سرد جنگ: پروفیسر خالد منیر، جنید رضا کی نظر سے


پروفیسر خالد منیر 28 اکتوبر 2022 کو وفات پا گئے۔ لیکن یہ تحریر ان کی پسندیدہ تحریروں میں سے ایک تھی۔ جی ہاں یہ وہی ہے، جس کا ذکر میں اپنے آخری طویل افسانہ میں کر چکا ہوں۔

پروفیسر خالد منیر میری زندگی میں اچانک داخل ہونے والا پہلا پراسرار انسان ہے۔ لیکن کسی بھی صاحب استعداد شخص کا میری زندگی میں شامل ہونا، میرے لیے کوئی بڑی حیرت کی بات نہی رہی۔ میرے ساتھ پہلے بھی ایسا کئی بار ہو چکا ہے۔

اول، مدثر ضیاء جیسا محسن جو بہت عظیم شاعر بھی ہے، اور پھر مولانا نور بخش صاحب جیسے صاحب کمال شخص سے تاحیات پنپنے والا دوستی کا رشتہ اور پھر پروفیسر خالد منیر جیسے شفیق انسان سے ملاقات۔ میں اس سب کو اپنی تقدیر سمجھنے لگا ہوں۔

گویا میں انہیں صدیوں پہلے سے جانتا تھا لیکن ملاقاتوں کا سلسلہ بڑی دیر سے شروع ہوا۔

خیر میں آج ٹھان کر بیٹھا تھا کہ آج اپنی تحریر کے بہاؤ کو ایک ہی رخ پر قائم رکھوں گا، جبھی میں صرف پروفیسر خالد منیر کے ذکر پر ہی اکتفا کرنا چاہتا ہوں ورنہ جن لوگوں سے میں متاثر ہوں اس کا سلسلہ طویل ہے۔

میری اس سے ملاقات آج سے ایک سال، دو ماہ اور پندرہ بیس دن پہلے ہوئی۔ میں ککڑ ہٹہ سکول، کبیروالا میں بطور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اپنی امتحانی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا، جہاں وہ سینٹر چیک کرنے پہنچا۔

اس کے آنے سے پہلے ہی چونکہ اطلاع مل چکی تھی، میں نے پوچھا کیسا ہے؟ بولے، بہت اچھا نہیں ہے۔ یہ میرا اس سے پہلا تعارف تھا۔ وہ آیا، میں نے ہاتھ ملایا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ لیکن وہ پرتاب چہرے والا، اپنی گمشدہ نظروں سے مجھے ہر بار تکتا رہا۔

میں جب دیگر تمام تر کاموں سے فارغ ہوا، تو اس نے سنٹر کے آخری کمرہ کے باہر گیلری میں مجھے روکا۔
”آپ کا نام کیا ہے، بیٹا؟“
”جنید رضا۔“
”تم جنوری کی پیدائش ہو بیٹا؟“
میرے لیے یہ چونکا دینے والی بات تھی، حالانکہ درست نہیں تھا، ایک ماہ کا فرق باقی تھا۔

میں نے اس درمیانے قد کے مالک، ہلکی سفید داڑھی والے کی گہری آنکھوں میں دیکھا، مجھے سوائے یادداشتوں کے کچھ بھی نہیں ملا۔

”نہیں۔ فروری۔“
میں نے بغیر لحاظ کیے، جواب دیا۔
”نہیں بیٹا، تم جنوری کی پیدائش ہو۔“
”نہیں۔“
میں نے فوراً بات کاٹی، لیکن وہ مجھ سے کہیں زیادہ ڈھیٹ طبیعت کا مالک ٹھہرا۔

وہ اپنی پیشین گوئی کو بہرصورت درست ثابت کرنے پر تلا تھا۔ اس کی عادت ہے کہ وہ اپنی بات منوا لینا چاہتا ہے۔ یہ ڈھٹائی بلا شبہ اس کی ملازمت کے عرصہ میں ملنے والی شہرت و پذیرائی کا پھل ہے، یا پھر یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اس کی ملازمت کے عرصہ میں اس کے صاحب جمال ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب کمال ہونے نے اس کی عادتوں کو بگاڑ کر رکھ دیا۔

