے بہت سے لوگ لوگ جو پچھلے 25 سالوں سے اور بہت سے لوگ اس سے بھی بہت پہلے سے لوگوں کو اور خصوصاً عورتوں کو سیاسی عمل میں شمولیت کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سماج میں سدھار ایک مربوط اور مستقل سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، سماج میں تبدیلی لانےکے لیے اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا اور سیاست میں رہ کے ہم اپنا حصہ زیادہ بہتر طریقے سے ڈال سکتے ہیں۔ مگر ان ویڈیوز کے لانچ ہونے کے بعد لوگ ہم سے پوچھتے ہیں یہ ھے آپ کی سیاست اور یہ ہے آپ کے سیاست دان۔ ان ویڈیوز کی ریلیز کے بعد میں نے بہت سوچا لوگوں کے ردعمل کو جانچا تو یہ بات سامنے آئی کہ ایسی ویڈیو کی ریلیز سے کچھ قوتیں بہت سے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں ہیں جن میں ایک تو سب کو نظر آرہا ہے کہ سیاسی جماعتوں پر دباؤ بڑھانا بلیک میل کرنا لیکن اس مقصد کے علاوہ ایک اور مقصد اپنے دیرینہ خواب کی تعبیر پانا یعنی لوگوں کو سیاست سے لاتعلق بنانے اور سیاسی عمل کے خلاف نفرت کو فروغ دینا کہ عام شخص ایک طرف تو سیاستدان سے نفرت کرے اور دوسری طرف یہ بھی سوچے کہ جب سیاست میں آنے والوں کے بیڈروم تک محفوظ نہیں ہیں تو مجھے کیا پڑی ھے کہ سیاست میں ا کر اپنا تماشہ لگاؤں۔ بہتر ھے گھر پر رہوں دو وقت کی روٹی کماؤں اور بس۔
تو ایسے میں آپ عام لوگوں کو اور پھر خصوصا عورتوں کو سیاست کی طرف کیسے راغب کر سکتے ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ مرد سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ساتھ سیاست دان عورتیں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں عورتوں کو سیاسی عمل میں شمولیت کی طرف راضی کرنا کس قدر مشکل ہے اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو تین دہائیوں سے عورتوں کو سیاست میں لانے کی بات کر رہے ہیں مگر مجھے لگتا ھے ایسی ویڈیوز کی ریلیز رفتہ رفتہ عورتوں پر علم، روزگار اور سیاست کے دروازے بند کرتی جائے گی کیونکہ ویڈیوز صرف سیاستدانوں۔ کی ریلیز نہیں ہونگی سرکاری افسران تعلیمی اداروں سے بھی تیزی سے آنا شروع ہو جائیں گی۔ڈیپ فیک ویڈیوز کا زمانہ ھے ایسی ویڈیوز بنانے کے لئے کسی مہارت کی ضرورت نہیں کہ اگر کسی کلاس فیلو لڑکی نے یا دفتر میں کسی خاتون نے لفٹ نہیں کرائی تو خاتون کے چہرے کی تصویر کھینچ لی اور بعد میں ڈیپ فیک ویڈیو میں کسی بھی جگہ پر لگا کے ریلیز کر دی۔
ہمارا معاشرہ ایسا ھے کہ فیصلہ پہلے سناتا ھے اور آپ کو بعد میں سنتا ھے ایسی ویڈیوز کی ریلیز سے عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے بعد ان سے پوچھا جائے گا کہ ویڈیو فیک ھے یا نہیں۔ غیرت کے نام پر قتل اور خودکشیاں تو ویسے ہی اس ملک میں بہت ہیں مزید زیادہ ہو جائیں گی۔ ہر کوئی اعظم سواتی کی طرح بااثر بھی نہیں ہوتا کہ ایف آئی اے والے فارنزک کر کے گھر والوں کو بتائیں کہ ویڈیو اصلی ھے یا نقلی اور ویسے بھی اصلی اور نقلی کا نتیجہ اس خاتون کی زندگی میں اب کوئی فرق نہیں لا سکتا کیونکہ ھم سب جانتے ہیں ہم زیادہ تحقیق کو بھی سازشی تھیوری سمجھتے ہیں اور عورتوں کے معاملے میں تو بس ایک ہی ویڈیو کافی ھے۔ اس کے بعد کیا ہوگا اس کا اندازہ لگانا آپ کے لئے مشکل نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس سارے کا نتیجہ ایک دفعہ پھر یہی نکلے گا کہ تعلیم روزگار سیاست عورتوں کی پہنچ سے بہت دور ہو جائیں گے کہ گھر والے اتنا بڑا رسک کیوں لیں بہتر ھے گھر پر بیٹھے۔ ایسا غیر سیاسی غیر تعلیم یافتہ معاشرہ جن کا خواب ھے وہی ایسی ویڈیوز کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں میری تو تمام عمر کی کوشش رائیگاں ہی چلی گئی ۔۔۔
Facebook Comments HS