فلسفہ اور فرانسیسی فلسفی ہنری برگساں


فلسفہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یا یوں کہیں کہ اس گتھی کو بہت سارے محققین، ناقدین اور خود فلسفیوں نے بھی سلجھانے کی کوشش کی ہے مگر یہ گتھی جتنی سلجھتی ہے انسان کو اس سے زیادہ الجھنوں اور نت نئی سوچوں میں مبتلا کر جاتی ہے، کیوں کہ فلسفے کی بنیاد عقل اور منطق پر ہے اس لیے یہ کبھی بھی انسان کو مطمئن نہیں کر پاتا اور انسان تجسس کی مثال بن کر جستجو کے سفر میں ہمہ تن گوش رہتا ہے۔ فلسفہ عقلی اور منطقی سفر کرتے ہوئے اس کائنات کی بڑی بڑی گتھیوں بڑے بڑے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جیسے کہ انسانی وجود کی حقیقت کیا ہے؟

انسان کی حقیقت کیا ہے کیا یہ ایک حیوان ہے یا کچھ مختلف ہے اور اگر مختلف بھی ہے تو کس اعتبار سے ہے؟ خیر کی کیا حقیقت ہے شر کیا ہے؟ زندگی اور اس کی حقیقت کیا ہے زندگی کے معنی کیا ہیں؟ کیا زندگی صرف اس دنیا کی ہی ہے یا اس کے بعد بھی کوئی زندگی ہے۔ فلسفہ خالص منطق اور خالص عقلیت کی بنیاد پر چلتا ہے فلسفہ کسی بھی شے پر کوئی بھی یقین کی کیفیت پیدا نہیں کرتا۔

ڈاکٹر ظہور بابر فلسفے کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”فلسفہ مشکل ہے اور اس کو آسان بنا کر پیش کرنا اور بھی مشکل ہے۔ اصل مشکل یہ ہے کہ عام فہم سوچ نفسیاتی بیانیے کی عادی ہے اور اسے فلسفہ میں بھی کسی ایسے محرک یا تحریک کی تلاش ہے جو متاثر کر سکے اور پھر اسے اپنے رویے میں بھی اپنا سکے حالانکہ یہ بنیادی غلطی ہے۔ فلسفہ کوئی تاثر انگریز نفسیاتی ٹوٹکہ نہیں جو زندگی آسان کر ڈالے، فلسفہ انسان کی وہ سوچ ہے جو خالصتاً عقل انسانی کی تسکین کے لیے ایسے مباحث اٹھاتی ہے جن پر اختلاف رائے بھی ممکن ہو سکے اور اس طرح یہ سوچ بھی اپنی درستی کرتی رہے ناکہ کوئی لکیر کھینچ ڈالے کہ ہم نے سب کچھ جان لیا اور اب مزید سوچنے کی ضرورت ہی نہیں۔

“ اشفاق سلیم مرزا اپنی کتاب ”فلسفہ کیا ہے، ایک نئی مادی تعبیر“ میں فلسفے کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”اس مادی دنیا کے حوالے سے حسی ادارکات پر مبنی کائناتی، سماجی اور معاشی حقیقت یا حقیقتوں یا ان کے تغیر و تبدل تضادات کو فعالیت (praxis) کے دوران عقلی طریقے سے دریافت کرنے اور انہیں انسانی سماج کے لیے بروئے کار لانے کا نام ہے۔“ فلسفہ زمین اور باقی کائنات کے مابین ربط کے حوالے سے حقیقتوں کو تلاش کرنے کی انسانی ذہنی کاوش کا نام ہے۔ ڈاکٹر میر ولی الدین صاحب اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے ”فلسفہ کیا ہے“ میں لکھتے ہیں۔ ”فلسفہ زندگی کے معنی اور قیمتوں کا مطالعہ ہے یہ حیات کی تعبیر و توجیہہ ہے۔ فلسفہ اس دنیا کو سمجھنے کا نام ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔“