وہ ریٹائرڈ پروفیسر ہے، اور اول دن سے عظیم مقرر اور قابل ستائش استاد رہا۔ جس کی بڑی وجہ اس کا صنف مزاح سے بے انتہا شغف تھا۔ جہاں جوانی میں یہ صنف اسے ممتاز مقام دینے میں ایک ستون کی طرح قائم رہی تو وہیں بڑھاپے میں یہ صنف اسے ہمہ قسم کی لذتوں سے محظوظ رکھتی ہے۔

ملازمت کے طویل عرصہ میں وہ کئی اضلاع میں تعینات کیا گیا، وہ اپنی زندگی کا کم ہی عرصہ اپنے ضلع خانیوال میں رہا، لیکن پھر بھی وہ اس قدر عاشق مزاج ثابت ہوا کہ سینکڑوں کلو میٹر روزانہ کا سفر کر کے بھی شام میں اپنے گھر سکون تلاشنے پہنچ جاتا۔

کہنے کو دور دراز علاقوں میں ملازمت ہونا کوئی بڑی بات نہیں، لیکن میں اس دور کی بات کر رہا ہوں، جب خانیوال سے ساہیوال ایک ہی بس جاتی تھی اور روڈ کی حالت اس قدر خستہ تھی کہ ایک سو چالیس کلومیٹر کا یک طرفہ سفر کئی گھنٹوں میں طے کرتی۔

وہ نور پیر ویلے نکلتا، اور شام کے بعد ہی گھر پہنچتا، اگلی صبح یا بلکہ رات کو پھر سے بھرپور تیاری کے ساتھ، شلوار قمیص، بوٹ اور حسب معمول ویسٹ کوٹ پہن کر بس پکڑنے پہنچا ہوتا۔

ایسی مشقتیں اور ستائشیں اگر انسان کو ڈھیٹ بنا دیں تو کسی تعجب کی بات ہرگز نہیں۔
اس کی ڈھٹائی طشت از بام تھی۔
”آج گھر جانا تو اپنی ماں سے پوچھنا، وہ نہیں بھولتیں۔ تم جنوری کی ہی پیدائش ہو۔“
میں اس کی ہٹ دھرمی پر خوشگوار سی کراہت محسوس ہوئی جس کا بعد از میں عادی ہو گیا۔
میں چونکہ اول دن سے صاف گو ٹھہرا ہوں۔ جبھی میں بھی اپنے انکار کو تھامے ہوا تھا۔
”وہ نہیں رہیں۔“
”تو والد سے پوچھ لینا۔“
”وہ بھی نہیں رہے۔“

”تمہارا بلڈ پریشر لو رہتا ہے، چیک کرا لینا۔ اگر ایسا ہی ہو تو سمجھ جانا کہ تم جنوری کی پیدائش ہو۔“
”جی میرا بلڈ پریشر لو رہتا ہے۔“
میں اب مکمل تسلی کر چکا تھا کہ میری کوئی شاہدی اب کام نہیں آنے والی۔
”دیکھا، بیٹا، تم جنوری کی پیدائش ہو۔“
مجھے اس کی بات مان لینے میں ہرگز دقت نہ ہوتی اگر مجھے اپنے برج حوت سے محبت نہ ہوتی۔
میں خیالی دنیا میں رہنے والا، حقیقت پسند لوگوں کے برج میں شامل ہونے کو ہرگز تیار نہیں ہو سکتا تھا۔

میں اپنے ستارہ کو ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر، سرد جنگ قائم رکھنے کی ٹھان چکا تھا، اور ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔

”ایک بات کہوں؟“
”جی بیٹا، کہو۔ دیکھو بیٹا میرا کوئی بیٹا نہیں، آج سے تم میرے بیٹے ہو، جو کہنا ہے کھل کر کہو۔“
لمبا عرصہ ہو گیا، میرے بچپن کی بات ہے، میں ایک علم کی بنیاد رکھنا چاہتا تھا۔

میرا ماننا تھا کہ ہم لوگوں کو چند کیٹیگریز میں تقسیم کر سکتے ہیں، جہاں نہ کہ ہم ان کی خصوصیات بتا سکتے ہیں بلکہ ہم ان کی زندگی میں آنے والے واقعات کی بھی پیشین گوئی کر سکتے ہیں۔

تب میرا یقین ایسے ہی تھا جیسے آپ کا ہے، جوں جوں میں بلوغت کے ادوار سے گزرتا گیا، مجھے احساس ہوا کہ ہم انسانوں کو کسی کیٹیگری میں تقسیم نہیں کر سکتے۔

انسان ان پریڈیکٹیبل ہے۔

چھوٹا قد، بڑا قد، موٹی ناک، لمبے پاؤں، ستاروں اور نمبروں کی بنیاد پر بھی کی گئی تقسیم ہرگز درست ثابت نہیں کی جا سکتی (حالانکہ یہ بات میرے گزشتہ ستاروں سے محبت کی نفی کرتی ہے لیکن یہ کہاں غلط اور کہاں درست ہے، اس کی وضاحت میں اپنی طویل کہانی میں کر چکا ہوں، جس کا لب لباب یوں ہے کہ انسان جب چاہے ان دائروں سے نکل کر روشن فضا میں اپنی مرضی سے سانس لے سکتا ہے، جبھی انہیں حقیقت سمجھ کر ان کی زیر اثر زندگی گزارنا حماقت ہے ) ۔

آپ بھی کبھی نہ کبھی سمجھ جائیں گے۔ ”

یہ میرا آخری جملہ انتہائی بچگانہ تھا، ایسی جسارت میں نے اس لیے کی کیوں کہ تب میرے علم میں ہرگز نہیں تھا کہ میرے سامنے شلوار قمیص اور ویسٹ کوٹ پہنے کھڑا ضدی انسان تین کالجز کی لائبریریاں ڈکار چکا ہے۔ یعنی کہ وہ اپنی ذہنی بلوغت کے تمام ادوار گزار کر جن عقائد کو استوار کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے اس کے پیچھے بہت سے محققین کی خاک شامل ہے۔

وہ سینکڑوں شریر لڑکوں اور نوجوان لڑکیوں کا استاد ہی نہیں رہا بلکہ انہیں پوری طرح سمجھنے کی اس قدر استعداد رکھتا تھا کہ جب ساہیوال کالج میں اسے شریر ترین کلاس دی گئی تو وہ نہ انہیں سدھارنے میں کامیاب رہا بلکہ ان سے بہترین تعلقات قائم کرنے میں سرخرو ہوا۔

اس کامرانی کے بعد پذیرائیوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا جس کا اختتام اس کی ملازمت کے بعد ہی ہوا۔

کالج کی محفلوں کا منتظم، اور ایسا ہوسٹ جسے سننے کو شریر لڑکے بھی بے تاب ہوں، اس کے ساتھ تصویر بنوانا اپنی سعادت سمجھنے لگیں، وہ بھلا میری تخیلاتی باتوں کو کیوں کر تسلیم کرنے والا تھا؟

اس کی اور میری انا کی جنگ جاری تھی کہ اس نے مجھے پکڑ کر گلے لگایا، میرا ماتھا چوما۔
”تم ایک پر اسرار لڑکے ہو۔ اب تم میرے بیٹے ہو، مجھ سے ملتے رہنا۔ ملو گے نہ؟“
”جی، ضرور۔“

میں اس بحث کے ایسے اختتام پر ہرگز مسرور نہیں تھا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ دلائل کے ساتھ اپنا مدعا پیش کرے اور میں اسے ہرانے کو پوری طرح تیار تھا۔

پھر ہماری ملاقاتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ مجھے احساس ہوا کہ اس پر فالج کے اس جھٹکے نے صرف اس کی زبان میں ہی لکنت پیدا کر دی ہے ورنہ اس کی یاداشت ایسی ہے کہ گزشتہ زندگی کے تمام تر واقعات اس قدر ازبر ہیں کہ ان پر کتاب ہی لکھ ڈالی۔

اور کتابوں سے انس ابھی تک اس قدر قائم ہے کہ اپنی بیٹھک میں ہی چھوٹی سی لائبریری بنا رکھی ہے، جہاں وہ اپنی حیات کا زیادہ تر حصہ گزارتا ہے۔

میں نے جلد ہی جان لیا کہ وہ اپنی زندگی سے اس قدر خوش نہیں جیسا کہ ہونا چاہیے، اور اس کا اپنے پرانے دور کے شدید تذکرے سے واضح تھا کہ وہ اسی پذیرائی کا اب بھی مشتاق ہے۔

لیکن عہدوں پر بیٹھے لوگ، پذیرائی میں موجود خوشامد کی بو کو سمجھ کر بھی انجان بنے رہتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ عہدہ اس کا نہیں، کرسی کا ہے، اس سے جڑی پذیرائی بھی کرسی کی ہوتی ہے۔

شومی قسمت کہ جس ہنر پر اسے عبور حاصل تھا فالج نے وہ بھی چھین لیا جس کا دکھ اس کی آنکھوں میں نقش ہے۔ وگرنہ یقیناً وہ آج بھی ہر محفل کی جان ہوتا۔

یوں تو اسے مخلص احباب کی کمی نہیں، مخلص دوستوں سے کبھی رابطہ ٹوٹا نہیں لیکن وہ جن خوشامدیوں کو لے کر غمگین ہے وہ لوگ اسے بہت اچھا تو اول دن سے نہیں سمجھتے۔

جس کی سب سے بڑی اور بلکہ واحد وجہ اس کا نظریاتی ہونا ٹھہرا۔

کم از کم اس دور میں، اور کم از کم اس علاقہ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے، پریکٹیکل کے پورے یا زیادہ سے زیادہ نمبر لگوانا ہر با اثر طالب علم اپنا سفارشی حق سمجھتا ہے۔

پروفیسر خالد منیر نے شاید ہی کوئی پریکٹیکل لینا چھوڑا ہو، اور شاید ہی کسی سفارشی کو صرف سفارش کی بنیاد پر پورے نمبر دیے ہوں۔

اس کا ماننا ہے کہ جس کا جس قدر حق ہے اسے اتنا ہی ملنا چاہیے ہاں البتہ سفارش پر وہ صرف اتنا کرتا تھا کہ کسی کو فیل نہیں کیا، لیکن ایسا نہیں کہ جو کام کر کے آیا ہو اس کے اور سفارشی نا اہل کو نمبر پورے دیے جائیں۔

یہ انصاف پسندی اس کے حصے میں بدنامی کا موجب بنی، جس کا یوں تو اسے کوئی ملال نہیں لیکن اس بات پر غمگین ضرور ہے کہ تقدیر اسے محفلوں سے نکال کر تقریباً چھ بائی آٹھ پیمائش کی ایک چھوٹی سی بیٹھک میں لے آئی۔

میں نے اسے سمجھانے کی بارہا کوشش کی کہ زندگی کے مختلف ادوار ہیں اور ہر دور کی ضرورتیں اور ذمہ داریاں الگ ہیں، اگر پہلے زندگی اس سے خارجی محفلیں سجانے کا کام لیتی رہی تو اب شاید وہ اس سے داخلی محفلیں سجانے کا کام لینا چاہتی ہو، اس کی کوشش کرو تو یہ خالی آنکھیں چمک اٹھیں گی۔

لیکن وہ کہتا کہ اب طبیعت ادھر مائل نہیں ہوتی۔

یوں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ رئیس امروہوی جیسے شاندار انسان کی تمام تر کتابیں پڑھ چکنے، بلکہ اس سے ملاقات کا بھی شرف رکھنے والا یہ کیونکر نہیں سمجھ پاتا کہ داخلی زندگی کی رونقیں خارجی سے کہیں زیادہ حسین ہیں؟

لیکن وہ زندگی کے اس حصہ میں ہے جہاں بدلاؤ کے لیے شدید گرم خون اور لوہے ایسے اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے، جو دل کے عارضہ اور شوگر کی وجہ سے اسے میسر نہیں۔

یوں تو وہ اپنی زندگی کے حقیقی بدلاؤ کے لیے کمزور اعصاب اور ٹھنڈے خون کا سہارا لے کر مکر جاتا ہے، لیکن وہ سرد جنگ کا سلسلہ جو اس نے پہلی ہی ملاقات میں شروع کیا تھا، وہ اسے پوری طرح نبھانے کے لیے اپنے خون کے آخری قطرہ تک لڑنے کو تیار ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments