گلوبل ولیج دنیا اور ابلاغ عامہ کے اساتذہ کی تقرری سے انکار


پوری دنیا کی طرح ہمارے ملک میں بھی میڈیا، سوشل میڈیا کا عروج ہے، ہر وہ شہری جو شہری صحافت ”سوک جرنلزم“ کے دور میں موجود ہے یا گزر رہا ہے، یعنی اس دور میں ہر شہری کے پاس سمارٹ فون ہے اور وہ اس کے جال میں گھرا ہوا ہے۔ وہ اپنا 24 گھنٹے میں زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتا ہے۔ اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ لوگ نیند سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں۔ جی ہاں اس کے علاوہ اکثر لوگ ہر لمحہ یا صورتحال پر تبصرہ کر رہے ہیں۔

”شہری صحافت“ یا اظہار رائے کی آزادی کے تناظر میں یا لوگوں کو سیکنڈوں میں بتانا کہ ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ لگ یوں رہا ہے کہ ہر چار میں سے تین افراد صحافی یا مصنف ہیں ان لوگوں کا تعلق نہ صرف کسی دوسرے سیارے سے ہے بلکہ ہمارے اور آپ کے درمیان زمین پر موجود ہر طبقہ سے ہے، اور انہیں سوشل میڈیا اور پروفیشنل میڈیا ذرائع دونوں کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے، اور فوجی محاذ کی طرح دفاع یا کسی فرد کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر۔

تنظیم اور دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ سیاست، فوج، عدالتوں، کاروبار میں ہر روز آپ کو اخبارات، ٹی وی چینلز یا سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کرتے نظر آتے ہیں۔

اب دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ سوشل میڈیا ہر شخص کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں کتنی سچائی اور کتنی غیر ضروری بات بڑھ رہی ہے اس کے دو پہلو ہیں ایک وہ جو سوشل میڈیا یا ٹی وی پر جان بوجھ کر کسی کے خلاف لکھ رہا ہے یا بول رہا ہے اور دوسرا وہ ہے جو بغیر تصدیق کے اس پوسٹ کو آگے بھیج دیتا ہے۔

یہ اہم شعبے اور پلیٹ فارم ہماری روزمرہ کی زندگی میں بہت اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور ان سے دور رہنا مشکل ہو گیا ہے، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے متعلقہ شعبہ جات کے ساتھ ساتھ ان کو بھی پڑھنا چاہیے تاکہ سماجی طور پر غیر اخلاقی یا غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ شعبہ ابلاغ عامہ یونیورسٹیوں اور کالجوں سے نکلنے والا ہر طالب علم سوشل میڈیا سوشل جرنلزم کے اچھے اور درست استعمال اور اس کے مثبت اور منفی اثرات کا علم ہو سکے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسی کوئی حکمت عملی نہیں ہے جو اس اہم شعبے کے بارے میں کالج سائیڈ کے طلباء کو آگاہ کیا جا سکے۔

یونیورسٹی کے علاوہ اس شعبے میں کالج سائیڈ کے طلباء ایک کلاس نہیں لیا جاتا چونکہ وہاں اساتذہ مقرر نہیں لیکن ان کو ماسٹرز جرنلزم اور ماس کام کی ڈگری کیسے دی جاتی ہے؟ حال ہی میں سندھ پبلک سروس کمیشن نے مختلف شعبوں میں لیکچرز اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی بھرتیوں کا اعلان کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ماس کام کے ہزاروں گریجویٹس بے روزگار ہیں اور ان کے مضامین کی آسامیوں کا اعلان نہیں کیا گیا جس سے نہ صرف ڈگری ہولڈرز بلکہ ہر شہری اور سوشل میڈیا صارف کا بھی بہت نقصان ہو رہا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں کے اثرات عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ اس کا صحیح استعمال نہیں جانتے، لہاذا ملک کی صوبائی و وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اس اہم شعبے میں کالج تک لیکچرز اور اساتذہ کی بھرتی کی جائے۔ تاکہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات ہمارے معاشرے پر نہ پڑ سکیں۔

Facebook Comments HS