فلسفہ یونیورسل ٹروتھس کو زیر بحث لاتا ہے۔ یہ سچائی کو تلاش کرنے کا ایک ذریعہ ہے ایک ایسا علم ہے جو فطرت کے اصولوں اور ان کی وجوہات کا تجزیہ کرتا ہے۔ زندگی کی سچائیوں کو ایک خصوصی سمت عطا کرتا ہے۔ الغرض فلسفہ تمام علوم کی ماں ہے تمام علوم کا منبع اور ماخذ ہے اور ان کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ جس طرح دنیا میں موجود دیگر علوم کے ماہرین ہوتے ہیں اسی طرح فلسفے کے بھی ماہرین ہیں جن کو فلسفی کہا جاتا ہے۔ فلسفی فکر کی ایک داخلی ہم آہنگی پیش کرتے ہیں یہ زندگی کے بنیادی مقصد پر متفق نظر آتے ہیں۔ فلسفی انسانی نسل کے اشتراک کے ذریعے انسان کی مسرتوں کو یقینی بناتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے نامور مسلم اور نان مسلم فلسفی گزرے ہیں، اور انہیں نامور فلسفیوں میں ہنری برگساں کا نام بھی شامل ہے۔

فرانسیسی فلسفی ہنری برگساں کی ذہنی زندگی ایک ارتقا ء سے عبارت تھی۔ اس نے طبعی علوم میں مضبوط بنیادوں کے ساتھ آغاز کیا تھا۔ ریاضی میں اس کو خاص بصیرت حاصل تھی۔ لیکن وہ ایک فن کار بھی تھا۔ فطرت نے اس کو دہرے رجحان سے نوازا تھا، اس کا تخیل بے قابو تھا روح شاعرانہ تھی اور ذہن سائنس دان جیسا تھا جب ان دو متضاد رویوں میں کشمکش پیدا ہوئی تو نتیجہ یہ نکلا کہ شاعر نے سائنس دان کو زیر کر لیا۔ ہنری برگساں 1859 کو پیرس میں پیدا ہوا۔ ہنری برگساں کی تین شاہکار کتب نے اس کو عالمی شہرت عطا کی۔ اس کی کتاب ”تخلیقی ارتقا“ لکھنے پر اس کو ادب کا نوبل انعام ملا۔

Time and free Will (1888)
Matter and Memory (1896)
Creative Evolution (1907)

ہنری برگساں مادہ پرستی سے تصور پرستی کی طرف سفر کرتا ہے۔ برگساں کا فلسفہ بنیادی طور پر ارتقا کا فلسفہ ہے، زمان و مکان اور اس میں حرکت اس کا بنیادی تصور ہے۔ برگساں کا کہنا ہے کہ انسانی عقل ہر شے کا تصور مکان کے حوالے سے کرتی ہے۔ جیومیٹری کو دیکھئے وہ کائناتی مظاہر کی سب سے زیادہ تجریدی صفات کو بھی مکانی نقاط میں بدل دیتی ہے۔ طبعیات کا مطالعہ دیکھئے وہ غروب آفتاب کی رنگا رنگی کو مکان میں سے گزرنے والی روشنی کی شعاعوں میں بدل دیتی ہے۔

برگساں کے مطابق ہمارا سب سے زیادہ بنیادی متحرک تجربہ حرکت کا ہے اس کے باوجود سائنس کی دنیا میں ہم حرکت کو دوسری تمام چیزوں کی طرح، مکان میں پھیلے ہوئے ساکن نقاط کے سلسلے کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ برگساں کے مطابق تخلیقی عقل کے اس داخلی شعور کی ارتقائی نمو ہی زندگی ہے یہ وہ برقی رو ہے جو ہم سب میں جان ڈالتی ہے اور متحرک کر دیتی ہے، برگساں اس کو ”جوش حیات“ کہتا ہے۔ یہ جوش حیات یا زندگی کا یہ شعلہ، داخلی شعور لا فانی ہے۔

برگساں کہتا ہے مادہ عالم کا ایک مستقل جوہر ہے۔ کائنات میں موجود مادہ بتدریج انہدام کا شکار ہو رہا ہے، بھاری ایٹم ٹوٹ کر ہلکے ایٹموں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ کائنات کی توانائی مرکز سے باہر کی جانب پھیلتی جا رہی ہے اور ایک وقت آئے گا کہ یہ کائنات بے نور ہو جائے گی۔ ڈاکٹر نعیم ”برگساں مضمون مشمولہ، دائرہ معارف اقبال“ میں لکھتے ہیں۔ ”برگساں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ مادہ دراصل ایک حرکت ہے جو بتدریج کم اور خفیف ہوتی جا رہی ہے، چنانچہ وہ مادہ کو حرکت نزولی (Downward Motio) کا نام دیتا ہے۔“ وہ مزید اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ برگساں کے وقت میں طبیعاتی تحقیقات کی رو سے مادے کی تحویل حرکت، یا مختلف رفتاروں (velocities) میں ہو سکتی تھی۔ اس لیے برگساں نے مادے کو اپنی اصل حیثیت میں (Motion) قرار دیا۔

