گھڑی نامہ


گھڑی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ، اوقات، دیکھنے کے کام بھی آتی ہے۔ گھڑی بناؤ سنگھار اور جاہ و جلال کی علامت ہے۔ پہلے پہل گھڑیاں جیب میں رکھنے کا رواج تھا البتہ خواتین اپنی گوری کلائیوں پر گھڑی باندھا کرتی تھیں۔ پھر رسٹ واچ عام ہوئی تو مرد بھی رسٹ پر پہننے لگے۔ عرب دنیا کی گھڑیوں کا پاکستانیوں سے گہرا مذہبی و سیاسی ناتا رہا ہے۔ حجاج تسبیح، کھجور اور زم زم کے ہمراہ گھڑیوں کے تبرکات لاتے تھے جبکہ عرب کے دوروں پر جانے والے شہنشاہوں کو بھی اوقات سے کہیں زیادہ قیمتی گھڑیاں ملتی رہیں۔

73 کے آئین کے تناظر میں ہاروں اور گھڑیوں کے تحائف شروع میں منافع بخش جبکہ آخر میں باعث تذلیل ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری طرف کلام مجید میں قیامت کے لئے، ساعت، کی اصطلاح ہے جس کا مطلب بھی، گھڑی، ہی بنتا ہے۔ نون اللغات کے مطابق گھڑی کی کئی اقسام ہیں جن میں انمول گھڑی، چین کی گھڑی، مصیبت کی گھڑی، دھوپ گھڑی، پانی کی گھڑی، سکھ کی گھڑی اور سونے کی گھڑی شامل ہیں۔ گھڑی کی ایک ترقی یافتہ قسم ”وال کلاک“ ہے مگر اس کا مقدر دیوار سے لگائے جانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

دوسری طرف فرہنگ انصافیہ گھڑی کے لغوی و اصطلاحی مفہوم کی بابت خاموش ہے۔ گھڑی، گھڑے کی تصغیر بھی ہے اور اس سے گھڑولی کی رسم منسوب ہے جبکہ گھڑی کا مکبر ”گھڑیال“ ہے جو بڑے شہروں میں گھنٹہ گھروں میں نصب ہوتا ہے۔ لندن کا بگ بین اپنی مثال آپ ہے۔ قدیم گھڑیالیوں میں پنڈولم کسی مشاق رقاصہ کی طرح رقصاں رہتا اور لوگوں کے دل لبھایا کرتا تھا۔ گھڑیال کی ان حرکتوں کی کڑیاں کسی سیاسی جماعت سے ملانا ہرگز مناسب نہ ہو گا۔

مگر مچھ کی ایک قسم کو بھی گھڑیال کہتے ہیں جو اپنے شکار کو ہڑپتے وقت اشکبار ہوجاتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسے کسی کی جان لینے کا دکھ ہوتا ہے بلکہ یہ اس کے کھانے کے عمل کا فطری حصہ ہے۔ اسی بنیاد پر مگر مچھ کے آنسوؤں والا محاورہ ایجاد ہوا اور اس بات کو بھی کسی سیاسی جماعت کے مماثل قرار دینا ماوراء اخلاق ہو گا۔ گھڑی اور گھڑیال کی نسبت سے بجنے والی گھنٹیوں کی آوازیں قابل ذکر ہیں جو دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔

اداروں میں وقت کے تعین کے لئے گھنٹی بجائی جاتی ہے جسے قافلوں میں جرس بھی کہا جاتا تھا۔ عرف عام میں اسے ”ٹلی“ بھی کہہ لیتے ہیں مگر اس کو کسی سیاسی قائد کے نام کے ساتھ جوڑنا بد اخلاقی تصور ہو گا۔ یار لوگوں کا خیال تھا کہ سیل فون نے گھڑی کی اہمیت کو چلتا کر دیا ہے لیکن لمحات موجودہ وطن عزیز میں گھڑی کی۔ ”ساعت“ سے کم نہیں ہیں۔ کوئی ”میری گھڑی میری مرضی“ پر بضد ہے تو کچھ ”گھڑی فروختند چہ ارزاں فروختند“ جیسے فتنہ پرور جملے کسنے میں لگے ہیں۔

تاہم ”پہنچی وہیں پہ واچ جہاں کا خمیر تھا“ والی رائے میں قدرے قبولیت کا عنصر موجود ہے۔ سنا ہے کہ متاثرین توشہ خانہ جات، ملک کے ایک عربدہ جو چینل، اک دیوث فراڈیے اور ایک دروغ گو صحافی کو ”بس بہت ہو گیا“ کہہ کر قانونی چارہ گوئی شروع کر دی ہے۔ متاثرہ ملزمان کی ایک ٹیم گھڑی کے موجد کی تلاش کے لئے ”کینیا“ کے حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کشمیر کی پوری ریاست کو ہری سنگھ نے صرف پچھتر ہزار نانک شاہی میں فروخت کر دیا تھا۔

ہم تو محض ایک معمولی سی گھڑی کے عوض اک خطیر رقم ملک میں لائے ہیں۔ ماننا ہو گا کہ خوشامدی لوگ ٹوپیاں بیچ کر گزارا کرنے والے اورنگ زیب کے تو قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے مگر آج گھڑیاں بیچ کر ”ڈنگ ٹپانے“ والے ایک شدید صادق و امین پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ یادش بخیر، ہمارے بچپن میں اسی طرح کے لوگ پلاسٹک کی ڈیجیٹل گھڑیاں بیس سے پینتیس روپوں میں بھی دے جایا کرتے تھے۔ خیر جو بھی ہو مقتدر حلقوں میں ان نفع بخش کارناموں کے اعتراف کے طور پر مشہور تفریحی مقام ”شکر پڑیاں“ کا نام بدل کر شکر گھڑیاں رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

Facebook Comments HS