وہ دعوی کرتا ہے کہ ہم نے حیاتی سچائی کو بیان کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان وقت میں زندہ نہیں رہتا بلکہ وقت انسان میں زندہ رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت یا زمان محض ابدی ہی نہیں بلکہ داخلی بھی ہے۔ اور انسان کی تخلیقی عقل میں زندہ رہتا ہے۔ برگساں کہتا ہے کہ ہمارے حقیقی وقت کی لازمی کیفیت یہ ہے کہ اس کا رخ نہیں بدلا جا سکتا۔ وہ صرف آگے کی طرف بڑھتا ہے ہم اس کو کسی طور پیچھے کی طرف نہیں لے جا سکتے۔

نمو ترقی ہے تکرار نہیں ہے۔ ماضی کا ہر تجربہ مکمل طور پر بے مثال تجربہ ہے یعنی جو کچھ ہو چکا ہے وہ اب نہیں بدل سکتا۔ کیا کوئی شخص دوبارہ بچہ بن سکتا ہے یا کوئی بوڑھا دوبارہ جوان ہو سکتا ہے۔ تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل سراسر ماضی کا طے شدہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہر موجود لمحہ منفرد ہے اور مستقبل کا بھی ہر لمحہ منفرد ہے اس لیے نمو غیر لچک پذیر قوانین کی پابند نہیں ہے۔

ڈاکٹر نعیم احمد اپنی کتاب ”برگساں کا فلسفہ“ میں لکھتے ہیں۔ ”برگساں دو قسم کے معاشروں کا ذکر کرتا ہے۔ ایک تنگ نظر ( Closed Society) اور دوسرے آزاد معاشرہ (Open Society) تنگ نظر معاشرے ایسے مذاہب کے پیدا کردہ ہوتے ہیں جو کہ لگے بندھے ضابطوں، رسوم و رواج اور میکانکی عبادت پر مشتمل ہوں۔ ایسے معاشرے نہ تو افکار تازہ کو پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے نظام زندگی میں کسی قسم کی تبدیلی کو برداشت کرتے ہیں۔ ان میں ہٹ دھرمی، تعصب اور راسخ الاعتقادگی اس حد تک جڑیں پکڑ چکی ہوتی ہے کہ شجر تخلیق کی نشو و نما ہی نا ممکن ہو جاتی ہے۔

ایسے معاشرے اپنی بقا کے لیے اور اپنی عصبیت کا ڈھانچہ قائم رکھنے کے لیے دوسرے تنگ نظر معاشروں سے برسرپیکار رہتے ہیں۔ چنانچہ جنگیں اور بدامنی ایسے معاشروں کا مابہ الامتیاز ہے۔ اس نہ صرف ایسے تنگ نظر معاشروں پر سخت تنقید کی جو مذہبی اور اخلاقی راسخ العقیدگی کی پیداوار ہیں، بلکہ ایسے معاشروں کو بھی اس نے تنگ نظر قرار دیا جو سائنسی ترقی کی وجہ سے میکانکی اور مشینی بی حسی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس کے برعکس ایک آزاد معاشرہ وہ ہے جہاں مذہبی و اخلاقی جبر اور میکانکی تکرار کم سے کم ہو برگساں امید کرتا ہے کہ آنے والے وقت میں ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا اور یہ محدود ہونے کی بجائے پوری انسانیت کو اپنی آغوش میں سمیٹ لینے کی اہلیت رکھتا ہو گا۔

علامہ اقبال برگساں کے فلسفے سے بہت متاثر ہوئے۔ اقبال کو ہنری برگساں کے تعمیری نوعیت کے فلسفے سے مشرقی مہک محسوس ہوتی تھی یہ ہی وجہ ہے کہ اقبال کے نظریہ زمان و مکاں پر برگساں کے فلسفے کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ برگساں نے بطور فلسفی اپنی زندگی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔ ہنری برگساں نے 1941 کو وفات پائی۔ الغرض فلسفے نے اپنے معانی و مطالب میں پیش بہا وسعت کی خاطر ہنری برگساں جیسے بلند تخیل کے بے شمار فلسفی پیدا کیے جنہوں نے عام انسان کے سامنے تہذیب و تمدن، سماج معاشرے کو ایک منطق کے ساتھ بیان کیا اور سوچ کے نت نئے در وا کیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments